Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

 تبوک: عہد رفتہ کے نقوش سے مالا مال علاقہ

چٹان پر بنی گھوڑے کی تصویر دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے(فوٹو، العربیہ)
آثار قدیمہ کی فوٹو گرافی کے ماہر ’عبدالالہ الفارس‘ نے تبوک کے علاقے میں چٹانوں پر گھوڑوں کی تصاویر اور مختلف ادوار میں چٹانوں پر ان کے نقوش کا ریکارڈ محفوظ کیا ہے۔
’العربیہ نیٹ‘ کے مطابق الفارس نے جو تاریخی مقامات میں خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں  تبوک ریجن کے ماتحت ضواحہ تیمہ کی تاریخ  سے لوگوں کو روشناس کرانے کے لیے چٹانوں کے نقوش اور گھوڑوں کی شکلیں اپنے کیمرے کے ذریعے محفوظ کر لیں۔  
الفارس کا کہنا ہے کہ چٹانوں کے یہ نقوش منفرد شکلیں اور قصے اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں۔ انہیں دیکھ کر قدیم انسان کی تاریخ ، رہن سہن کے انداز اور  آس پاس کے ماحول سے ہم آہنگی اور اس دور کے انسانوں کے ثقافتی معیار کا پتہ لگایا جا سکتا ہے۔  

تیما کی چٹانوں میں نمایاں ترین ’نقش ملک بابل‘ ہے (فوٹو،العربیہ)

الفارس نے بتایا کہ تیما کی چٹانوں میں نمایاں ترین نقش ملک بابل ہے۔ یہ وادی روافہ کے قریب تبوک شہر کے جنوب مغرب میں سرمدہ پہاڑوں کے قریب واقع ہیں۔
اس چٹان پر گھوڑے، اسکی کاٹھی اور ایک خاتون کی  تصویر بنی ہے جو دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔  
الفارس نے بتایا کہ عربی النسل گھوڑے دنیا کے مہنگے ترین اور عظیم گھوڑوں شمار ہوتے ہیں۔
اصلی عرب گھوڑے ماضی میں بھی بے حد مقبول تھے اور آج بھی ہیں۔ زمانہ قدیم کے لوگ اور فنکار پہاڑوں کی چٹانوں پر بڑے لگن سے گھوڑوں کی شکلیں بنایا کرتے تھے۔ گھوڑے کا منفرد چہرہ اور اس کی اٹھی ہوئی پونچھ چٹانوں پر منعقش تصاویر میں بڑی نمایاں ہیں۔ چٹانوں پر اس قسم کے نقوش سے تبوک کا علاقہ مالا مال ہے۔  

شیئر: