پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کا کہنا ہے کہ بیرون ملک بالخصوص بعض خلیجی ممالک سے پاکستان کا سفر کرنے والے مسافروں کے پاس منفی کورونا پی سی آر رپورٹ ہونے کے باوجود بڑی تعداد کے ریپیڈ انٹیجن ٹیسٹ مثبت آئے ہیں۔ تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ مسافر جعلی پی سی آر ٹیسٹ پر سفر کر رہے تھے۔
اردو نیوز کو دستیاب سول ایوی ایشن کی جانب سے مختلف ایئر لائنز کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ ایس او پیز کے تحت مسافروں کے پاس منفی پی سی آر ٹیسٹ تو ہوتے ہیں لیکن ریپڈ انٹیجن ٹیسٹ مثبت آتے ہیں۔
تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ ان مسافروں نے جعلی پی سی آر ٹیسٹ پر سفر کیا۔ ایسا کرکے انھوں نے نہ صرف اپنے ساتھ سفر کرنے والے مسافروں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالا بلکہ وبا پر قابو پانے کی قومی کوششوں کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔
مزید پڑھیں
-
کورونا : مشرق وسطی میں فضائی کمپنیوں کو سو ملین ڈالر کا خسارہNode ID: 462601
-
امارات کی پاکستان سمیت چار ممالک کے مسافروں پر پابندیNode ID: 564921
-
کویت: پاکستان سمیت چار ملکوں سے آنے والی پروازوں پر پابندیNode ID: 565006
سول ایوی ایشن اتھارٹی نے کہا ہے کہ کورونا وائرس سے بچاؤ اور اس حوالے سے ہونے والی قومی کوششوں پر عمل درآمد تمام متعلقہ سٹیک ہولڈرز کی مشترکہ ذمہ داری ہے جن میں ایئر لائنز بھی شامل ہیں۔
اس وجہ سے مجاز اتھارٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ اب پاکستان سے یا پاکستان کے لیے پروازیں چلانے والی تمام فضائی کمپنیاں یقینی بنائیں گی کہ مسافروں کے پاس حکومتوں کی جانب سے منظور شدہ لیبارٹریز کی کورونا منفی ٹیسٹ رپورٹس ہوں۔
تمام ٹیسٹ رپورٹس پر کیو آرکوڈ موجود ہو جسے سکیں کرکے پتہ لگایا جا سکے کہ رپورٹ منفی اور متعلقہ مسافر کے نام سے ہی یے۔ کورونا ٹیسٹ رپورٹ کی فوٹو کاپی تسلیم نہیں کی جائے گی۔ ’پاس ٹریک‘ ایپ پر رجسٹرڈ نہ ہونے والے مسافروں کو پاکستان کے لیے سفر کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
سول ایوی ایشن اتھارٹی نے تمام ایئر لائنز کو ہدایت کی ہے کہ وہ ان ایس او پیز پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں بصورت دیگر اتھارٹی خلاف ورزی کرنے والی ایئر لائنز کے خلاف جرمانے کر سکتی ہے جو صرف مالی جرمانوں تک محدود نہیں ہوں گے بلکہ پروازوں کی معطلی بھی کی جا سکتی ہے۔
سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے لکھے گئے خط کے بعد پی آئی اے نے بھی متعلقہ اداروں، سفارت خانوں اور حکام کو صورت حال سے آگاہ کر دیا ہے۔

کنٹری مینجر پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن عمان محمد عارف کی جانب سے پاکستان سفارت خانے اور دیگر اداروں کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے اب عمان سے پاکستان آنے والے مسافروں کو اس وقت تک بورڈنگ پاس جاری نہیں کیا جائے گا جب تک ان کے ٹیسٹ پر عمانی وزارت صحت کی مہر نہیں لگی ہوگی۔
اردو نیوز کو دستیاب خط میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی حکام کے مشاہدے میں آیا ہے کہ گزشتہ چند دنوں میں عمان سے پاکستان پہنچنے والے بیشتر مسافروں ریپڈ انٹیجن ٹیسٹ مثبت آ رہے ہیں۔
این سی او سی اور وزارت صحت کے حکام نے اس صورت حال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور ایئر لائن کے مثبت کیسز کا ریکارڈ مرتب کیا جا رہا ہے۔
خط میں لکھا گیا ہے کہ پاکستانی حکام اب سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ذریعے پروازوں کی معطلی، جرمانے یا دونوں صورتوں میں سزائیں دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کورونا پی سی آر ٹیسٹ رپورٹ منفی ہونے کے باوجود ان کے ریپڈ انٹیجن ٹیسٹ مثبت آئے ہیں۔ جس کی ایک ممکنہ وجہ جعلی منفی ٹیسٹ رپورٹ ہے۔
