Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اسلام آباد کے جلسے میں وزیرِاعظم کا بڑا سرپرائز کیا تھا؟

تقریباً تین ہفتے قبل جب وزیراعظم  عمران خان کے اسلام آباد جلسے کا اعلان کیا گیا تھا تو اسے اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کے خلاف حکومتی حکمت عملی کا اہم ستون قرار دیا گیا۔ پھر  جلسے کی تاریخ قریب آنے پر وزیراعظم اور ان کی ٹیم کی طرف سے کہا گیا کہ اس جلسے میں ایک بڑا سرپرائز دیا جائے گا۔
عوامی حلقوں اور میڈیا پر ہر طرف چہ مگوئیاں شروع ہو گئیں کہ وزیراعظم آخر کس کو اور کیا سرپرائز دینے لگے ہیں۔ اتوار کو ملک بھر سے آئے پی ٹی آئی کے کارکن بھی گرم موسم میں شاید  ’سرپرائز‘  ہی کی امید لیےاسلام آباد کے پریڈ گروانڈ میں پہنچے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ آج کے جلسے میں پی ٹی آئی کا روایتی رنگ نظر آیا اور عمران خان کے روایتی حامی پرجوش انداز میں شریک ہوئے۔
 جلسہ گاہ میں موجود صحافی بھی بہت پرامید تھے کہ آج ایک بڑا سرپرائز اور بڑی خبر ملنے والی ہے۔ تاہم جب عمران خان کی پونے دو گھنٹوں پر مشتمل طویل تقریر ختم ہوئی تو ہر کوئی ایک دوسرے سے پوچھ رہا تھا کہ ان کی کس بات کو ’سرپرائز‘ سمجھا جائے۔
کچھ کا خیال تھا کہ جو انہوں نے کسی بیرونی طاقت کی جانب سے دھمکی آمیز خط کا ذکر کیا ہے وہ سرپرائز تھا تاہم اس کی انہوں نے کوئی تفصیل نہیں بتائی اور صرف جیب سے ایک کاغذ نکال کر واپس رکھ دیا۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ انہیں بیرونی طاقت کی جانب سے لکھ کر دھمکی دی گئی تاہم وہ ملکی مفاد میں اس کی تفصیلات نہیں بتائیں گے۔
وزیراعظم نے اپنی تقریر کے پہلے ایک گھنٹے میں اسلامی فلاحی ریاست کے حوالے سے اپنے نظریے اور اپنی ساڑھے تین سالہ کارکردگی کا ذکر کیا، پھر اپنے مخالفین پر روایتی انداز میں تنقید کے نشتر برسائے۔
اس کے بعد سابق وزیراعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کی خودداری کا ذکر کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’بھٹو نے جب ملک کو آزاد فارن پالیسی دینے کی کوشش کی تو فضل الرحمان اور نواز شریف کی اس وقت کی پارٹیوں نے بھٹو کے خلاف تحریک چلائی اور آج جیسے حالات ملک میں بنا دیے گئے اور ان حالات کی وجہ سے ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی گئی۔‘
وزیراعظم عمران خان نے حیرت کا اظہار کیا کہ بلاول بھٹو اور نوازشریف کو کیسے اکٹھے ہو گئے۔

تقریر میں عمران خان نے اپوزیشن جماعتوں کے ارکان سے انفرادی طور پر تحریک عدم اعتماد میں حمایت بھی مانگ لی۔ (فوٹو: عمران خان فیس بک)

’قاتل اور مقتول کو اکٹھے کرنے والوں کا بھی ہمیں پتہ ہے۔ لیکن آج بھٹو والا ٹائم نہیں۔ وقت بدل چکا ہے۔‘ اب یہ نئی بحث چھڑ گئی ہے کہ اس فقرے کا مخاطب کون ہے؟
کیا وہ اسٹیبلشمنٹ کو اپوزیشن اتحاد کا ذمہ دار سمجھتے ہیں؟  بھٹو کو پھانسی تو فوجی حکمران ضیا الحق نے دی تھی کیا وہ اسٹیبلشمنٹ کو بتا رہے ہیں کہ سوشل میڈیا کے دور میں اب بھٹو کی طرح ایک وزیراعظم کو ٹارگٹ کرنا آسان نہ ہو گا؟
کیا یہ سرپرائز تھا یا وہ خط سرپرائز تھا جس کا انہوں نے ذکر کیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جس کو اس خط کے حوالے سے شک ہے وہ ان سے مل لے وہ آف دی ریکارڈ اس کی تفصیلات دکھا دیں گے۔
وزیراعظم عمران خان نے زور دے کر کہا کہ ان کی خلاف سازش بیرون ملک سے کی جا رہی ہے۔  ’ہمیں مہینوں سے معلوم ہے کہ حکومت کے خلاف سازش ہو رہی ہے۔‘
انہوں نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو مختلف القابات سے نوازتے ہوئے اشارتا کہا کہ ہمیں معلوم ہے کہ وہ لندن میں کس سے مل رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے اس کی بھی تفصیلات نہیں بتائیں۔
حیرت انگیز طور پر تحریک عدم اعتماد میں کامیابی کے حوالے سے وزیراعظم نے اپنی تقریر میں کوئی دعویٰ نہیں کیا۔ انہوں نے صرف منحرف ارکان کو خبردار کیا کہ وہ تحریک عدم اعتماد میں ان کے خلاف ووٹ نہ دیں ورنہ ان کو عوام معاف نہیں کریں گے۔
ساتھ ہی انہوں نے اپوزیشن جماعتوں کے ارکان سے انفرادی طور پر تحریک عدم اعتماد میں حمایت بھی مانگ لی۔

تقریر میں عمران خان نے اپوزیشن جماعتوں کے ارکان سے انفرادی طور پر تحریک عدم اعتماد میں حمایت بھی مانگ لی۔ (فوٹو: عمران خان فیس بک)

وزیراعظم عمران خان کی طویل تقریر تو بلآخر ختم ہو گئی مگر سرپرائز کے حوالے سے بحث مزید شدت پکڑ گئی ہے۔ عمران خان کے خطاب نے جوابات سے زیادہ سوالات چھوڑے ہیں۔
اب آنے والے دنوں میں ملکی سیاست میں یہ سوالات زیر بحث رہیں گے کہ آخر خط کس نے لکھا تھا؟ خط میں آخر ایسا کیا لکھا تھا؟ وزیراعظم نے خط کے مندرجات ملکی مفاد میں چھپانے تھے تو اس کا ذکر کیوں ’سرپرائز‘ والی تقریر میں رکھا؟ 
مقامی میڈیا نے پہلے ہی اس حوالے سے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی سے سوالات پوچھنا شروع کر دئے ہیں۔ ایک مقامی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ ’میرا نہیں خیال کہ یہ خط کسی کو آف دی ریکارڈ بھی دکھایا جا سکتا ہے۔‘  تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ خط فوجی قیادت سے بھی شئیر کیا گیا ہے۔

شیئر: