مہنگائی سے پاکستان میں عدم استحکام پیدا ہوسکتا ہے: آئی ایم ایف
مہنگائی سے پاکستان میں عدم استحکام پیدا ہوسکتا ہے: آئی ایم ایف
جمعہ 2 ستمبر 2022 19:40
آئی ایم ایف کے مطابق ’مہنگائی کے باعث پاکستان میں مظاہرے ہو سکتے ہیں‘ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں خوراک اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔
آئی ایم ایف نے پاکستان سے متعلق اپنی تازہ جائزہ رپورٹ میں کہا ہے کہ ’خوراک اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے عوامی سطح پر مظاہرے ہو سکتے ہیں اور ملک عدم استحکام کی طرف جا سکتا ہے۔‘
خیال رہے کہ بدھ کو آئی ایم ایف سے ایک ارب 16 کروڑ ڈالر کی قسط پاکستان کے مرکزی بینک کو موصول ہوگئی تھی۔
آئی ایم ایف کے بورڈ کی جانب سے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی (ای ایف ایف) کے تحت ساتواں اور آٹھواں جائزہ مکمل ہونے کے بعد پاکستان کو قسط جاری کی گئی۔
جون 2022 میں پاکستانی حکام اور آئی ایم ایف سٹاف مشن کے درمیان رواں مالی سال کے بجٹ سے متعلق مفاہمت ہوئی تھی جس میں حکام نے 436 ارب روپے کے ٹیکس اور پیٹرولیم لیوی کو بتدریج 50 روپے فی لیٹر تک لے جانے کی یقین دہانی کرائی تھی۔
حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں گذشتہ 47 برسوں کے مقابلے میں مہنگائی 27.3 فیصد کی بلند ترین سطح پر ہے۔ بدترین سیلابوں کے باعث خوراک کی قیمتوں میں مزید اضافہ متوقع ہے۔
رپورٹ میں اس بات کا خدشے بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ پاکستان میں پیچیدہ اندرونی حالات اور بیرونی ماحول کے پیش نظر آئی ایم ایف کے پروگرام پر مکمل عمل درآمد شاید نہ ہوسکے۔
’پاکستان میں پیچیدہ اندرونی حالات اور بیرونی ماحول کے پیش نظر آئی ایم ایف پروگرام پر مکمل عمل درآمد شاید نہ ہوسکے‘ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
آئی ایم ایف کے مطابق ’یوکرین کی جنگ کے باعث خوراک و ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور عالمی سطح پر مالی مشکلات کا بھی پاکستان کی معیشت پر بوجھ برقرار رہے گا، شرح تبادلہ پر دباؤ پڑے گا اور بیرونی استحکام بھی متاثر ہوگا۔‘
’پاکستان کی جانب سے پالیسی میں تبدیلی کا بہت زیادہ خدشہ ہے جیسا کہ مالی سال 2022 میں بھی دیکھا گیا، یہ خدشے کو کمزور صلاحیت، طاقت ور ذاتی مفاد، اتخابات کے انعقاد کی غیر یقینی تاریخ اور پیچیدہ سیاسی ماحول سے مزید تقویت ملتی ہے۔‘
آئی ایم ایف کے مطابق ’مظاہروں کے خطرے کے علاوہ، سماجی و سیاسی سطح پر دباؤ زیادہ رہنے کا بھی امکان ہے، بالخصوص کمزور سیاسی اتحاد اور پارلیمان میں معمولی اکثریت سے پالیسی اور اصلاحات کے نفاذ کا عمل متاثر ہو سکتا ہے۔’
’اس سب کے باعث پالیسی سے متعلق فیصلے متاثر ہو سکتے ہیں اور (آئی ایم ایف) پروگرام کی مالیاتی ایڈجسٹ منٹ کی حکمت عملی کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔‘
رپورٹ کے مطابق ’سٹرکچرل اصلاحات میں تاخیر سے مالیاتی شعبے کے مستحکم ہونے میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے اور مالیاتی پالیسی زیادہ مؤثر نہیں ثابت ہو سکے گی، ماحولیاتی تبدیلی کا خطرہ بڑھ رہا ہے جس سے مزید قدرتی آفات بھی آسکتی ہیں۔‘
پاکستان تحریک انصاف کی گذشتہ حکومت کا ذکر کرتے ہوئے آئی ایم ایف نے کہا کہ وعدہ خلافی کرتے ہوئے ’پی ٹی آئی نے فروری میں چار ماہ کا ریلیف پیکج عوام کو دیا۔‘
رپورٹ کے مطابق ’ان اقدامات کے باعث مالیاتی سال 2022 کی تیسری اور چوتھائی سہ ماہی میں مالیاتی خسارہ زیادہ ہوگیا اور جون کے آخر تک مالیاتی ہدف پورا نہیں کیا جا سکا۔‘