روس نے حملے میں ایرانی ڈرونز اور میزائل استعمال کیے: یوکرینی وزیراعظم
روس نے حملے میں ایرانی ڈرونز اور میزائل استعمال کیے: یوکرینی وزیراعظم
پیر 10 اکتوبر 2022 16:16
ولادیمیر زیلنسکی نے الزام لگایا کہ ’روس نے حملوں کے دوران یوکرین کے توانائی کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا‘ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
یوکرین کے وزیراعظم ولادیمیر زیلنسکی نے الزام عائد کیا ہے کہ ’پیر کو ان کے ملک پر روس کے حملے میں ایران کے تیارکردہ ڈرونز اور میزائل استعمال کیے گئے۔‘
امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق ولادیمیر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ ’روس نے شدید بمباری کے ذریعے یوکرین کے متعدد شہریوں میں توانائی کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا ہے۔‘
فیس بک پر پوسٹ کیے گئے اپنے ویڈیو پیغام میں یوکرین کے وزیراعظم کا کہنا ہے کہ ’یہ صبح مشکل تھی، ہم دہشت گردوں سے لڑ رہے ہیں۔‘
’روس نے ایران کے درجنوں ’شاہدز‘ ڈرونز کے ذریعے اہداف کو نشانہ بنایا۔‘
انہوں نے الزام لگایا کہ روس نے حملوں کے دوران یوکرین کے توانائی کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا تاکہ عوام میں خوف و ہراس پھیلایا جائے۔‘
’وہ ہمارے توانائی کے نظام کو تباہ کرنا چاہتے ہیں، وہ ناقابل اصلاح ہیں۔‘
روس نے پیر کی صبح یوکرین کے کئی شہروں پر متعدد حملے کیے تھے جن میں عام شہری بھی مارے گئے، ان حملوں کو پل کی تباہی کا بدلہ قرار دیا گیا۔
روس کو کرائمیا سے ملانے والے پل پر سنیچر کو دھماکے ہوئے تھے اور آئل ٹینکرز کو آگ لگ تھی۔
اتوار کو روسی صدر ولادیمیر پوتن نے واقعے کو ’دہشت گردی‘ قرار دیتے ہوئے یوکرین کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا اور بدلہ لینے کا اعلان کیا تھا۔
صدر ولادیمیر پوتن کے ویڈیو بیان کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا تھا کہ ’اس میں کوئی شک نہیں، یہ ایک دہشت گردی کی کارروائی تھی جس کا مقصد عام لوگوں کی سہولت کے لیے بنے انفراسٹرکچر کو تباہ کرنا تھا۔‘
روس نے پیر کی صبح یوکرین کے کئی شہروں پر متعدد حملے کیے تھے جنہیں پُل کی تباہی کا بدلہ قرار دیا گیا (فائل فوٹو: اے ایف پی)
روسی صدر کے مطابق ’یوکرین کے حکام نے اس کا حکم دیا تھا جس کے بعد پل کو نشانہ بنایا گیا۔‘
ولادیمیر پوتن کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’وہ آج ملک کی سلامتی کونسل کے اجلاس کی صدارت بھی کریں گے جس میں واقعے پر خصوصی طور پر مشاورت کی جائے گی۔‘
دوسری جانب روسی سلامتی کونسل کے ڈپٹی چیئرمین دمتری میدویف کا کہنا تھا کہ پیر کو ہونے والے اجلاس سے قبل ہی ’دہشت گردی کی اس کارروائی کے ذمہ داروں‘ کو مار دیا جائے گا۔
بعد ازاں روس کی جانب سے یوکرین کے دارالحکومت کیئف پر بے شمار میزائل داغے گئے جسے اب تک جنگ کا سب سے بڑا حملہ قرار دیا گیا۔
اسی طرح مغربی حصے میں واقع لائوف، ترنوپل اور زائتومائر کے شہروں میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں جبکہ مشرقی شہروں دنیرپو، کریمنچوک، زیپوریزہیا اور خرکیف پر بھی حملے کیے گئے۔