افغانستان میں تفریحی مقامات کے بعد خواتین کے جِم جانے پر بھی پابندی
افغانستان میں تفریحی مقامات کے بعد خواتین کے جِم جانے پر بھی پابندی
اتوار 13 نومبر 2022 16:16
سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو کلپ میں خواتین جم جانے پر پابندی عائد کے خلاف احتجاج کر رہی ہیں۔ فوٹو: اے ایف پی
افغانستان میں طالبان نے خواتین کے جم اور عوامی حمام میں جانے پر بھی پابندی عائد کر دی ہے۔ چند دن قبل خواتین کے پارکوں اور تفریحی مقامات میں جانے پر بھی پابندی عائد کی گئی تھی۔
خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق اتوار کو طالبان نے ان پابندیوں کے عائد کیے جانے کی تصدیق کی۔
گزشتہ برس اگست میں اقتدار میں آنے کے بعد سے طالبان خواتین کو عوامی زندگی سے الگ تھلگ کر رہے ہیں حالانکہ انہوں نے کئی بار دنیا کے سامنے یہ عزم ظاہر کیا کہ وہ اس بار پچھلے دور اقتدار کی طرح سختی نہیں برتیں گے۔
طالبان کو سنہ 2001 میں امریکہ اور اتحادیوں کی افواج نے کابل میں اقتدار سے بے دخل کر دیا تھا۔
طالبان کے کابل کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد سے افغان خواتین کی سرکاری ملازمتیں ختم ہو چکی ہیں یا پھر اُن کو گھر میں بیٹھے رہنے پر تنخواہ دی جاتی ہے۔
افغانستان میں خواتین مرد رشتہ دار کے بغیر اکیلے سفر نہیں کر سکتیں جبکہ اُن کو گھر سے نکلتے ہوئے خود کو چادر سے ڈھانپنا پڑتا ہے۔
اگست 2021 میں اقتدار پر کنٹرول مکمل کرنے کے بعد طالبان نے لڑکیوں کے زیادہ تر سکولوں کو بند کر دیا تھا جس کے بعد صرف پرائمری سکولز کھولے گئے۔
امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی وزارت کے ترجمان محمد عاکف صادق مہاجر نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’خواتین کے لیے جم جانے پر اس لیے پابندی عائد کی گئی ہے وہاں ٹرینر زیادہ تر مرد ہیں یا پھر مخلوط جم ہیں۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’خواتین کے حمام جانے پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔‘
افغانستان میں عام طور پبلک حمام خواتین اور مردوں کے لیے الگ الگ ہیں۔
محمد عاکف مہاجر نے بتایا کہ ’اس وقت افغانستان کے ہر گھر میں باتھ روم موجود ہے اس لیے اس پابندی کا خواتین پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔‘
سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو کلپ میں خواتین جم جانے پر پابندی عائد کیے جانے کے خلاف احتجاج کر رہی ہیں۔ تاہم اس کی فوری طور پر تصدیق نہیں کی جا سکی۔
کابل کے نواح میں واقع ایک تفریحی پارک میں گارڈز کھڑے ہیں۔ فوٹو: اے ایف پی
اس ویڈیو کلپ میں ایک خاتون جذبات سے رندھی آواز میں کہہ رہی ہیں کہ ’یہ صرف خواتین کے جم تھے۔ ٹیچر، ٹرینر سمیت سب خواتین تھیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’آپ ہماری ہر چیز پر پابندی عائد نہیں کر سکتے۔ کیا ہمارا کوئی بھی حق نہیں۔‘