پاکستان کے ایوان بالا سینیٹ میں حکمران اتحاد اور اپوزیشن کے سینیٹر مشتاق احمد خان نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے لیے دعا مغفرت کرانے سے انکار کر دیا۔
سوموار کو سینیٹ کا اجلاس شروع ہوا تو چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے سینیٹر مشتاق احمد کو فلور دیتے ہوئے کہا کہ ترکیہ، شام میں زلزلہ سے ہلاک شدگان کے لیے دعا کریں۔
اس دوران اپوزیشن لیڈرز ڈاکٹر وسیم شہزاد جن کا تعلق پاکستان تحرک انصاف سے ہے اور ماضی میں وہ پرویز مشرف کے قریبی ساتھ رہے ہیں، نے ان کے لیے دعا کرنے کا بھی کہا جس پر سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہا کہ ترکیہ اور شام کے لیے دعا ہوگی مشرف کے لیے دعا نہیں ہوگی۔
مزید پڑھیں
-
-
اب اشرافیہ کی باری ہے، ماریہ میمن کا کالم
Node ID: 740771
-
جیل بھرو تحریک، ’بسم اللہ زمان پارک سے ہونی چاہیے‘
Node ID: 740871
انھوں نے کہا کہ ’انفرادی گناہ تو معاف ہو جاتے ہیں لیکن اجتماعی گناہ معاف نہیں ہوتے۔ پرویزمشرف کے اجتماعی گناہ معاف نہیں ہوسکتے انہوں نے قوم کے ساتھ ظلم کیا ہے۔ وہ قوم کاغاصب ہے، سرٹیفائیڈ غدار ہے۔ آج خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں آگ اس کی وجہ سےہے۔ مشرف نے دو دفعہ آئین توڑا ہے۔ عدلیہ پرشب خون مارا ہے۔ ایسےلوگوں کے خلاف تو بعد از موت سزائیں ہوئی ہیں۔‘
اس موقع پر قائد حزب اختلاف ڈاکٹر شہزاد وسیم نے کہا کہ ’پرویز مشرف کے لیے دعا کرنے میں کیا حرج ہے؟ مشرف نے بلدیاتی نظام لایا۔ بس ایک غلطی کی جو ان دونوں جماعتوں کو این ار او دیا۔ انھوں نے کالی پٹی باندھ کر مشرف سے حلف لیا۔ افسوس ہوا کہ ہم کسی کے لیے دعا سے بھی گئے۔‘
شہزاد وسیم کا کہنا تھا کہ ’یہاں آئین شکنی ہر روز ہو رہی ہے۔ ایف نائن پارک میں ایک لڑکی سے اجتماعی زیادتی کی گئی۔ انھوں نے پاکستان کو سرزمین بے آئین بنا دیا ہے۔ آپ کہہ رہے ہیں کہ موروثی سیاست جمہوری سیاست ہے۔ آپ نے آمریت قائم کی ہے۔ آپ فتوی لگاتے ہیں کہ فلاں کے لیے دعا نہیں ہو گی۔‘
قائد حزب اختلاف کی مشرف کے حق میں تقریر کے دوران حکومتی ارکان چیئرمین سینیٹ کے ڈائس کے سامنے جمع ہوگئے اور احتجاج کیا۔ جبکہ پی ٹی آئی سینٹرز ڈاکٹر شہزاد وسیم کے حق میں کھڑے ہو گئے۔
