Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

الیکشن کمیشن سے مشورہ کر کے انتخابات کی تاریخ دی جائے گی: گورنر خیبرپختونخوا

گورنر خیبرپختونخوا غلام علی کا کہنا تھا کہ امن و امان کو برقرار رکھنا حکومت کی ذمہ داری ہے (فوٹو: اے ایف پی)
گورنر خیبرپختونخوا غلام علی نے کہا ہے کہ انتخابات سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد کیا جائے گا اور الیکشن کمیشن سے مشورہ کر کے انتخابات کی تاریخ دی جائے گی۔
بدھ کو سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے تین دو کے تناسب سے پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات 90 دنوں میں کرانے کا حکم دیا ہے۔
اردونیوز سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر خیبرپختونخوا غلام علی نے موقف اپنایا کہ انتخابات سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلہ پر من وعن عملدرآمد کیا جائے گا۔ 
انہوں نے کہا کہ ’میری جو آئینی ذمہ داری ہے وہ نبھاؤں گا جو قانون کے مطابق ہو گا۔‘ 
گورنر خیبرپختونخوا غلام علی نے کہا کہ عدالتی حکم کے مطابق الیکشن کمیشن سے مشاورت کے بعد انتخابات کی تاریخ دیں گے۔
گورنر کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں امن وامان کی صورتحال سب کے سامنے ہے۔ ’آئے روز پولیس پر حملے ہوتے ہیں اس لیے نگراں وزیراعلی کی زیرصدارت میں ہونے والے اجلاس میں پولیس حکام نے سکیورٹی کے لیے مزید اہلکار طلب کیے۔‘
’ہم نے سب سے مشاورت کے بعد صوبہ میں امن وامان کے حوالے سے عدالت کو آگاہ کیا تھا۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے سامنے بھی امن وامان کی صورتحال رکھیں گے۔ 
گورنر خیبرپختونخوا غلام علی کا کہنا تھا کہ امن و امان کو برقرار رکھنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ ’ہم چاہتے ہیں پرامن ماحول میں شفاف انتخابات منعقد ہو۔‘ 
واضح رہے کہ 21 فروری کو نگران وزیراعلی اعظم خان کی زیر صدارت امن و امان سے متعلق اجلاس منعقد ہوا تھا۔
بریفنگ میں پولیس حکام نے وزیراعلی کو بتایا کہ الیکشن کے لیے 56 ہزار پولیس اہلکاروں کی ضرورت ہوگی اور سفارش کی گئی کہ سکیورٹی کے لیے درکار نفری فراہم کی جائے تو انتخابات کے لیے سکیورٹی فراہم کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔
خیال رہے کہ 90 دن میں انتخابات سے متعلق پشاور ہائیکورٹ میں کیس زیر سماعت ہے جس کی سماعت کل 2 مارچ بروز جمعرات ہو گی۔

شیئر: