Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پنجاب میں عام انتخابات: بڑی سیاسی جماعتوں نے کمر کس لی

شہباز شریف نے پارٹی رہنماؤں اور عہدیداروں کو انتخابی مہم چلانے کے لیے حکمت عملی کی تیاری کی ہدایت کر دی ہے۔ (فوٹو: ٹوئٹر)
صدر پاکستان عارف علوی کی جانب سے ملک کے آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبہ پنجاب میں انتخابات کی تاریخ 30 اپریل دیے جانے کے بعد سیاسی جماعتوں نے بھی اپنی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔
مسلم لیگ ن نے جمعرات کو صوبائی اسمبلی کے حلقوں میں امیدواروں سے درخواستیں طلب کر لی ہیں۔
امیدواروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ لاہور میں واقع پارٹی دفتر میں اپنی درخواستیں جمع کروائیں۔
دوسری طرف مریم نواز نے چیف آرگنائزر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد پنجاب کے تمام ڈویژنز میں جا کر پارٹی ورکرز سے ملاقاتیں کر رہی ہیں۔
مسلم لیگ نواز پنجاب کی ترجمان عظمہ بخاری کے مطابق ’ہماری تیاری مکمل ہے اور ہم نے کبھی بھی الیکشن میں جانے سے انکار نہیں کیا۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ہماری پارٹی انتخابی عمل میں کسی قسم کی رکاوٹ پر یقین نہیں رکھتی۔ پارٹی ٹکٹ فائنل ہونے کے بعد انتخابی مہم کی حکمت عملی تیار کی جائے گی۔‘
پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) نے بھی گزشتہ سنیچر سے انتخابی مہم شروع کرنے کا اعلان کر رکھا ہے تاہم ابھی تک باقاعدہ طور پر انتخابی جلسے جلوس شروع نہیں کیے جا سکے ہیں۔
یہی صورت حال مسلم لیگ ن کی بھی ہے۔
عمران خان نے اعلان کیا تھا کہ اس مرتبہ پارٹی ٹکٹ وہ خود جاری کریں گے۔ تحریک انصاف نے ابھی تک پارٹی ٹکٹس کے لیے اپنے امیدواروں سے درخواستیں طلب نہیں کی ہیں۔
تحریک انصاف کے رہنما حسان خاور کے مطابق ’ہماری الیکشن کی تیاری مکمل ہو چکی ہے۔ ہمیں ابھی بھی شک ہے کہ انتخابی عمل میں تاخیر کی جا سکتی ہے۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو تحریک انصاف کی سب سے زیادہ خواہش ہے کہ جلد از جلد الیکشن کا انعقاد ہو۔ اب تاریخ بھی جاری ہو چکی ہے تو ایک طرح سے الیکشن مہم کا آغاز ہو چکا ہے۔‘
پاکستان پیپلزپارٹی نے یہ اعلان کر چکی ہے کہ وہ پنجاب میں انتخابات کے لیے تیار ہیں۔ آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو نے بھی گزشتہ ہفتے لاہور کا دورہ کیا اور پارٹی کی انتخابات کی تیاریوں کا جائزہ لیا۔
اگر لاہور کے ماحول کی بات کی جائے تو شہر میں جگہ جگہ تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی کے پرچم اور بینرز دکھائی دے رہے ہیں البتہ مسلم لیگ ن کی طرف سے درخواستوں کی وصولی کا اعلان وہ پہلا قدم ہے جسے دیکھ کر کہا جا سکتا ہے کہ انہوں نے بھی انتخابی مہم کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ تاہم شہر میں ن لیگ کی اشتہاری مہم ابھی تک دکھائی نہیں دے رہی ہے۔

شیئر: