ریال کمانا اب آسان نہیں رہا، حالات بہت بدل گئے ہیں،گھر والے سمجھتے ہیں کہ بیٹا باہر چلاگیا ہے اب تو ریال کی بارش ہوگی،نوجوان بھی خواب سجائے کچھ معلومات کے بغیر چلے آتے ہیں
- - - - - - - - - - -
مرتب: مصطفی حبیب صدیقی
- - - - - - - - - -
ممتاز شیریں،دوحہ ،قطر
- - - - - -- -
( تیسری قسط )
امارات کی7 ریاستیں 7سہیلیوں کی طرح اپنی خوبصورتی عیاں کرنے ہاتھوں میں ہاتھ دئیے ایک ساتھ کھڑی ہیں جیسے کسی مقا بلہ حسن میں شریک ہوں لیکن دنیا کی نظر انتخاب ہر بار قطر پہ ہی جا کر ٹھہرتی ہے اس لیے کہ قطر ماڈرن ہے…جدید ہے… قطر نے اپنے ہاتھوں میں یک رنگی چوڑیاں نہیں پہنی ہیں بلکہ کانچ کی رنگا رنگ چوڑیاں سجا ئی ہیں جو کھنکتی ہیں تو دل و جان لٹانے والے خود بخود کھنچے چلے آتے ہیں۔
یہ اپنے جلوؤں سے حیران کرتا ہے۔ حیرت کا اک در بند ہوتا ہے تو دوسرا کھلتا ہے یوں لگتا ہے جیسے بچپن لوٹ آیا ہو۔ قطر کی سر زمین پہ پاؤں رکھتے ہی یوں لگتا ہے جیسے ہم آئینوں کی دنیا میں آ گئے ہوں۔ ہر آئینے میں ایک الگ جہاں آباد ہے۔ متحدہ عرب امارات کی دیگر ریاستوں کی طرح قطر مدرسے میں پڑھنے والا بچہ نہیں بلکہ اس سے بھاگا ہوا لڑکا ہے جو اپنے کھلنڈرے پن ،شوخ اور چنچل مزاج کی وجہ سے آزادی ملنے کے بعد اپنے شوق پورے کر رہا ہے مگر اس کے باوجود مدرسے کی تربیت اور ماحول اس کے اندر سے گئی نہیں ہے ۔وہ اپنے نام، تہذیب اور اقدار کے حوالے سے اب بھی اسلامی ہے۔ مجھے قطر کی سب سے دلکش بات جو لگتی ہے وہ یہ کہ یہاں ہر قدم پہ مساجد ہیں۔ شہر سے 100 کلو میٹر دور رہائش ہونے کے باوجود آج تک کبھی ایسا نہیں ہوا کہ سفر میں ہمیں نماز ادا کرنے کیلئے مسجد کے حصول میں تگ و دو کرنا پڑی ہو۔دور تک پھیلے ہوئے صحرا میں چند کھجوروں کے پیڑوں کے درمیان کوئی پیاری سی چھوٹی سی مسجد اچانک سے نمودار ہو کر آنکھوں میں خوبصورتیاں بھر دیتی ہے۔
منفرد رنگ اور دلکش طرز تعمیر کی یہ مساجد نماز نہ پڑھنے والوں کو بھی اپنی طرف کھینچ لیتی ہیں۔ ان کو دیکھ کر یوں لگتا ہے کہ برسوں پرانے دوست لوٹ آئے ہوں۔ ان میں بیشتر مساجد کیمل کلر (camel color) کی ہوتی ہیں اور یہ اونٹوں کی طرح صحرا میں اللہ کی نشانیاں لگتی ہیں جنہیں دیکھ کر دل بے ساختہ سبحان اللہ پکار اٹھتا ہے۔ 20 سال قبل جب ہم پاکستان سے یہاں آئے تھے تویہ ہمیں مردم بیزار لوگوں کا ملک لگا کرتا تھا ۔دوحہ ایک نیم اجاڑ سی جگہ تھی جس میں عمارتوں کے درمیان ریت ملی مٹی کا ایسا دریا سا بہہ رہا ہوتا تھا جس میں روئیدگی اور سبزے نام کا گزر تک نہ تھا ۔چھوٹے سے ائیرپورٹ سے باہر نکلتے ہی قدرے بے ڈھنگی سی آبادی شروع ہوجاتی تھی جس کے بازاروں میں سستی اشیاء کی عام سی دکانیں تھیں جن کے زیادہ تر گاہک لیبر کلاس کے وہ مزدور تھے جو اس شہر کی تعمیر کیلئے شدید ترین گرمی کا عذاب سہتے تھے۔ ان دنوں وہاں نہ تو عظیم ،شاندار اور غیر ملکی قیمتی اشیاء سے بھرے ہوئے ائیر کنڈیشنڈ شاپنگ مالز تھے اور نہ سڑکیں ،نہ گاڑیوں کی قطاریں اور نہ ہی یہ چمک دمک جو آج نگاہوں کو خیرہ کرتی ہیں۔ ہم تو پاکستان سے آئے تھے ہجوم کے عادی تھے ہر طرف لوگوں کا ایک نہ ختم ہونے والا ہجوم،جس طرف بھی جائیں لوگ ہی لوگ، شہروں میں لوگ، گلیوں میں لوگ ،بازاروں میں لوگ، ریستورانوں ،ہوٹلوں، ریلوے اسٹیشن،بس اڈوں پہ ہر جگہ لوگ، چھوٹے چھوٹے گھروں میں گنجائش سے زیادہ لوگ ،شروع شروع میں تو ہم خاصہ گھبرائے کہ یہ ہم کس جگہ آگئے ہیں ہمیں تو کچھ بھی "اپنے جیسا" نظر نہیں آتا۔
ہجرت کے اپنے دکھ ہوتے ہیں۔ ہمیں اندازہ ہے کہ ہماری یہ باتیں پڑھ کر کوئی یہ سوچ رہا ہوگا کہ ہم نہایت ناشکرے قسم کے انسان ہیں لیکن ہجرت کے اپنے دکھ اپنی خوشیاں ہوتی ہیں جنہیں ہجرت کرنے والا ہی جان سکتا ہے۔ میلہ دیکھنے والوں کو کیا معلوم کہ ہجرت کے دکھ کیا ہوتے ہیں…؟ میلے میں بچہ جمہورا بننے والے، موت کے کنویں میں سائیکل چلانے والے،اور سرکس میں جوکر بننے والے کے دکھ کو تماشا دیکھنے والے نہیں سمجھ سکتے۔ اس آدمی کے دکھ کو کون سمجھ سکتا ہے جو کئی برس قبل مزدوری کرنے یہاں آیا تھا ۔شب وروز کی محنت نے اس کی تیر جیسی کمر کو کمان میں تبدیل کردیا ۔وقت اس کے جوان جذبوں پر اس طرح گزر گیا تھا جیسے سیلاب شاداب فصلوں پہ گزر جاتا ہے۔
اس نے جب پردیس میں ایک دن جوان بیٹی کی شدید علالت کی خبر سنی تو بد حواس ہو گیا جتنی جمع پونجی تھی سمیٹ کر آنکھوں میں ساون لئے وطن چلا گیا کئی ماہ علاج کرانے کے بعد بھی جب اس کے آنگن کی کلی مرجھاتی ہی چلی گئی اور وہ خود بال بال قرض میں بھیگ گیا تو مجبوراً اپنے جگر کے ٹکڑے کو بستر علالت پر چھوڑ کر واپس آگیا۔ اس کے دل و دماغ میں ایک ہی بات تھی کہ کماؤں گا نہیں تو بیٹی کا علاج کیسے ہو گا؟
زندگی ہم تیرے تعاقب میں
اتنا چلتے ہیں کہ مر جاتے ہیں
ریال کمانا اب آسان نہیں رہا، حالات بہت بدل گئے ہیں۔ ایک تو خود ان کی اپنی معاشی حالت کمزور ہو گئی ہے دوسرے ضرورت سے زیادہ لوگ یہاں چلے آئے ہیں جس کی وجہ سے مزدور اور کنٹریکٹ ورکرز کا استحصال بھی ہورہا ہے۔ پاکستان ، بنگلادیش، اور ہند سے آئے ہوئے لڑکے بہت کم ماہانہ پرکام کر رہے ہیں جن میں ان کا اپنا گزارا نہیں ہوتا تو وہ رقم کیسے گھر بھیجیں…؟ ان کے گھر والے سمجھتے ہیں کہ بیٹا باہر چلا گیا ہے تو اب ریال کی بارش ہونے لگے گی جب کچھ عرصہ بعد ان کا لڑکا وہ رقم بھی نہیں لوٹا پاتا جو ویزہ کیلئے لیے تھے تو رفتہ رفتہ سارے خواب عذاب بننے لگتے ہیں اور ان کی آنکھیں ان خوابوں کی کرچیوں سے زخمی ہونے لگتی ہیں اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ہمارے نوجوان باہر کی دنیا کو آئیڈیالائیز تو کرتے ہیں مگر وہاں کے قوانین، کلچر اور مشکلات سے ناواقف ہوتے ہیں اور بغیر کسی منصوبہ بندی کے یہاں چلے آتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی مشکلات کا سلسلہ ائیرپورٹ سے باہر نکلتے ہی شروع ہوجاتا ہے۔ سب سے پہلے وہ ان دوستوں اور رشتہ داروں کیلئے درد سر بنتے ہیں جو انہیں باہر کی رنگینیاں،خوبصورتیاں ،سہولتیں اور آسائشیں تو بتاتے ہیں مگر مشکلات کا ذکر کرنا بھول جاتے ہیں۔
ان نوجوانوں کیلئے منیر نیازی کے الفاظ میں:
اک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو
میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا
کے مصداق ہوتا ہے۔ ان2دریاؤں میں فرق صرف یہ ہے کہ جو دریا وہ پار کر کے آرہے ہوتے ہیں وہ ان کا اپنا ہوتا ہے اور جس دریا کا سامنا ہوتا ہے وہ اپنا نہیں ہوتا اس لیے پار کرنا بھی آسان نہیں ہوتا ہے کسی بھی ملک میں بہ سلسلۂ روزگار بغیر منصوبہ بندی ،لاعلمی اور تیاری کے جانا خود کو ایسے گڑھے میں پھینکنے کے مترادف ہے جس سے نکلنے کا واحد راستہ کسی معجزے کا رونما ہونا ہی ہو سکتا ہے…!
(باقی آئندہ)