صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع نوشہرہ میں دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کی مسجد میں دھماکے سے نائب مہتمم اور جے یو آئی س کے سربراہ مولانا حامد الحق سمیت 6 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
خیبر پختونخوا حکومت کے ترجمان بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے دھماکے میں مولانا حامد الحق کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔
پولیس آئی جی خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید کا کہنا ہے کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکہ خود کش تھا اور حملے میں مولانا حامد الحق کو نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ حملے سے متعلق کسی قسم کا تھریٹ الرٹ موجود نہیں تھا۔
مزید پڑھیں
-
خیبر کی علی مسجد میں دھماکہ کرنے والا خودکش بمبار کون تھا؟Node ID: 786326
-
بلوچستان کے علاقے ہرنائی میں بم دھماکہ، 11 کانکن ہلاکNode ID: 885873
جامعہ حقانیہ اکوڑہ خٹک کے نائب مہتمم حافظ سلمان الحق حقانی نے اُردو نیوز کو بتایا کہ مولانا حامد الحق جمعے کی نماز پڑھنے کے بعد گھر جانے کے لیے مسجد کے دروازے کی جانب بڑھے ہی تھے کہ حملہ آور نے ان کے قریب خود کو دھماکے سے اُڑا لیا۔
مسجد میں موجود ایک اور عینی شاہد سید ذوالفقار شاہ نے بتایا کہ جمعے کی فرض نماز کی ادائیگی کے بعد دھماکہ ہوا جب مولانا حامد الحق عقبی راستے سے گھر کی طرف جا رہے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ مسجد کے باہر کھڑے ایک مشکوک شخص نے بھاگ کر مولانا حامد الحق کو نشانہ بنایا۔
نوشہرہ پولیس کے مطابق دھماکہ جمعے کی نماز کے بعد مرکزی مسجد کے اندر ہوا۔ دھماکے کے نتیجے میں 6 افراد ہلاک جبکہ 15 زخمی ہوئے ہیں۔
ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ جمعے کو حقانیہ مدرسہ اکوڑہ خٹک میں دھماکے کی اطلاع ریسکیو کنٹرول روم کو موصول ہوئی جس کے بعد آگ بجھانے والا عملہ موقع پر پہنچ گیا۔
مشیر صحت احتشام علی نے جاری بیان میں کہا کہ مردان اور نوشہرہ سمیت آس پاس کے تمام ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی ہے اور تمام مراکز صحت کو الرٹ کر دیا ہے۔

پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں شعبہ ایمرجنسی کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔ ہسپتال کے ترجمان کا کہنا ہے کہ زخمیوں کے علاج معالجے یا کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف اور وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کی جامع مسجد میں دھماکے کی شدید مذمت کی اور انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین خان گنڈاپور نے متعلقہ حکام کو واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر مکمل رپورٹ پیش کرنے کا کہا ہے۔
مولانا حامد الحق کون تھے؟
دارالعلوم حقانیہ کی مسجد میں ہونے والے دھماکے میں جان کی بازی ہارنے والے مولانا حامد الحق معروف سیاسی شخصیت مولانا سمیع الحق کے صاحبزادے تھے۔ دینی سکالر ہونے کے ساتھ ساتھ مولانا حامد الحق سیاسی رہنما کے طور پر بھی پہچان رکھتے تھے۔
انہوں نے سال 2002 کے الیکشن میں نوشہرہ کی قومی نشست کے لیے قسمت آزمائی اور کامیاب ہوکر قومی اسمبلی کے رکن بنے۔ مولانا سمیع الحق کے قتل کے بعد حامد الحق کو جامعہ دارالعلوم حقانیہ کے نائب مہتمم کی ذمہ داری سونپی گئی اور ساتھ ہی سیاسی جماعت جمیعت علماء اسلام (س) کے سربراہ بھی مقرر ہوئے۔
مولانا حامد الحق نے اپنے والد مولانا سمیع الحق کے نقش قدم پر چلتے ہوئے تمام مذہبی جماعتوں بالخصوص پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ خوشگوار تعلقات رکھے ہوئے تھے۔

دارالعلوم حقانیہ کی تاریخ
صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع نوشہرہ میں تاریخی دارالعلوم حقانیہ کو مولانا سمیع الحق کے والد مولانا عبدالحق حقانی نے قیام پاکستان کے ایک ماہ بعد ستمبر 1947 میں قائم کیا تھا، یہ درسگاہ پشاور سے اسلام آباد جانے والی شاہراہ جی ٹی روڈ پر اکوڑہ خٹک کے مقام پر واقع ہے۔
شیخ الحدیث مولانا عبدالحق کی وفات کے بعد دینی درسگاہ کی سربراہی مولانا سمیع الحق کے ذمہ آئی۔ سنہ 2018 میں مولانا سمیع الحق کے قتل کے بعد ان کے بڑے صاحبزادے مولانا حامد الحق کو نائب مہتمم مقرر کیا گیا۔
دارالعلوم حقانیہ میں پاکستان کے علاوہ غیر ملکی طلبہ بھی دینی علوم کے حصول کے لیے یہاں آتے ہیں۔ افغانستان، ملیشیا اور انڈونیشیا کے متعدد علماء کرام دارالعلوم حقانیہ سے فارغ التحصیل ہیں۔
واضح رہے کہ اس مدرسے کے فارغ التحصیل طلبہ افغانستان کی حکومت کا حصہ بھی رہ چکے ہیں۔