صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع جنوبی وزیرستان میں چار دنوں سے دھرنا جاری ہے جس میں قبائلی عمائدین کے علاوہ تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے رہنما شریک ہیں۔
ضلع جنوبی وزیرستان کی تحصیل برمل اعظم ورسک میں جاری دھرنے کے شرکا نے دھمکی دی ہے کہ مطالبات تسلیم نہ ہونے کی صورت میں مصروف شاہراہ وانا گومل روڈ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بلاک کر دیا جائے گا۔
دھرنے کے شرکا نے بجلی کی بلاتعطل فراہمی، انٹرنیٹ سروس اور تعلیمی ادارے کھولنے کا مطالبہ کیا ہے۔
مزید پڑھیں
-
پشاور کے ہسپتال میں 13 سالہ حاملہ لڑکی کی موت، ملزم گرفتارNode ID: 768151
دھرنے میں شریک سیاسی جماعتوں کے قائدین میں پاکستان پیپلزپارٹی کے ضلعی صدر، اے این پی کے رہنما نور زمان، جماعت اسلامی سے ضلعی جنرل سیکرٹری اسد اللہ وزیر، پی ٹی آئی سے خانزادہ وزیر اور این ڈی ایم سے مراد وزیر شامل ہیں۔
دھرنے میں ایم این اے علی وزیر، وانا کونسلرز اتحاد قومی مشران اور مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد بھی شریک ہیں۔
مطالبات کیا ہیں؟
جنوبی وزیرستان کے شہری مسائل کے حل کے لیے وقتاً فوقتاً احتجاج کرتے رہے ہیں مگر انتظامیہ کی جانب سے کوئی خاطر خواہ جواب نہ ملنے پر اس مرتبہ مطالبات کی منظوری تک دھرنا دینے کا فیصلہ کیا گیا۔
دھرنے کے شرکا کا سب سے اولین مطالبہ تحصیل برمل کو بلا تعطل بجلی کی فراہمی ہے جبکہ دوسرا بڑا مطالبہ موبائل ٹاورز نصب کرنے اور تھری جی و فور جی سروس کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔
تیسرا مطالبہ پاک افغان سرحد پر سپیرہ پہاڑی علاقے میں چلغوزے کی فصل کی حفاظت اور چرواہوں کے مال مویشی کو بلا روک ٹوک اجازت دینا ہے۔
