Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پنجاب کی نگراں حکومت 14 اگست پر 40 کروڑ روپے کا جھنڈا لگائے گی؟

عامر میر کے مطابق ’پنجاب حکومت اس 14 اگست پر وہی کام کر رہی ہے جو ریاستی طور پر ہمیشہ ہوتے ہیں‘ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
لاہور میں رواں برس 14 اگست پر مبینہ طور پر لگایا جانے والا 40 کروڑ روپے کا پاکستانی پرچم اس وقت تنازع کا شکار نظر آرہا ہے۔
گذشتہ ماہ ایسی اطلاعات سامنے آئیں کہ ضلعی حکومت رواں برس آزادی کی تقریبات میں لبرٹی چوک میں 500 فٹ اونچا ایک پرچم نصب کرنے جا رہی ہے جس پر 40 کروڑ روپے خرچہ آئے گا۔
اس حوالے سے لاہور ہائی کورٹ میں ایک درخواست بھی دائر کی گئی کہ پنجاب کی نگراں حکومت کو اس عمل سے روکا جائے کیونکہ ملک کی معاشی حالت ٹھیک نہیں ہے۔
عدالت نے اس حوالے سے پنجاب حکومت کو نوٹس جاری کر رکھا تھا، تاہم جمعے کو ہونے والی سماعت میں چیف سیکریٹری پنجاب نے جواب جمع کروانے کے لیے مزید مہلت طلب کی جس پر عدالت نے کیس کی سماعت آٹھ اگست تک ملتوی کردی۔
دوسری جانب لاہور کی پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی نے عدالت میں ایک جواب جمع کروایا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ’ہمارا ادارہ ایسا کسی قسم کا پرچم نہیں لگا رہا اور نہ ہی 40 کروڑ روپے کے فنڈز جاری کیے گئے ہیں۔‘
ابہام اس وقت یہ ہے کہ نہ تو لاہور کی ضلعی حکومت ان معلومات کو رد کر رہی ہے اور نہ مزید تفصیلات فراہم کر رہی ہے۔
پنجاب کے نگراں وزیر اعلٰی محسن نقوی نے البتہ گذشتہ ہفتے 14 اگست پر پرچم لگانے کی بات کی تھی لیکن انہوں نے مالیت کا ذکر نہیں کیا۔
اردو نیوز نے اس حوالے سے پنجاب کے نگراں وزیر اطلاعات عامر میر سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ ’ان سے پوچھیں جو لگا رہے ہیں پنجاب حکومت تو نہیں لگا رہی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’کوئی پاگل ہی 40 کروڑ روپے ایک پرچم پر لگائے گا۔ جس نے بھی سب سے پہلے یہ خبر باہر نکالی ہے اس نے یقیناً پڑھنے میں غلطی کی ہو گی۔ 40 ہزار یا 40 لاکھ کو 40 کروڑ بنا دیا اور بات ابھی تک ایسے ہی چل رہی ہے۔‘
عامر میر کا مزید کہنا تھا کہ ’پنجاب حکومت اس 14 اگست پر وہی کام کر رہی ہے جو ریاستی طور پر ہمیشہ ہوتے ہیں، ان میں کچھ تقریبات ہیں اور آتشبازی ہے۔ ہمارا آزادی کا دن ہے ہم اس کو بھرپور طریقے سے منائیں گے۔‘
لاہور کی ضلعی حکومت کے ایک اعلٰی افسر نے نام ظاہر کرنے کی شرط پر اردو نیوز کو بتایا کہ ’یہ جھنڈا لبرٹی گول چکر میں 500 فُٹ کی بلندی پر لگایا جائے گا۔ مختلف کمپنیوں سے تخمینہ لگوانے کے بعد اس کے لیے فنڈز جاری کیے گئے ہیں اور یہ تمام خرچہ ضلعی حکومت ہی برداشت کر رہی ہے۔‘
کمشنر لاہور کے ترجمان نے البتہ اس موضوع پر بات کرنے سے معذرت کی ہے تاہم اُنہوں نے اس خبر کی تردید بھی نہیں کی۔

شیئر: