Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

نجانے آئندہ رمضان کریم ہمیں زمین کے اوپر ملتا ہے یا زمین کے نیچے

ایسے رشتہ دار، دوست، ساتھی جن کے خلاف دل میں رنجش ہوا ن سب سے رابطہ کرکے دل کو شفاف کر لیں
* * * شہلا ہاشمی۔ مدینہ منورہ* * *
شعبان کا مہینہ گزرگیا اور ماہِ رمضان کریم دستک دے رہا ہے ۔ رمضان المبارک وہ مہینہ ہے جس کاہر مسلمان کو شدت سے انتظار رہتا ہے تاکہ اس کے فیوض و برکات کو زیادہ سے ز یادہ سمیٹ سکیں۔ قلبی و ذہنی پاکیزگی ہو تو ز یادہ یکسوئی بھی حاصل ہوتی ہے۔ رمضان المبارک روحانی تقویت کا مہینہ ہے لہٰذا پہلے سے چند ایسے امور انجام دے لیں کہ جو قلب کو صاف کرکے اسے معطر کرسکیں۔ سب سے پہلے:
٭٭ دل کو ٹٹولیں ،کچھ رشتہ دار، دوست، ساتھی، پڑوسی یا کولیگ ایسے ضرور ملیں گے جن سے دل میں واضح نہ سہی،نامعلوم سی رنجش، کدورت یا خلش ہوگی۔ یہ چیز دل میں بغض اور کینہ پیدا کرنے کا سبب بنتی ہے لہٰذا ن سب سے رابطہ کرکے اس کدورت کی پھانس کو نکال کر دور کردیں۔ دل کو پھر سے شفاف بنالیں کہ رب تعالیٰ کو صفائی پسند ہے۔
٭٭اب دوسرا کام عید کی تیاری کاہے۔ سمجھدارلوگ اس مبارک ماہ سے قبل ہی عید کی خریداری و تیاری کرلیتے ہیں لہٰذا خریداری کرتے وقت ایک یا چند جوڑے زائد خرید لیں تاکہ کسی ضرورت مند کو دے سکیں۔ یوں آپ کی عید ڈبل ہوجائے گی۔اگر یہ کام بچوں کے ہاتھوں سے کروائیں تو انہیں شروع سے ہی دوسروں کا خیال رکھنے کی تربیت بھی مل جائے گی۔
٭٭عام طور پر بہت سے لوگ غریبوں فقیروں میں رمضان کریم کا راشن تقسیم کرتے ہیں لیکن اس مرتبہ اپنے محلے، خاندان ، حلقے میں دیکھیں جو سفید پوش ضرورت مند ہوں ان کو ضرور دیںکیونکہ نظر آنے والوں یا مانگنے والوں کوتو سب ہی دے دیتے ہیں لیکن ایسے لوگ جو اپنی عزت نفس کے باعث کسی کے سامنے اپنی ضرورت بیان نہیں کرسکتے، آپ کسی حیلے بہانے یا خاموشی سے ان کی مدد کردیں۔انہیں راشن دے دیں۔
٭٭ایک کام اور کریں ، اپنی الماریوں، سوٹ کیسز کا جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ بہت سی اشیاء جو بہت اچھی حالت میں ہیں لیکن استعمال نہیں کی گئیں اور مزید استعمال کے مواقع بھی نہیں بلکہ محض جذباتی و واقعاتی وابستگی کے باعث انہیں سنبھال سنبھال کر رکھا ہوا ہے۔ بعض سوٹ ،کپڑے تو محض اس امید پر رکھے جاتے ہیں کہ ذراکچھ دبلے ہوگئے، اسمارٹ ہوگئے یا وزن کم کرلیا تو دوبارہ ضرورپہنے جا سکیں گے۔ یہ سوچ عبث ہے ۔ تھوڑی سی ہمت کریں اور وہ کپڑے ،جیولری وغیرہ نکال لیں ۔ساتھ ہی زائد چادریں اور پردے وغیرہ بھی نکال لیں۔
٭٭اب ذرا باوری خانے کی کیبنٹ کا جائز ہ لیں ۔ خواتین کی اکثریت کو برتنوں کی خریداری اور انہیںجمع کرنے سے بہت لگاؤ ہوتا ہے۔ ضرورت ،بلا ضرورت بھی محض پسند آجائے یا قیمتاً سستا مل جائے توبھی کئی کئی لے لیتی ہیں ۔ یہاں تک کہ کچن کیبنٹ مزید بوجھ اٹھانے سے انکار کردیتی ہے مگر خاتونِ خانہ پھر بھی باز نہیں آتیں اور الماریوں کے اوپر اسٹور میں اوپر نیچے ٹھونس دیتی ہیں۔ ان سب کو بھی باہر نکال لیں۔ یہ تمام سامان جو آپ کی ضرورت سے زائد ہے، یہ جان لیں کہ اس پر کسی اور ضرورت مند کا حق ہے۔ اب حقدار کو اسکا حق پہنچانے میں دیر نہ کریں ۔یہ خیا ل رکھیں کہ یہ تمام کام صرف اورصرف اللہ کریم کی خوشی کیلئے کریں، اس کی رضا کے لئے کریں کیونکہ جو چیز اللہ کریم کی خوشی کے لئے اس دنیا میں دی جائے وہ دوسرے گھر یعنی قبر میں اور آخرت کا گھر جو ہمارا اصل گھر ہے اس میں نیکی بن کر ہمارا استقبال کرے گی ۔
ویسے بھی زندگی اور موت کا کوئی بھروسہ نہیں ، کیا معلوم کہ ہمیں آئندہ رمضان کریم زمین کے اوپر ملتا ہے یا زمین کے نیچے۔ لیکن یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ یہ گھر میں موجود تمام سامان صرف اسی وقت تک ہمارا ہے جب تک ہماری سانسیں چل رہی ہیں۔ ادھر ہماری آنکھیں بند ہوئیں اوراُدھر یہ سب اشیاء ہمارے لئے بے کار ہوئیں۔ اب پیچھے رہ جانے والے لواحقین ہماری ان سلیقہ شعاری سے استعمال کی گئی اور سنبھال کر رکھی گئی چیزوں سے کیا سلوک کرتے ہیں، اس کا کچھ علم نہیں۔ وہ انہیں بیکار اور فضول سمجھ کر کوڑے کی نذر کردیتے ہیں یا فروخت کرتے ہیں یا خود استعمال کرتے ہیں، کچھ معلوم نہیں۔ پھر یہ کام ہم خود اپنی زندگی میں اپنے ہاتھوں سے کیوں نہ کرلیں اور اسے حقدار تک پہنچا دیں تاکہ یہ زیرِ زمین ہمارے 2گز کے اندھیر گھر میں چراغ بن کر روشنی بھیر سکے۔ اس حوالے سے عربی کی ایک مختصر حکایت ہے کہ ایک دولت مند شخص کو کچھ پھل بہت پسند تھے۔ اس نے ایک مرتبہ وہ پھل اپنے گھر بھجوائے کہ جاکر کھائے گا۔ وہ فارغ ہوکر گھر پہنچا تو گھر والے سب پھل کھاکر ختم کرچکے تھے۔
یہ بات اس کے دل کو جھنجھوڑ گئی کہ یہ لوگ تھوڑی سی چیز کیلئے بھی میرا انتظار نہ کرسکے ، نہ میرے لئے پھل بچا کررکھا ، سب ختم کردیئے تو بھلاوہ دولت جو میں نے اتنی محنت سے کمائی ہے، جمع کی ہے، میرے لئے تو اس میں سے کچھ نہیں بچے گا اور نہ میرے ساتھ جائے گا لہٰذا اس نے خود ہی اپنی زندگی میں اپنی دولت میں سے بہت سا حصہ اللہ کریم کی راہ میں خرچ کردیا کہ میں خود اپنے ہاتھوں اپنے اگلے گھر کیلئے کچھ انتظام کرلوں لہٰذا ہمیں بھی اس زندگی کے موقع کو غنیمت جانتے ہوئے اپنے لئے کچھ نہ کچھ کرلینا چاہئے۔ ہم جو کچھ اپنے ہاتھ سے دے سکتے ہیں، دے دیں، خرچ کرسکتے ہیں توکرلیں۔ ہم پر کسی کا حق یا قرض ہے تو اسے ادا کریں۔ عمل وہی اچھا ہے جو انسان اپنے ہاتھ سے کر جائے ۔
توشہ وہی کام آئے گا جو خود بھیجا ہوگا۔اگر کوئی اور بھیج دے تو وہ تو بونس ہے۔ آخری بات یہ کہ بہت سے رشتے جو صلہ رحمی کے مستحق ہیں اور کسی بھی وجہ سے قطع رحمی کی جانب جارہے ہیں، انہیں استوار رکھنے کا یہی بہترین وقت ہے۔ رمضان المبارک کی مبارک باد، مسر ت کا ایساعمدہ موقع ہے جو دل کی تمام کدورت، خلش دور کر کے صلہ رحمی کا موجب بن جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے لوے ہر رمضان کریم کوباعث ِ رحمت وبرکت بنائے، اورمذکورہ باتوں پر ابھی سے عمل کرکے ہمیں رمضان المبارک کا استقبال عمدہ طریقے سے کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔

شیئر: