خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں سٹریٹ کرائمز کے ساتھ ساتھ شہریوں کو لوٹنے کے لیے ایک اور طریقہ واردات بھی اپنایا جا رہا ہے جس کو پولیس کی جانب سے ٹیکسی گینگ قرار دیا گیا ہے۔
یہ گینگ سواریوں کو دوران سفر قیمتی اشیاء سے محروم کر دیتے ہیں۔ دیکھنے کو یہ ڈرائیور حضرات پیشے کے لحاظ سے ٹیکسی چلاتے ہیں مگر ان کا روزگار چوری اور جیب تراشی ہے۔
ٹیکسی میں واردات کیسے کی جاتی ہے؟
پشاور کے ٹیکسی گینگ میں جیب تراشی کا ایک متحرک نیٹ ورک موجود ہے جو شہریوں کو گاڑی کے اندر ہی بے دھیانی میں لوٹتے ہیں۔
مزید پڑھیں
-
پشاور میں گرفتاری سے بچنے کے لیے ملزم نے نہر میں چھلانگ لگا دیNode ID: 816731
-
پشاور میں اٹلی سے تعلق رکھنے والے سیاح کی مبینہ خودکُشیNode ID: 817036
نوجوان قاضی حماد بھی انہی جیب کتروں سے دھوکہ کھا کر قیمتی موبائل فون سے ہاتھ دھو بیٹھا ہے۔ نوجوان نے بتایا کہ اس نے اسلام آباد سے پشاور اڈے پہنچ کر ٹیکسی لی۔ ’میں فرنٹ سیٹ پر براجمان ہوا اور میری پچھلی سیٹوں پر دو اور افراد بیٹھے ہوئے تھے، دوران سفر ڈرائیور کو کال موصول ہوئی اور اس نے پریشانی کی کیفیت ظاہر کر کے ہمیں کہا کہ میں آپ کو آپ کی منزل تک نہیں پہنچا سکتا کیونکہ میرے گھر میں ایمرجنسی ہے اس لیے آپ اتر جائیں۔‘
حماد نے بتایا کہ ’ڈرائیور نے گاڑی سائیڈ پر روکی اور ہم دو افراد رنگ روڈ پر اتر گئے۔ آگے جا کر جب میں نے کال ملانے کے لیے جیب میں ہاتھ ڈالا تو موبائل موجود نہیں تھا، مجھے پتا ہی نہیں چلا اور میری پینٹ کی جیب سے موبائل نکال لیا گیا تھا۔‘
پشاور میں نجی بینک کے ملازم ارشد حسین کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی واقعہ پیش آیا۔ جب وہ رنگ روڈ سے گھر جارہے تھے تو پیچھے خاتون کی طبیعت بگڑ گئی۔ گاڑی کو روک کر ڈرائیور نے گاڑی موڑنے کا کہا اور مجھے راستے میں اتار دیا، گاڑی سے اترنے کے بعد مجھے پتا چلا کہ موبائل فون اور پرس نکال لیا گیا ہے۔‘
ارشد حسین کے مطابق وہ خاتون اس ڈرائیور کے ساتھ ملی ہوئی تھی۔
ٹیکسی میں واردات کرنے والے یہ جیب کترے کون ہیں؟
ایس پی رورل ظفر احمد نے اردو نیوز کو بتایا کہ یہ ایک منظم گینگ ہے جس میں خواتین اور بچے بھی استعمال کیے جاتے ہیں، جبکہ ان کا سرغنہ ڈرائیور ہوتا ہے یہ جیب کترے جب اپنے شکار کو گاڑی میں بٹھاتے ہیں تو پہلے اس کے دھیان کو ہٹانے کے لیے ڈرامہ کرتے ہیں۔
