Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

رواں برس سعودی عرب ایک بار پھر پاکستانیوں کی پسندیدہ منزل، ترسیلاتِ زر میں بھی آگے

سنہ 2023 کے پہلے 11 ماہ کے دوران 8 لاکھ سے زائد پاکستانی ورکرز نے بیرونِ ملک روزگار حاصل کیا (فائل فوٹو: عرب نیوز)
سنہ 2023 کے پہلے 11 ماہ کے دوران آٹھ لاکھ سے زائد پاکستانی ورکرز نے دنیا کے مختلف ممالک میں روزگار حاصل کیا، تاہم ہمیشہ کی طرح سعودی عرب پاکستانی ورکرز کی پہلی ترجیح قرار پایا ہے۔
حکومتی اعدادوشمار کے مطابق بیرون ملک جانے والوں میں سے تقریباً 50 فیصد پاکستانی ورکرز نے سعودی عرب جانے کو ترجیح دی ہے۔
آٹھ لاکھ سے زائد پاکستانی ورکرز میں سے تین لاکھ 92 ہزار نے سعودی عرب میں ملازمت حاصل کی ہے۔
بیورو آف امیگریشن کے اعدادوشمار کے مطابق دوسرے نمبر پر متحدہ عرب امارات رہا، جہاں دو لاکھ 22 ہزار پاکستانیوں نے روزگار حاصل کیا۔
اس کے علاوہ تیسرے نمبر پر سلطنتِ عمان ہے جہاں روزگار کی غرض سے 55 ہزار سے زائد پاکستانی گئے جبکہ 52 ہزار سے زائد پاکستانیوں نے قطر کا رُخ کیا۔
بیورو آف امیگریشن کے اعدادوشمار کے مطابق سنہ 2023 میں تین ممالک ایسے ہیں جہاں کوئی بھی پاکستانی ورکر روزگار حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ پانچ ممالک ایسے ہیں جہاں 10 سے بھی کم پاکستانی کارکن گئے ہیں۔ 10 ممالک ایسے ہیں جہاں 50 سے کم پاکستانی ورکرز روزگار حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔
اعدادوشمار سے پتا چلتا ہے کہ پانچ ممالک ایسے ہیں جہاں 50 اور 100 کے درمیان پاکستانی ورکرز کو روزگار ملا۔
اس کے علاوہ 10 ممالک ایسے ہیں جہاں 500 سے بھی کم پاکستانی کارکنوں کو روزگار ملا اور دو ممالک ایسے ہیں جہاں ایک ہزار سے کم پاکستانی ورکرز جا سکے۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ سعودی عرب پاکستانی ورکرز کی پسندیدہ منزل قرار پایا ہے بلکہ 1971 سے اب تک سب سے زیادہ پاکستانی کارکنوں نے سعودی عرب کا ہی رُخ کیا ہے۔ اس وقت بھی 28 لاکھ کے قریب پاکستانی سعودی عرب میں مقیم ہیں۔ 

سنہ 2023 میں تین لاکھ 92 ہزار پاکستانی ورکرز نے سعودی عرب میں ملازمت حاصل کی (فائل فوٹو: پاکستانی قونصل خانہ جدہ)

کورونا وائرس کے باوجود بھی گذشتہ تین سال کے دوران چھ لاکھ سے زائد پاکستانی سعودی عرب گئے جبکہ ان تین برسوں میں مجموعی طور پر بیرون ملک جانے والے پاکستانیوں کی تعداد 11 لاکھ رہی۔ 
صرف افرادی قوت کے حساب سے ہی نہیں بلکہ ترسیلاتِ زر کے حوالے سے بھی سعودی عرب سے گذشتہ کئی برسوں سے دنیا کے دیگر ممالک سے کہیں زیادہ ترسیلاتِ زر پاکستان آ رہی ہیں۔
سٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق ’نومبر 2023 میں سعودی عرب میں کام کرنے والے پاکستانیوں نے 540 ملین ڈالر زرِمبادلہ اپنے ملک بھجوایا جو گذشتہ مالی سال کی اِسی مدت کے مقابلے میں چھ فیصد زیادہ ہے۔‘
گذشتہ مالی سال کی اِسی مدت میں سعودی عرب میں کام کرنے والے پاکستانیوں نے 512 ملین ڈالر زرِمبادلہ اپنے وطن ارسال کیا تھا۔ 
اکتوبر 2023 کے مقابلے میں نومبر میں سعودی عرب سے ترسیلاتِ زر میں ماہانہ بنیاد پر 12 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، اکتوبر میں سعودی عرب سے ترسیلاتِ زر کا حجم 617 ملین ڈالر ریکارڈ کیا گیا جو نومبر میں کم ہو کر 540 ملین ڈالر رہ گیا۔

رواں برس متحدہ عرب امارات میں دو لاکھ 22 ہزار پاکستانیوں نے روزگار حاصل کیا (فائل فوٹو: روئٹرز)

جاری مالی سال کے پہلے پانچ ماہ کے دوران سعودی عرب میں کام کرنے والے پاکستانیوں نے مجموعی طور پر 2.673 ارب ڈالر زرِمبادلہ ارسال کیا۔
 گذشتہ مالی سال کی اسی مدت میں سعودی عرب میں کام کرنے والے پاکستانیوں نے 3.041 ملین ڈالر کا زرِمبادلہ پاکستان بھجوایا تھا۔
اعدادوشمار کے مطابق اس کمی کے باوجود سعودی عرب میں مقیم پاکستانی کارکن دنیا کے دیگر ممالک سے کہیں زیادہ ترسیلاتِ زر بھجوا رہے ہیں۔ حالیہ مہینوں میں ہونے والی کمی مجموعی معاشی صورت حال کی عکاس ہے۔ 
نومبر کے دوران سعودی عرب سے 54 کروڑ ڈالر، متحدہ عرب امارات سے 41 کروڑ ڈالر، برطانیہ سے 34 کروڑ ڈالر اور امریکہ سے اوورسیز پاکستانیوں کی طرف سے  26 کروڑ ڈالر موصول ہوئے۔
ایک اندازے کے مطابق پاکستان کی 50 فیصد سے زائد ترسیلاتِ زر خلیجی ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے آتی ہیں۔ 

شیئر: