Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

خیبرپختونخوا میں بارشوں سے تباہی، 32 ہلاکتیں، 41 زخمی

خیبرپختونخوا میں اپریل کی بارشوں نے مون سون کے سیزن سے پہلے ہی تباہی مچا دی، جس کے باعث مرنے والوں کی تعداد 32 ہو گئی ہے جبکہ 41 زخمی ہیں۔
قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے پراونشل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق مرنے والوں میں 15 بچے، 12 مرد اور پانچ خواتین شامل ہیں۔
 مجموعی طور پر 1370 مکانات کو نقصان پہنچا جن میں سے 160 مکمل طور پر منہدم ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق وزیراعلٰی علی امین گنڈاپور نے متاثرین ک لیے 50 ملین روپے جاری کیے ہیں۔
جمعے کو شروع ہونے والے بارشوں کے نئے سپل نے صوبے کے بالائی علاقوں کو متاثر کیا۔

اپریل میں برفباری، قدرت کی مہربانی یا موسمیاتی تبدیلی؟​

ضلع چترال میں بارشوں نے سب سے زیادہ تباہی مچائی،  لوئر چترال میں 25 گھر مکمل منہدم ہوئے جبکہ 125 گھروں کو جزوی نقصان پہنچا۔ مکانات گرنے کے باعث ایک ہلاکت ہوئی اور  10 سے زائد شہری زخمی ہوئے۔
 اپر چترال انتظامیہ کے مطابق بارشوں سے مختلف علاقوں میں مکانات گرنے کی اطلاعات مل رہی ہیں مگر لینڈ سلائیڈنگ اور موبائل نیٹ ورک سروس بند ہونے کی وجہ سے مکمل ڈیٹا حاصل نہیں ہوا۔
ضلعی انتظامیہ کے ترجمان نے اردو نیوز کو بتایا کہ لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے متعدد دیہات کا زمینی راستہ منقطع ہوگیا تھا جن میں بیشتر راستے کھول دئیے گئے ہیں 
اپر دیر میں بھی متعدد مکانات کی چھتیں گرنے سے تین افراد ہلاک جبکہ 14 زخمی ہوئے۔
لوئر دیر میں سیلابی ریلے میں دو افراد بہہ گئے جبکہ فصلوں کو بھی نقصان پہنچا۔ دوسری جانب سوات اور کالام میں تیز بارش کے باعث لینڈ سلائیڈنگ اور شاہراہوں کی بندش کے واقعات بھی رونما ہوئے۔

بعض علاقوں سے لینڈ سلائیڈنگ کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں (فوٹو: اے ایف پی)

چترال اور بالائی سوات میں برف باری بھی ہوئی 

خیبرپختونخوا کے کچھ اضلاع میں بارش کے ساتھ برف باری بھی ہوئی۔ چترال میں 14 اپریل بروز اتوار سے وقفے وقفے سے برف پڑی جس سے سردی کی شدت میں مزید اضافہ ہوا اسی طرح سوات گبین جبہ اور کالام میں بھی برف باری ہوئی۔ 
چترال کے ایم پی اے فتح الملک علی ناصر کا کہنا ہے کہ دسمبر سے مارچ تک موسم سرما کے سیزن میں بارش نہیں برسی اور نہ برف باری ہوئی مگر مارچ کے مہینے کے آخری دنوں میں بارشوں کا سلسلہ شروع ہوا۔
انہوں نے کہا کہ اپریل میں برف باری کا ہونا یقینا موسمیاتی تبدیلی کی علامت ہے۔
’اپریل میں لوئر چترال کے علاقوں میں برف نہیں پڑتی اور یہ فصلوں کے پکنے کا موسم ہوتا ہے۔‘ 
فتح الملک علی ناصر نے بتایا کہ حالیہ بارشوں سے باغات اور فصلوں کو شدید نقصان پہنچا ہے، اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو قحط سالی کا خدشہ ہے۔
انہوں نے وفاقی حکومت کے ساتھ ساتھ کلائمیٹ چینج پر کام کرنے والے غیر ملکی اداروں سے تعاون کی اپیل کی ۔

اپریل میں بارش فصلوں کے لیے کتنی نقصان دہ ہے؟

ماہر زراعت ڈاکٹر انجم علی نے اردو نیوز کو بتایا کہ اپریل اور مئی کا مہینہ فصلوں کے لیے انتہائی حساس ہوتا ہے۔ خیبرپختونخوا کے بیشتر علاقوں میں اس موسم میں گندم کی فصل تیار ہوتی ہے اور کھڑی فصل پر بارش ہو جائے تو گندم کے خراب ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نوشہرہ اور چارسدہ میں سیلاب کے پانی سے سبزیاں متاثر ہوئی ہیں۔

ماہر زراعت ڈاکٹر انجم علی نے اردو نیوز کو بتایا کہ اپریل میں بارش فصلوں کے لیے نقصان دہ ہوتی ہے (فوٹو: اے پی)

ماہر ماحولیات ڈاکٹر عطا الرحمان نے موقف اپنایا کہ اس خطے میں بہت عرصے تک  خشک موسم کا راج رہا، اسی وجہ سے رواں سیزن کے اختتام پر مارچ سے بارشوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ ان ایام میں بارش اور برف باری ہوتی ہے مگر اس بار بارش زیادہ برسی اور برف باری بھی زیادہ ہوئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ موسم کی تبدیلی کی بڑی علامت یہ ہے کہ بے وقت بارش ہوتی ہے۔
ڈاکٹر عطا الرحمان کے مطابق ’چترال، دیر، ملاکنڈ اور بلوچستان میں بارش زیادہ ہوئی اسی وجہ سے نقصانات بھی زیادہ ہوا۔‘
 دوسری جانب انہوں نے برف باری کو اچھی علامت بھی قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’زیر زمین پانی پہنچانے کے لیے یہ قدرت کا نظام ہے اسی طرح گلیشیئر پر برف پڑنے سے اس کے پگھلاؤ میں بھی کافی حد تک کمی آجاتی ہے۔
’بارش کی مقدار زیادہ ہونے کے ساتھ ساتھ دورانیہ بھی بڑھ جاتا ہے جس کی وجہ سے سیلات آتے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ملاکنڈ کے زیادہ تر اضلاع موسمیاتی تبدیلی سے متاثر ہیں جن میں چترال اور سوات سرفہرست ہیں۔

شیئر: