Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

حکومت کا ڈیجیٹل میڈیا قوانین کا ازسرِ نو جائزہ، مقصد کیا ہے؟

حال ہی میں متعدد سوشل میڈیا ایپس اور وی پی این سروسز کی رجسٹریشن کے عمل کا آغاز کیا گیا ہے(فائل فوٹو: پکسابے)
پاکستان کی وزارت اطلاعات ڈیجیٹل میڈیا قوانین پر ازسرنو غور کر رہی ہے اور پہلے سے طے شدہ ضوابط کو نئے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ان کا دوبارہ جائزہ لے رہی ہے۔
پاکستان کی وفاقی حکومت کے ذمہ دار حکام کے مطابق وزارت اطلاعات ڈیجیٹل میڈیا قوانین کے پہلے تیار کیے گئے مسودے کو حالیہ اور مستقبل میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کے مطابق بنانے کے لیے کام کر رہی ہے۔
حکام نے بتایا ہے کہ اس سلسلے میں وزارت اطلاعات کے سائبر ونگ کے ایک اعلیٰ افسر کو ذمہ داری دی گئی ہے کہ وہ موجودہ مسودے کو پڑھ کر اس کا دنیا میں رائج ڈیجیٹل میڈیا قوانین سے موازنہ کریں اور اس موازنے کی روشنی میں ڈیجیٹل میڈیا قوانین کو بہتر بنانے کے لئے سفارشات تیار کریں۔
پاکستان کی وزارت اطلاعات نے حال ہی میں سینٹر آف ڈیجیٹل کمیونیکیشن (سائبر ونگ) کو جدید خطوط پر استوار کیا ہے اور ایک آرکائیوز سینٹر بھی بنایا ہے جس میں ڈیجیٹل ڈیٹا محفوظ بنایا جا رہا ہے۔
اس سلسلے میں متعلقہ حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کی حکومت ڈیجیٹل میڈیا کے لیے جدید قواعد و ضوابط ترتیب دینے کے ساتھ ساتھ اس پر حکومت کی موجودگی بھی بڑھانا چاہتی ہے اور بتدریج اپنی کمیونیکیشن کو ڈیجیٹلائز کرنے کی خواہاں ہے۔
اس وقت سینٹر آف ڈیجیٹل کمیونیکیشن حکومت پاکستان کے ایک گریڈ 20 کے آفیسر کے تحت کام کر رہا ہے اور اس کی عملداری میں روزانہ کی بنیادوں پر سائبر مانیٹرنگ رپورٹس کی تیاری، آن لائن میڈیا مانیٹرنگ، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز ایکس، فیس بک، انسٹاگرام وغیرہ پر شائع ہونے والے مواد کی تجزیہ کاری، حکومتی کارکردگی اور کاموں کی تشہیر، آن لائن تشہیری مواد کی تیاری اور جھوٹی خبروں کی نشاندہی اور خاتمہ کرنا شامل ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ڈیجیٹل کمیونیکیشن ونگ کے ذریعے نہ صرف بڑا ڈیٹا محفوظ بنانا چاہتے ہیں بلکہ اس کو نجی شعبے کے ڈیجیٹل میڈیا سے ہم آہنگ کر کے حکومت کے لیے بھی زیادہ سے زیادہ ڈیجیٹل سپیس حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
وزارت اطلاعات کے حکام کے مطابق وہ ایک ایسی حکمت عملی پر بھی کام کر رہے ہیں جس کے ذریعے حکومت کے اپنے افسران سوشل میڈیا کو مؤثر طریقے سے استعمال کریں گے اور نہ صرف یہ کو وہ افواہوں اور جھوٹی خبروں کو بے نقاب کریں گے بلکہ حکومتی ایجنڈے کو بھی جدید پیشہ وارانہ انداز سے سوشل میڈیا کے تمام پلیٹ فارمز پر پھیلائیں گے۔
Cyber Laws in different countries | by Anany sharma | Medium
حکومت ڈیجیٹل میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کے لیے نگران اتھارٹی اور دیگر کئی پہلوؤں پر بھی کام کر رہی ہے (فائل فوٹو: فری پکس)

اس سلسلے میں وزارت اطلاعات کے زیراہتمام وزیراعظم ڈیجیٹل میڈیا ونگ کے نام سے ایک الگ شعبہ پہلے ہی کام کر رہا ہے جبکہ حکومتی تشہیر کے لیے وفاقی وزیر اطلاعات کی سربراہی میں ایک تھنک ٹینک بھی کام کر رہا ہے جس کے لیے کئی ماہرین نجی شعبے سے حاصل کیے گئے ہیں۔
تاہم حکام کے مطابق قوانین کے دوبارہ جائزے کا عمل ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے اور اس کے مکمل ہونے میں کافی وقت لگ سکتا ہے۔
دوسری طرف حکومت ڈیجیٹل میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کے لیے نگران اتھارٹی اور دیگر کئی پہلوؤں پر بھی کام کر رہی ہے اور حال ہی میں متعدد سوشل میڈیا ایپس اور وی پی این سروسز کی رجسٹریشن کے عمل کا آغاز کیا گیا ہے۔
ان ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی نگرانی اور رجسٹریشن کے لیے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی اور وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کو ذمہ داری دی گئی ہے جبکہ میڈیا فورمز کو پیمرا آرڈیننس 2002 اور پیکا ایکٹ 2016 کی روشنی میں بنائے گئے ضوابط کے تحت ریگولیٹ کرنے کی اطلاعات ہیں۔
اس کے ساتھ ہی حکومت ڈیجیٹل رائٹس پروٹیکشن لا پر بھی کام کر رہی ہے جس کے ذریعے انٹرنیٹ پر بچوں، اور عورتوں کے تحفظ اور صارفین کے حقوق کا تحفظ بھی یقینی بنانے کے لیے کام کیا جائے گا۔

شیئر: