کہتے ہیں مُجرم کتنا ہی شاطر کیوں نہ ہو اپنے پیچھے ایسی لکیر چھوڑ جاتا ہے جس پر چلتے ہوئے قانون پہنچ ہی جاتا ہے۔ وہ بھی نکل تو گیا مگر لکیر چھوڑ گیا جسے دہائیوں تک تفتیشی ادارے پیٹتے رہے۔
کون نکلا ’لکیر کا فقیر‘ اور کس کے ہاتھ میں تھی تقدیر کی گہری لکیر، یہ ایک دلچسپ اور سچا واقعہ ہے جو امریکہ میں پیش آیا۔
جرائم کی تفتیش کرنے والے ادارے ایف بی آئی (فیڈرل بورڈ آف انویسٹی گیشن) کی ویب سائٹ پر اس حوالے سے پوری کہانی بمع تصاویر و تفصیلات کے موجود ہے۔
مزید پڑھیں
-
کون سا جہاز کب اور کہاں گرا؟Node ID: 480596
-
مسافر طیارے کو آگ لگانے کی دھمکی، ہائی جیکر گرفتارNode ID: 551751
ہوا کیا تھا؟
وہ 24 نومبر 1971 کی سہ پہر تھی جب ایک شخص کالے رنگ کا بریف کیس اٹھائے پورٹ لینڈ کے ایئرپورٹ کے کاؤنٹر پر پہنچا اور ڈین کوپر کے نام سے سیاٹل شہر کے لیے ون وے ٹکٹ خریدا۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ وہ ایک سفید فام شخص تھا جس کی عمر 40 کے عشرے میں ہو گی۔ بال کالے اور آنکھیں براؤن تھیں۔ اس نے سفید شرٹ پر کالی ٹائی لگائی ہوئی تھی اور اوپر کوٹ پہنا تھا جبکہ پاؤں میں بھورے رنگ کے جوتے تھے۔
جہاز میں پہنچنے کے بعد وہ اپنی سیٹ پر بیٹھا جو آخری حصے میں تھی اور فلائٹ اٹینڈنٹ سے سیون اپ لانے کا کہا۔

نارتھ ویسٹ اورینٹ ایئرلائن کے اس جہاز میں عملے کے چھ افراد کے علاوہ 36 مسافر سوار تھے۔ جیسے ہی فلائٹ 305 نے اڑان بھری، تو اس شخص نے ڈرنک لانے والی ایئرہوسٹس کو کاغذ کا ایک ٹکڑا تھمایا جس پر ہاتھ سے کچھ لکھا ہوا تھا۔
ایئرہوسٹس سکیفنر کا کہنا تھا کہ وہ ایک بزنس مین لگ رہا تھا جس پر میں سمجھی کہ اس کا ٹیلی فون نمبر ہو گا اور دیکھے بغیر ہی بیگ میں پھینک دیا۔
جس پر کوپر نے ان کی طرف جھکتے ہوئے سرگوشی میں کہا کہ ’بہتر ہے کہ اس نوٹ کو پڑھ لیں۔‘
’میں نے نوٹ پڑھا تو اس پر لکھا تھا، میرے پاس بم ہے، چپ کر کے ساتھ بیٹھ جاؤ۔‘
سکیفنر نے تعمیل کی تو کوپر نے بریف کیس تھوڑا سال کھول کر دکھایا جس میں دو سلینڈر، ایک بیٹری اور ان سے جڑے کچھ تار دکھائی دیے۔
بریف کیس بند کرتے ہوئے حکم دیا کہ ’میرے مطالبات لکھو۔‘ جو اس نے لکھے اور کاغذ کاک پٹ میں جا کر پائلٹ اور عملے دوسرے افراد کو دے دیا۔
کھلبلی مچی، مگر کیپٹن نے سب کو پرسکون اور سکیفنر کو اندر ہی رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے منی سوٹا کے فلائٹ آپریشنز کو ہائی جیکنگ سے آگاہ کر دیا۔

مطالبات کیا تھے؟
مشکوک شخص کی جانب سے چار پیراشوٹ اور دو لاکھ ڈالر مانگے گئے تھے۔ ساتھ یہ دھمکی بھی دی کہ اگر پیراشوٹس میں کوئی مسئلہ ہوا تو جہاز کو ’اڑانے‘ میں دو سیکنڈ بھی نہیں لگیں گے۔
یہ ہدایت بھی کی گئی کہ رقم 20 کے کرنسی نوٹوں کی شکل میں ہو اور ان کی سیریز بھی ایک نہ ہو، جس کا مقصد یقیناً یہی تھا کہ بعد میں سراغ نہ لگایا جا سکے۔
’رقم کا بندوبست ہو گیا‘
ہوابازی کے حکام کی جانب سے یہ پیغام کیپٹن کو ملا تو اس نے اعلان کیا کہ ’ہم ایک تکنیکی خرابی کی وجہ سے قریبی ایئرپورٹ پر لینڈ کرنے والے ہیں۔‘ جو مسافروں کے لیے شاکنگ تھا۔
اس دوران ڈین کوپر نے کیپٹن کو ہدایت کی کہ جہاز ایسی جگہ اتارا جائے جہاں باہر روشنی ہو اور اندر کم سے کم روشنی رکھی جائے اور ایک بار پھر وہی دھمکی دی، جو پہلے بھی کئی بار دے چکا تھا۔
حیران پولیس اور ایف بی آئی کی ہوشیاری

ایک جانب پولیس کو اس بات کی سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ ہائی جیکر نے پیراشوٹ کیوں مانگے ہیں تو دوسری جانب ایف بی آئی نے یہ ہوشیاری کی کہ جو نوٹ دیے جانے تھے، ان پر چھوٹا سا ’ایل‘ لکھ دیا تاکہ بعد میں سراغ لگایا جا سکے۔
محفوظ لینڈنگ، مطمئن ہائی جیکر
بہرحال جہاز محفوظ طور پر لینڈ کر گیا اور ہائی جیکر کی ہدایت کے مطابق اس کے اندر روشنی کم رکھی گئی، ایئرلائن کا ایک ملازم رقم کا بیگ اور پیراشوٹس لے کر پہنچا۔
کوپر نے چیزیں چیک کیں اور مسافروں کو جہاز سے اتر جانے کے لیے کہا تاہم کرییو ارکان سے کہا کہ وہ اندر ہی رہیں اور کیپٹن کو میکسیکو کی طرف اڑان بھرنے کا حکم دیا۔
اس دوران عملہ کاک پٹ میں جبکہ ہائی جیکر اپنی سیٹ پر بیٹھا رہا۔

ایف بی آئی کی جانب سے جاری کی گئی تفصیلات کے مطابق ’سیٹال اور رینو کے بیچ تقریباً آٹھ بجے اچانک اس نے دروازہ کھول دیا اور رقم سمیت چھلانگ لگا دی، پائلٹس جہاز کی محفوظ لینڈنگ میں کامیاب رہے تاہم وہ ہائی جیکر آج تک پراسراریت کی دھند میں ہے۔‘
تیز ترین تحقیقات
واقعے کے دوران ہی شروع ہونے والی تحقیقات کا سلسلہ اس کے بعد بھی تیزی سے آگے بڑھایا جاتا رہا۔
ایف بی آئی کے مطابق ’ہم نے سراغ لگانے کے لیے سینکڑوں لوگوں سے پوچھ گچھ کی جبکہ جہاز کی بھی اچھی طرح جانچ پڑتال کی گئی۔‘
واقعے کے پانچ سال پورے ہونے پر ایف بی آئی نے جو رپورٹ جاری کی اس میں بتایا گیا تھا کہ اب تک 800 کے قریب مشتبہ افراد کو شامل تفتیش کیا جا چکا ہے، تاہم کسی کا لنک ثابت ہوا۔‘
’رچرڈ فلائڈ نامی شخص کو سب سے زیادہ مشکوک سمجھا گیا کیونکہ اس نے بھی ایسی ہی ہائی جیکنگ کی کوشش کی تھی، تاہم وہ اپنی جسمانی ساخت کے لحاظ سے مختلف تھا جبکہ جہاز کے عملے نے بھی شناخت پریڈ میں بتایا کہ وہ کوئی اور تھا۔‘

’وہ مر گیا ہو گا‘
حکام کا خیال ہے کہ ’چھلانگ لگانے کے بعد وہ مر گیا ہو گا کیونکہ اس نے جو کپڑے پہن رکھے تھے وہ پیراشوٹنگ کے لیے موزوں نہیں تھے جبکہ موسم بھی بہت سرد تھا اور نیچے جنگل تھا۔‘
تاہم یہ صرف خیال رہنے کا امکان بھی ہے کیونکہ اگر ایسا ہوا ہوتا تو لاش یقیناً مل جانی چاہیے تھی۔
رقم کہاں گئی؟
تحقیقاتی اداروں کی جانب سے نوٹوں پر ’ایل‘ لکھے جانے کے باوجود کوئی ایسا شخص سامنے نہیں آیا جس نے ایسے نوٹوں سے کچھ خریدنے کی کوشش کی ہو، تاہم اتنا ضرور ہوا تھا کہ 1980 میں جنگل سے ایک لڑکے کو تھیلا ملا تھا جس میں 5800 ڈالر تھے جو 20 کے نوٹوں پر مشتمل تھے اور ان پر ایف بی آئی کا خفیہ اشارہ بھی موجود تھا، تاہم باقی رقم کا کوئی پتہ چل سکا اور نہ ہی کوپر کا۔
جیمز بانڈ یا چھلاوا
جرم کے باوجود بھی امریکہ میں کچھ لوگ کوپر کو کسی لوک داستان کے ہیرو کے طور پر دیکھتے ہیں۔

اے ایف پی کے مطابق تاریخ دان اور محقق ان کو ’جیمز بانڈ جیسے کردار کا حامل‘ قرار دیتے ہیں جبکہ ایک اور محقق کا کہنا ہے کہ ’وہ چھلاوا تھا۔‘
تحقیقات پر تحقیقات
واقعے کے ساتھ شروع ہونے والی تحقیقات کا سلسلہ 2016 میں تب تک چلا جب ایف بی آئی کو لگا کہ اب کیس میں سے کچھ نہیں نکلے گا اور اس کی وجہ سے دوسرے مقدمات پر توجہ متاثر ہو رہی ہے، اس لیے فائل بند کر دی گئی۔
2022 میں ’آئی ایم بی ڈی کوپر‘ کے نام سے ایک ہالی وڈ فلم بھی سامنے آئی، جس کی کہانی اسی ہائی جیکنگ کے واقعے پر مبنی ہے اس میں ریان کوری، کریس برونو، رینی لائلسن اور ٹی جے ریگن نے اداکاری کی ہے۔