Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’انسانی سمگلنگ پر سخت سزائیں اور بھاری جرمانے‘، تین ترمیمی بِل سینیٹ میں پیش

ترمیمی بل کے تحت مہاجرین کی غیرقانونی سمگلنگ کو روکنے کے لیے سخت سزائیں مقرر کی گئی ہیں (فائل فوٹو: شٹرسٹاک)
پاکستان میں انسانی سمگلنگ، ٹریفکنگ اور غیرقانونی امیگریشن کے خلاف کارروائی کو مزید سخت کرنے کے لیے حکومت نے تین اہم ترمیمی بل سینیٹ میں پیش کرکے کمیٹی کے سپرد کر دیے گئے۔
ان ترمیمی بلز میں امیگریشن ترمیمی بل، انسانی ٹریفکنگ کی روک تھام کا ترمیمی بل اور مہاجرین کی سمگلنگ کی روک تھام کا ترمیمی بل شامل ہیں۔
وزیر داخلہ محسن نقوی آج ان بلز کو ایوانِ بالا (سینیٹ) میں پیش کریں گے۔ اردو نیوز کو دستیاب بِلز کے تحت سمگلنگ اور غیرقانونی امیگریشن کے خلاف سخت سزاؤں اور بھاری جرمانوں کا تعین کیا گیا ہے۔
امیگریشن ترمیمی بل کے تحت سزاؤں میں اضافہ تجویز
امیگریشن ترمیمی بل کے تحت غیرقانونی طور پر امیگریشن کرنے یا اس کی کوشش کرنے والے افراد کو سخت سزاؤں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اس بل میں یہ تجویز دی گئی ہے کہ جو شخص غیرقانونی طور پر امیگریشن کرے گا یا اس کی کوشش کرے گا، اسے پانچ سال قید کی سزا دی جائے گی جبکہ اس پر 10 لاکھ روپے کا بھاری جرمانہ بھی عائد کیا جائے گا۔
اس کے علاوہ اگر کوئی شخص دھوکہ دہی سے کسی کو امیگریشن پر آمادہ کرے گا یا اس کے لیے ترغیب دے گا تو اسے بھی قید اور مالی سزا کا سامنا ہوگا۔
امیگریشن میں جعل سازی اور دھوکہ دہی کی روک تھام کے لیے یہ تجویز دی گئی ہے کہ جو بھی شخص جعلی سفری دستاویزات بنائے گا یا اس مقصد کے لیے آلات رکھے گا، اسے 14 برس قید اور 20 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا۔ نشہ آور اشیا، دباؤ یا دھوکہ دہی کے ذریعے کسی کو امیگریشن پر مجبور کرنے کی صورت میں بھی یہی سزا دی جائے گی۔
بِل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بیرون ملک ملازمت کے لیے رقم وصول کرنے والے افراد کو سخت سزائیں دی جائیں گی، جن میں 14 سال تک قید اور 20 لاکھ روپے جرمانہ شامل ہوگا۔
اگر کوئی سمندر پار ملازمت فراہم کرنے والا پروموٹر اضافی چارجز وصول کرے گا، تو اسے بھی 14 برس قید اور 20 لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔ اگر کوئی شخص جو پروموٹر نہیں ہے لیکن بیرون ملک ملازمت کے عوض کسی سے رقم وصول کرتا ہے تو اس پر بھی اتنی ہی سزا لاگو ہوگی۔

بیرون ملک ملازمت کے لیے رقم وصول کرنے والے افراد کو سخت سزائیں دی جائیں گی (فائل فوٹو: اے ایف پی)

انسانی سمگلنگ ناقابلِ راضی نامہ جرم قرار
انسداد انسانی سمگلنگ ترمیمی بل کے تحت خواتین اور بچوں کی سمگلنگ کی روک تھام کے لیے مختلف ترامیم متعارف کرائی جائیں گی۔
اس بل میں انسانی سمگلنگ کی مختلف اقسام کی وضاحت کی گئی ہے، جس میں خاص طور پر جنسی استحصال کو مدنظر رکھا گیا ہے۔
بِل میں جنسی استحصال کی تعریف کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص مالی فوائد حاصل کرنے کے لیے کسی کی کمزوری یا اعتماد کا غلط استعمال کرتا ہے تو یہ جرم تصور کیا جائے گا۔
اس جرم میں ملوث افراد کو سخت سزاؤں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ جو شخص کسی کو جنسی استحصال کے لیے بھرتی کرے، پناہ دے، منتقل کرے یا مہیا کرے، اسے 10 سال قید اور 10 لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔
اگر کسی خاتون یا بچے کو جنسی استحصال کے لیے استعمال کیا گیا تو جرم مزید سنگین تصور کیا جائے گا اور مجرم کو 14 سال قید اور 20 لاکھ روپے جرمانہ بھگتنا ہوگا۔

مجوزہ بل کے مطابق انسانی سمگلنگ کے کیس میں متاثرہ افراد کو کسی بھی طرح جرم میں شریک نہیں سمجھا جائے گا (فائل فوٹو: اے ایف پی)

اس مجوزہ بِل میں واضح کیا گیا ہے کہ کسی متاثرہ شخص کی رضامندی، نابالغ شخص کے سرپرست کی اجازت، یا کسی بھی قسم کی خاموشی کو قانونی جواز نہیں مانا جائے گا، اور اسے دفاع کے طور پر قبول نہیں کیا جائے گا۔
اگر کسی جرم کے نتیجے میں متاثرہ شخص کی موت واقع ہو جائے، وہ شدید بیمار ہو جائے، یا اسے جسمانی نقصان پہنچے، تو مجرم کو مزید سخت سزا دی جائے گی۔
متاثرہ افراد کو قانونی تحفظ فراہم کیا جائے گا، اور انہیں کسی بھی طرح جرم میں شریک نہیں سمجھا جائے گا۔ وہ عدالتی کارروائی میں گواہ کے طور پر شامل ہو سکیں گے۔
انسانی سمگلنگ کو ناقابلِ راضی نامہ جرم قرار دیا گیا ہے، جس کے تحت کسی بھی قسم کے معاہدے یا صلح کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
ترامیم کا مقصد محفوظ امیگریشن کے مواقع کی فراہمی
مہاجرین کی سمگلنگ کی روک تھام کے ترمیمی بل کے تحت مہاجرین کی غیرقانونی سمگلنگ کو روکنے کے لیے سخت سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔
اس بل میں یہ تجویز دی گئی ہے کہ جو کوئی بھی شخص مہاجرین کی سمگلنگ میں ملوث پایا گیا، اسے 10 سال قید اور ایک کروڑ روپے جرمانے کا سامنا ہوگا۔
اگر کوئی فرد مہاجرین کی سمگلنگ کے لیے جعلی دستاویزات تیار کرتا ہے تو اسے 10 سال قید اور پانچ کروڑ روپے جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔
غیرقانونی طور پر رہائش پذیر افراد کو پناہ دینے والے افراد کے لیے بھی سخت سزائیں تجویز کی گئی ہیں، جن کے تحت انہیں پانچ سال قید اور 20 لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ قانون کے موثر نفاذ کے لیے عوام میں آگاہی مہم چلانے کی ضرورت ہوگی (فائل فوٹو: اے ایف پی)

اگر کسی متاثرہ شخص کو دوران سمگلنگ موت کا سامنا کرنا پڑے، وہ سخت بیماری میں مبتلا ہو جائے، زخمی ہو جائے، یا اس کے ساتھ غیرانسانی یا ظالمانہ سلوک کیا جائے، تو مجرم کو 14 سال تک قید کی سزا دی جائے گی جبکہ اس پر ایک کروڑ روپے جرمانہ بھی عائد کیا جائے گا۔
حکومت کا کہنا ہے کہ ان قوانین کا مقصد انسانی سمگلنگ جیسے سنگین جرائم کو جڑ سے ختم کرنا اور شہریوں کو محفوظ امیگریشن کے مواقع فراہم کرنا ہے۔
وزارت داخلہ کے مطابق یہ ترامیم عالمی معیارات کے مطابق کی جا رہی ہیں تاکہ بین الاقوامی برادری کے ساتھ پاکستان کی شراکت داری کو مزید مستحکم کیا جا سکے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ان ترامیم کے موثر نفاذ کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد کار میں اضافہ کرنا ہوگا اور عوام میں آگاہی مہم چلانے کی ضرورت ہوگی تاکہ انسانی سمگلنگ کے مسئلے سے مستقل بنیادوں پر نمٹا جا سکے۔

 

شیئر: