پاکستان کے گروپ مرحلے میں چیمپئنز ٹرافی سے باہر ہونے کے بعد کرکٹ کے دیوانے اس ملک میں مایوسی چھائی ہوئی ہے اور (ٹیم میں) بڑے پیمانے پر تبدیلی کے مطالبات کیے جا رہے ہیں۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پاکستان کو ایک بڑے آئی سی سی ایونٹ کی میزبانی کا جشن مناتے ابھی بمشکل ایک ہفتہ ہی گزرا تھا کہ اس کی ٹیم ٹورنامنٹ سے باہر ہو گئی۔
مزید پڑھیں
-
چیمپئنز ٹرافی: کوہلی کی سینچری، پاکستان کو چھ وکٹوں سے شکستNode ID: 886312
دفاعی چیمپئن پاکستان نیوزی لینڈ کے خلاف اپنا پہلا میچ 60 رنز سے ہار گیا جبکہ اتوار کو اسے اپنی روایتی حریف انڈیا نے چھ وکٹوں سے شکست دے کر ابتدائی مرحلے میں ہی ٹورنامنٹ سے باہر ہونے کے قریب پہنچا دیا۔
پاکستان کے سیمی فائنل میں جانے کی موہوم سی امید کو زندہ رکھنے کے لیے ضروری تھا کہ گذشتہ روز پیر کو بنگلہ دیش نیوزی لینڈ کو ہرا دیتا لیکن ہوا اس کے برعکس۔
اب پاکستان کا جمعرات کو بنگلہ دیش سے میچ کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔
’ہمیں سیاسی بنیادوں کی بجائے میرٹ پر عمل کرنا ہو گا‘
پاکستان کرکٹ ٹیم کی زبوں حالی کے حوالے سے سابق کپتان وسیم اکرم نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم گذشتہ کئی برسوں سے اِن کھلاڑیوں کی حمایت کر رہے ہیں لیکن وہ نہ سیکھ رہے ہیں اور نہ ہی (خود کو) بہتر کر رہے ہیں۔‘
’یہ ایک بڑی تبدیلی کا وقت ہے۔ ہمیں اپنے ڈومیسٹک کرکٹ کے نظام کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم اوسط درجے کے بجائے معیاری کھلاڑی سامنے لا سکیں۔‘

ناقدین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کرکٹ بورڈ، کوچنگ سٹاف اور سلیکشن پینل میں بار بار کی جانے والی تبدیلیوں نے بھی اس کھیل کو متاثر کیا ہے۔
مبصرین کے مطابق ایسی تبدیلیاں میرٹ پر نہیں بلکہ سیاسی بنیادوں پر ہوتی ہیں۔
پاکستان کے سابق کپتان راشد لطیف نے کہا کہ ’میں پاکستان کرکٹ کی حالت سے بہت مایوس ہوں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں سیاسی بنیادوں کی بجائے میرٹ پر عمل کرنا ہو گا اور کرکٹ انتظامیہ میں پیشہ ور افراد کو لانا ہو گا۔‘
’پاکستان کرکٹ بورڈ اور سلیکشن کمیٹی میں مسلسل تبدیلیاں اور کپتان کا بار بار بدلنا ہمیں مناسب سیٹ اپ اور ٹیم بنانے میں ناکام کر رہا ہے۔‘
’لگتا ہے پاکستان میں کرکٹ مر چکی ہے‘
گرین شرٹس کا آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی 2025 سے ابتدائی مرحلے میں باہر ہو جانا ملک کے لیے ایک جھٹکے سے کم نہیں ہے کیونکہ سکیورٹی میں بہت زیادہ بہتری کے بعد 29 سال بعد پاکستان میں کوئی آئی سی سی ایونٹ ہو رہا ہے۔
راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے 26 سالہ فارمسسٹ عمر سراج نے اے ایف پی بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم پرجوش تھے کہ آخرکار ایک بین الاقوامی ایونٹ ہمارے ملک میں واپس آ گیا ہے، لیکن یہ خوشی چھوٹی سی رہی۔‘

انہوں نے کہا کہ ’پاکستانی فین ہونے کے ناطے سب سے مشکل حصہ یہ ہے کہ آپ دوسری ٹیموں کے ہارنے کے لیے دعا کرتے ہیں، یہ تکلیف دہ ہے۔ میں تھک گیا ہوں۔‘
46 سالہ نسیم ستی کا پاکستان کرکٹ ٹیم کی کارکردگی کے حوالے سے کہنا تھا کہ ’یہ مایوس کن ہے کہ انہوں نے مقابلہ تک نہیں کیا۔‘
’ہمارے پاس معیاری بولرز نہیں، کوئی قابل اعتماد بلے باز نہیں اور ایسا لگتا ہے کہ پاکستان میں کرکٹ مر چکی ہے۔‘