پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع کرم سے تعلق رکھنے والے 10 برس کے محمد حسنین پھیپھڑوں کے مرض کے علاج کے لیے واہگہ بارڈر کے راستے انڈیا پہنچ چکے ہیں۔
وہاں ان کا معائنہ میکس سوپر سپشیلٹی ہسپتال دہلی میں کیا جا رہا ہے۔
محمد حسنین نے دورانِ علاج بالی وُڈ کے تین بڑے سٹارز سے ملنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ ’وہ شاہ رخ خان، سلمان خان اور عامر خان کے بہت بڑے مداح ہیں۔‘
مزید پڑھیں
-
پاکستانی بچہ جو دس معروف انٹرنیشنل بولرز کا سٹائل اپنا سکتا ہےNode ID: 723876
-
انڈین پنجاب کا وہ گاؤں جو پاکستان میں شامل ہونا چاہتا ہےNode ID: 861686
انہوں نے مزید بتایا کہ ’میں علاج کے لیے پشاور سے آیا ہوں مگر میری آرزو ہے کہ تینوں خانز سے ملاقات کروں۔ والدین میرے ساتھ نہیں آ سکے، میں ان کو بہت یاد کر رہا ہوں۔‘
انہوں نے سب سے دعاؤں کی اپیل کی اور کہا کہ ان کا علاج جاری ہے اور بہت جلد آپریشن کے لیے ان کا نمبر آ جائے گا۔
حسنین کو کون سی بیماری لاحق ہے؟
ضلع کرم کے بچے کے علاج کے لیے سوشل میڈیا پر آواز بلند کرنے والے سماجی ورکر احسان نسیم مریض بچے کے ساتھ دہلی میں موجود ہیں۔
احسان نسیم نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’بچے کو پلمونری ہائپرٹینشن نامی پھیپھڑوں کی بیماری لاحق ہے جس کی وجہ سے سانس لینے میں دِقت ہوتی ہے۔ اس بیماری میں دل کا دایاں حصہ بھی متاثر ہوتا ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’چار دن قبل بچے کو دہلی کے میکس ہسپتال میں داخل کروایا گیا ہے جو ٹرانسپلانٹ کے جدید طریقوں کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہے۔‘
سماجی ورکر احسان نسیم کے مطابق حسنین کے والد دبئی میں مزدوری کرتے ہیں اور اس کی والدہ شوگر کی مریض ہیں جس کے باعث بچے کے ہمراہ اُس کے چچا اور وہ (احسان نسیم) انڈیا آئے ہیں۔
بچے کے علاج پر کتنا خرچ آئے گا؟
دہلی کے میکس ہسپتال میں زیرِعلاج محمد حسنین کو ڈاکٹروں نے پھیپھڑوں کے ٹرانسپلانٹ کی تجویز دی ہے جس کے لیے ابتدائی ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔

سماجی کارکن احسان نسیم کے مطابق 8 ماہ پہلے حسنین کے علاج کے لیے سوشل میڈیا پر مہم چلائی گئی جس پر نوٹس لیتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین خان گنڈاپور نے بچے کے علاج کے لیے 25 لاکھ روپے جاری کیے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ٹرانسپلانٹ کی رجسٹریشن کے لیے 12 ہزار سے 15 ہزار ڈالر تک مزید درکار ہوں گے۔‘
’پیسے ہسپتال میں جمع ہونے کے بعد محمد حسنین کا نام دہلی کے محکمۂ صحت کی ویٹنگ لسٹ میں شامل ہو جائے گا جس کے بعد ٹرانسپلانٹ کے لیے حسنین کو دوبارہ پاکستان سے بلایا جائے گا۔‘
احسان نسیم نے خیبرپختونخوا کی حکومت سے اپیل کی کہ حسنین کے علاج کے لیے اگر وزیراعلیٰ کی جانب سے مزید پیسے دے دیے جائیں تو ٹرانسپلانٹ کا عمل جلد شروع کیا جاسکتا ہے۔‘
محمد حسنین کا تعلق خیبرپختونخوا کے قبائلی ضلع کرم سے ہے جہاں امن و امان کی سنگین صورتِ حال کی وجہ سے گزشتہ تین ماہ سے آمد و رفت بند اور معمولات زندگی معطل ہیں۔