Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کہانی ٹیم پاکستان کے سپر سٹارز کی! اجمل جامی کا کالم

پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان ٹاس بارش کے باعث تاخیر کا شکار ہوا۔ (فوٹو: اے ایف پی)
نیوزی لینڈ اور انڈیا کے ہاتھوں شرمناک شکست کے بعد ٹیم پاکستان کے ہاں اندر کھاتے کیا چل رہا ہوگا بھلا؟ مایوس کن کارکردگی کا دیانتداری کے ساتھ پوسٹ مارٹم؟  ٹاپ سے باٹم تک ذمہ داری کا تعین؟ غیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے استعفے؟
سو کالڈ سٹارز اپنی کرتوت بہتر کرنے کے لیے بھلا ڈومیسٹک کھیلنے کا سوچ رہے ہوں گے؟ سلیکشن کمیٹی معذرت کرتے ہوئے عہدے چھوڑنے پر غور کر رہی ہوگی؟ کپتان اور دیگر پسند نا پسند کے فیصلوں پر رنجیدہ ہوں گے؟ پرچی کھلاڑی فون کے ذریعے ٹیم میں شمولیت پر نادم ہوئے ہوں گے؟ سپر سٹار اپنے مینٹورز کے ساتھ بات کرکے افسردہ ہوئے ہوں گے؟ فارم کی بحالی کے لیے دنیا بھر کے ماہرین اور خیر خواہ سینیئرز کے ساتھ رابطوں میں مصروف ہوں گے؟
سوشل میڈیا کے ذریعے کروڑوں شائقین سے معذرت کے طلبگار ہونے کے خواہشمند ہوں گے؟ کوہلی کے ڈائٹ پلان اور سُپرفٹ ہونے کا نسخہ ڈھونڈ رہے ہوں گے؟ انڈین کرکٹ کے بھرپور عروج کے پیچھے چھپے راز جاننے کی کوشش کر رہے ہوں گے؟ سنیل گواسکر، سدھو، وسیم اکرم، ہربھجن سنگھ، راشد لطیف، شعیب اختر یا خاکسار ایسے دل جلوں کے مشوروں کو سنجیدگی سے لے رہے ہوں گے؟ جواب ڈھونڈنے سے پہلے ذرا کچھ دیر ٹھہریے۔
انگلینڈ کا نامور بلے باز جوناتھن ٹروٹ بھرپور فارم میں تھا، مچل جانسن نے 2012 یا 13 کی ایشز کے ہنگام لمبی لمبی موچھیں رکھیں اور آسٹریلینز نے انگلینڈ کا بیڑہ غرق کر دیا، ٹروٹ نے نفسیاتی دباؤ محسوس کیا، ایشز سے دستبرداری کا اعلان کر دیا۔ 15، 17 ماہ بعد کم بیک کیا، ویسٹ انڈیز کے خلاف تین ٹیسٹ میچ کی سیریز تھی، اوپنر کے طور پر قسمت آزمائی، ناکامی ہوئی، پانچ اننگز میں تین بار صفر پر آؤٹ ہوا، سیریز  میں ایک بار بھی ڈبل فگر رنز نصیب نہ ہوئے، پھر کیا تھا؟ فوراً ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا۔
قصہ یہ اہم نہیں کہ ٹروٹ ناکام ہوا یا ریٹائر ہو گیا، کہانی یہ ہے کہ موصوف نے ریٹائرمنٹ کا اعلان کرتے ہوئے جو جملے ادا کیے وہ انتہائی تاریخی اور کھیل سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے سند تھے۔
جوناتھن نے کہا کہ ریٹائرمنٹ یقیناً ایک مشکل فیصلہ ہوتا ہے، لیکن سچ یہ ہے کہ بطور کھلاڑی میری پرفارمنس وہ نہیں رہی جو ٹیم انگلینڈ کی نمائندگی کرتے ہوئے ہونی چاہیے۔ بس یہی جان لینا میرے لیے کافی ہے، اس کا ادراک ہوا تو محض چند لمحوں میں یہ فیصلہ آسان ہوا اور اس کا اعلان کرتے ہوئے اب آسانی محسوس ہو رہی ہے۔‘

انڈیا سے شکست کے بعد پاکستان چیمپئنز ٹرافی سے باہر ہو گیا تھا۔ (فوٹو: اے ایف پی)

وہ چاہتا تو ابھی چار پانچ برس مزید کرکٹ کھیل سکتا تھا، 52 ٹیسٹ کھیل رکھے تھے، 9 سنچریاں اور دو ڈبل سنچریاں سکور کر رکھی تھیں مگر نہیں، جیسے ہی اسے ادراک ہوا، اس نے ٹیم میں اپنی جگہ چھوڑی اور چل دیا۔
 ٹروٹ نے ’ان گارڈڈ‘ کے عنوان سے آٹو بائیو گرافی بھی لکھی۔ بچپن سے لے کر بحیثیت کرکٹر عروج و زوال کی داستان رقم کی۔ کرکٹ کیوں چھوڑی، اور ان مسائل سے نبرد آزما ہو کر اس نے اپنی زندگی کیسے بدلی، نفسیاتی دباؤ سے جان کیسے چھڑائی، دنیا کا بہترین کوچ بننے کا خیال کیسے آیا؟ اس کے پیچھے چھپی کہانی رقم کی۔
یاد دہانی کے لیے عرض ہے کہ ٹروٹ ان دنوں ٹیم افغانستان کے ساتھ ہوتے ہیں۔ وہی افغانستان جس نے انگلینڈ کو تگنی کا ناچ نچایا۔ وہی افغانستان جو کئی میچوں میں آخری دموں پر جا کر میچ ہار جایا کرتا تھا۔ کیوں بھلا؟ ٹیم نئی تھی، بین الاقوامی ایکسپوژر کم تھا، ٹیم سنسنی خیز مقابلوں میں تگڑی نفسیات کا مظاہرہ کرنے سے قاصر ہوا کرتی تھی۔ اور اب؟ اب یہی ٹیم انگلینڈ جیسی تگڑی ٹیم کو قذافی سٹیڈیم لاہور میں تاریخی شکست سے دوچار کرکے چیمپئنز ٹرافی سے باہر کرنے کا اعزاز اپنے نام لیے پھرتی ہے۔  قومی ٹیم کی شکست و ریخت کی کہانی ایسی ہے کہ قلم رکنے کا نام نہیں لے رہا اور بات کہاں سے کہاں جا نکلتی ہے، جس پہلو پر نظر دوڑائیں گہرے گڑھے اور اندھے کنوئیں دکھائی دیتے ہیں۔

افغانستان نے سنسنی خیز مقابلے کے بعد میچ میں انگلینڈ کو ہرا کر ٹورنامنٹ کا بڑا اپ سیٹ کیا۔ (فوٹو: اے ایف پی)

آپ سوچ سکتے ہیں کہ گروپ کے آخری میچ میں جب موسم خراب ہونے کی جانکاری ملی تو ٹیم پاکستان کے مہان کھلاڑیوں میں سے اکثر سپر سٹارز ایک دوسرے کے ساتھ کیا کُھسَر پُھسَر کر رہے تھے؟ اللہ کرے موسم کلئیر ہو جائے؟ آج کچھ رنز کرنے ہیں تاکہ اعتماد بحال ہو؟ ساکھ مجروح ہے، آج بے خوف کھیلتے ہیں؟
انڈیا اور نیوزی لینڈ کے ہاتھوں ہزیمت کے بعد کچھ تو کیا ایسا ہو کہ تھکے ہارے چہرے تھوڑی دیر کے لیے مسکرا اٹھیں؟ سینیئرز کو ریسٹ دے کر تمام وہ کھلاڑی جنہیں موقع نہ ملا، انہیں چانس دیا جائے؟ کیا خیال ہے؟ کیا گفتگو ہوئی ہوگی؟ قریبی رفقا کے ساتھ ایک دوجے کو مورد الزام ٹھہرانے کے ساتھ ساتھ کن خدشات کا اظہار کیا گیا ہوگا؟  تُکا لگا سکتے ہیں کیا؟ چلیے کچھ تو سوچیے ناں!
اگر ذہن سوچنے سمجھنے سے ماؤف ہو چکا ہو تو لیجیے آپ کی مدد کیے دیتے ہیں۔ ہمارے مہان کھلاڑی اک دوجے کے کانوں میں کہہ رہے تھے کہ اللہ کرے موسم یوں ہی رہے۔ میچ ہی نہ ہو۔ 
اب آپ ہی بتلائیں اس مائنڈ سیٹ کے ساتھ یہ کھلاڑی بھلا خاک پرفارم کریں گے؟

 

شیئر: