Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بلوچستان: تمام سینیٹ نشستوں پر بلامقابلہ انتخاب، ایمل ولی، انوار کاکڑ بھی منتخب

نئے منتخب ہونے والوں میں آغا شاہ زیب درانی،سیدال خان ناصر، محمد عمر گورگیج اور دیگر شامل ہیں (فوٹو: اے ایف پی)
سابق نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ اور ایمل ولی خان سمیت بلوچستان میں سینیٹ کی تمام 11 خالی نشستوں پر امیدواروں کا بلامقابلہ انتخاب ہو گیا ہے۔
بلوچستان اسمبلی میں موجود تمام جماعتوں کے اتفاق رائے کے بعد پیپلز پارٹی اور ملسم لیگ ن کو تین، تین، جمعیت علما اسلام کو دو نشستیں مل گئیں۔ نیشنل پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کا ایک ایک سینیٹر منتخب ہوا۔ 
انوار الحق کاکڑ آزاد حیثیت سے کامیاب ہوئے ہیں تاہم انہیں بلوچستان عوامی پارٹی کی حمایت حاصل تھی۔
الیکشن کمیشن کے مطابق بلوچستان کے لیے مختص سینیٹ کی 11 خالی نشستوں پر انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرانے والے 33 امیدواروں میں سے 22 امیدوار دستبرار یا ریٹائرڈ ہو گئے۔ 
صوبائی الیکشن کمشنر محمد فرید آفریدی کے مطابق جنرل کی سات، علما و ٹیکنوکریٹ کی دو اور خواتین کی دو نشستوں پر امیدوار اور نشستیں برابر ہونے کے بعد انہیں بلامقابلہ منتخب قرار دے دیا گیا ہے۔ 
جنرل نشستوں پر منتخب ہونے والوں میں مسلم لیگ نواز کے آغا شاہ زیب درانی اور سیدال خان ناصر، پیپلز پارٹی کے سردار محمد عمر گورگیج، جمعیت علماء اسلام کے احمد خان، آزاد امیدوار سابق نگراں وزیراعظم انوارالحق کاکڑ، عوامی نیشنل پارٹی کے ایمل ولی خان، نیشنل پارٹی کے جان محمد بلیدی شامل ہیں۔
جبکہ خواتین کی دو نشستوں پر ن لیگ کی راحت جمالی اور پیپلز پارٹی کی حسنہ بانو ایوان بالا کی ممبر بنی ہیں۔
صوبائی الیکشن کمیشن کے مطابق ٹیکنوکریٹ اور علما کے لیے مختص دو نشستوں پر ن لیگ کے محمد مصلح الدین بھی جمعہ کو ریٹائرڈ ہو گئے اس طرح جمعیت علما اسلام کے مولانا عبدالواسع پیپلز پارٹی کے شیخ بلال احمد خان مندوخیل بھی بلامقابلہ سینیٹر بن گئے ہیں۔  
 اس طرح بلوچستان سے پہلی بار تمام 11 سینیٹر پہلی بار بلامقابلہ منتخب ہوئے ہیں اور پولنگ تک نوبت نہیں پہنچی۔ 
امیدواروں کو بلامقابلہ منتخب کرانے کے لیے بلوچستان اسمبلی میں وجود رکھنے والی پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن اور جمعیت علما اسلام سمیت تمام نو جماعتوں اور واحد آزاد ایم پی اے نے اتفاق رائے کیا تھا اور پارٹیوں کی بلوچستان اسمبلی میں عددی حیثیت کے حساب سے فارمولہ طے کیا تھا۔
تاہم کچھ جماعتوں کو ارکان کم ہونے کے باوجود ایڈجسٹ کیا گیا۔

شیئر: