مشہور تابعی حضرت سفیان ثوریؒ نے حضرت جعفر بن محمد الصادقؒ سے جو خانوادۂ نبوت کے چشم و چراغ تھے، وقوف عرفہ اور بعض دوسرے اعمال حج کی حکمت کے بارے میں سوال کیا جبکہ وہ دونوں میدان عرفہ ہی میں تھے۔ حضرت جعفر صادقؒ نے جو عمدہ اور حکیمانہ جواب دیا ، اسے علامہ ذہبیؒ نے’’ سیر اعلام النبلاء ‘‘میں نقل کیا ہے۔ حضرت سفیان ثوریؒ نے دریافت کیا کہ اے نواسۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم موقف (جائے وقوف ) کو حرم سے باہر کیوں رکھا گیا ؟ مشعر حرام ( حدود و حرم ) میں کیوں نہیں رکھا گیا ؟۔ یعنی اس میں کیا حکمت ہے کہ حاجیوں کو حدود حرم سے باہر ٹھہرایا گیا ؟ ۔ حضرت جعفرؒ نے فرمایا کہ کعبہ مشرفہ اﷲ کا گھر ہے ، حرم اس کا حجاب ہے اور موقف اس کا دروازہ ( یعنی حرم کا باب الداخلہ ) ہے۔
جب زائرینِ حرم نے کعبہ مشرفہ کی زیارت اور حاضری کا قصد و ارادہ کیا تو انہیں دروازہ ( باب الداخلہ ) پر روک دیا گیا کہ وہ خوب گریہ و زاری کریں ، پروردگار سے گناہوں کی معافی مانگ کر حاضری اور شرفِ بار یابی کی التجا کریں پھر انہیں حرم میں داخل ہونے کی اجازت ملی تو وہ دوسرے دروازہ کے قریب ہوئے جو کہ مزدلفہ ( مشعر حرام ) ہے ، پھر جب وہاں بھی خوب گریہ وزاری کی اور توبہ و انابت میں کوئی کمی نہ کی تب انہیں قربانی پیش کرنے کا حکم ہوا ۔ جب انہوں نے قربانی پیش کی ، اپنے بال اُتار کر عجز و درماندگی اور تذلل کا پیکر بن گئے ، نیز گناہوں سے پاک صاف ہوگئے جو کہ ان کے اور پروردگار کے درمیان حجاب تھے ، تب انہیں صفائی و طہارت پر پروردگار کے گھر خانہ کعبہ حاضر ہونے کی اجازت ملی ۔
حضرت سفیان ثوریؒ نے پھر سوال کیا کہ ایام تشریق میں روزہ رکھنے سے کیوں روکا گیا ؟ فرمایا اس لئے کہ وہ ( یعنی زائرینِ حرم ) اﷲ کی ضیافت اور مہمانی میں ہوتے ہیں ، مہمان کو زیب نہیں دیتا کہ میزبان کے پاس اس کی اجازت کے بغیر روزہ رکھے۔ پوچھا کہ لوگ کیوں غلاف ِکعبہ سے چمٹتے ہیں جبکہ یہ کپڑے کا ٹکڑا ہے جو کوئی نفع نہیں پہنچاسکتا ؟ فرمایا اس کی مثال گویا ایسی ہے کہ غلام نے کوئی جرم کیا پھر آقا کا دامن تھام کر اس سے چمٹ گیا ، اس اُمید میں کہ اس اظہار ندامت پر اسے معافی مل جائے اور اس کی غلطی سے درگزر کیا جائے ۔ مشہور صاحب ِعلم حافظ ابن قیمؒ کہتے ہیں کہ یوم النحر ( ۰۱؍ ذوالحجہ ) یوم الوفادۃ و یوم الزیارہ( یعنی حاضری اور شرف باریابی کا دن) ہوتا ہے۔ حج کے زیادہ افعال اسی دن ادا ہوتے ہیں ، اس دن حاجی جمرات پر کنکریاں مارکر شیطان سے بے تعلقی اور بغض و عداوت کو ظاہر کرتا ہے ، جو انسان کو اﷲ کے قرب سے روکنے والا حقیقی دشمن ہے ، پھر حاجی پروردگار کے لئے قربانی کا نذرانہ پیش کرتا ہے ، اپنے سر سے بال اُتارکر گندگی و میل کچیل دور کرکے ، نہا دھوکر اور صاف ستھرے کپڑے پہن کر رب ذوالجلال کے مقدس گھر خانہ کعبہ میں حاضری دیتا اور اس گھر کا طواف کرتا ہے۔ اسی زیارت اور حاضری کی مناسبت سے اس طواف کا نام بھی ’’ طوافِ زیارۃ ‘‘ ہے۔
اس سے قبل عرفہ کا وقوف اور اس دن پروردگار کی خوب حمد و ثنا ، گریہ و زاری کے ساتھ اس کی طرف رجوع اور توبہ استغفار کی کثرت یوم الزیارہ کے لئے غسل اور طہارت و پاکیزگی حاصل کرنے کی طرح ہے۔ گویا یومِ عرفہ کو بندے خوب توبہ استغفار کرکے گناہوں سے پاک ہوگئے ، تب پروردگار نے یوم النحر کو شرف باریابی اور اس کے مقدس گھر میں حاضری کی انہیں اجازت دے دی ۔
******