Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

غصہ پی جانا ،لوگوں کو معاف کردینا، مومن کی نمایاں صفات

مومنین خوشحالی اورتنگ دستی میں اپناعزیز مال اللہ تعالیٰ کی رضا کیلئے خرچ کرتے ہیں،یہ کمال تقویٰ کی علا مت ہے
* * *    حافظ محمد ہاشم صدیقی۔ جمشید پور،ہند* * *
اللہ تعا لیٰ کی تمام مخلو ق میں انسان کو اشرف المخلو قات ہو نے کا شرف ملا جیسا کہ ارشاد ربانی ہے:
    ’’بیشک ہم نے آدمی کو اچھی صورت پر بنا یا۔‘‘(التین4)۔
    مو لائے رحیم نے موت وزند گی اس لئے عطا فر ما ئی کہ وہ انسا نوں کو آز مائے کہ کس کے اعمال اچھے ہیں۔جن انسا نوں کواللہ تعالیٰ نے ایمان کی دولت سے نوازا اُنکی قسمت ،عزت وقار کے کیا کہنے۔ رب العزت فر مارہا ہے:
    ’’اور عزت تو اللہ اور اس کے رسول() اور مسلما نوں کے لئے ہے مگر منا فقوں کو خبر نہیں۔‘‘( المنا فقون8)۔
    اللہ رب العزت نے ایمان والوں کو عزت سے سر فراز کیااور انسانوں کو بھی عزت بخشی، فرما یا:
    ’’اور بیشک ہم نے اولاد ِآدم کو عزت دی اور ان کو خشکی اور تری کی سوار یاں دیںاور ان کو ستھری چیز یں، روزی دی اور ان کو اپنی بہت مخلو ق سے افضل کیا ۔‘‘(بنی اسر ائیل70)۔
    اللہ رب ا لعزت نے جہاں انسا نوں کی خوبیاں بیان فرمائیں وہیں انسانوں میں جو متقین مومنین ہیں ان کی پہچان بتائی، انکی خو بیاں بھی بیان فر مائیں اور ان پر جو انعا مات کی با رشیں فرما ئے گا اس کا بھی اعلان فر مایا۔
    اللہ تعالیٰ نے انسا نوں اور جنوں کو اپنی عبا دت کے لئے پیدا فر ما یا اور زندگی کے ہر قدم پر ہر حال میں خدائی قا نون کی پا بندی کا حکم بھی دیا تاکہ انسان کا ہر فعل اس طریقہ کے مطا بق ہو جو اللہ تعا لیٰ نے بتا یا ہے، اس کے بتا ئے ہو ئے طریقے پر عمل کریں گے تو پوری کی پوری زند گی عبادت ہو گی۔کھا نا ،پینا، سونا، جاگنا ، معا ملات میں   اللہ تعا لیٰ کے حکم کی پا بندی کر نا سب کا سب عبا دت میں شما ر ہو گا۔ خاص کر معاشرتی زند گی میں جو بھی معا ملہ در پیش آئے اللہ اور اسکے رسول  کے بتا ئے ہو ئے طریقے پر چلنے پر اللہ تعا لیٰ کی فر ما ںبر داری کا انعام بھی ملے گا ۔اللہ تعالیٰ نے انعام کا اعلان بھی فر ما یا اور یہ بھی بتایاکہ یہ انعام کن لو گوں کو عطا کیا جا ئے گا :
    ’’اور اللہ اور رسول( )کی فر ماں برداری کر تے رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے اور اپنے رب کی بخشش اور اس جنت کی طرف تیزی سے بڑھو جس کی وسعت میں آسمان اور زمین آجا تے ہیں،جو پر ہیز گا روں کے لئے تیار کی گئی ہے،یہ وہ لوگ ہیں جو فراخی اور تنگی(دونوں حا لتوں) میں خرچ کرتے ہیں اور غصہ پینے وا لے اورلوگوں سے درگز رکر نیوالے ، اور نیک لوگ اللہ کے محبوب ہیں۔‘‘(آل عمران134-132)۔
    اللہ رب العزت یہاں متقین مومنین کی صفات و کردار(character) بیان فر ما رہا ہے جن کے لئے جنت کی بہا ریں چشم براہ (انتظار میں بے قرار) ہیں۔
    «  انکی پہلی صفت(quality)یہ ہے کہ وہ خوشحالی میں اورتنگ دستی، مالی محتا جی میں اپناعزیز مال اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لئے خرچ کرتے ہیں۔ایسا کر نا کمال تقویٰ کی وا ضح علا مت ہے۔اس صفت کو سب سے پہلے ذکرکیاگیا کیو نکہ اس میں صدقہ ہے اپنا مال دوسرے کو دینا ہے ۔
    «  ’’کَظَمَ غیظ‘‘مومن کی دوسری صفت ہے۔غیظ(شدید غصہ)شدتِ غضب کواور’’ کَظَمَ‘‘بھری ہوئی مشک کے باندھنے کو کہتے ہیں۔ کبھی کبھی ایسے نا پسندیدہ کام یابات ہو جا تی ہے جس سے انسان بہت زیادہ غصہ ہو جاتا ہے۔ ایسے حال میں اپنے غصہ کو پی جانا بے شک بڑی ہمت کا کام ہے۔حدیث پاک کی روایتوں میں ہے، اللہ رب ا لعز ت فرما تاہے:
    ــ’’اے ابن آدم! اگر غصے کے وقت تُومجھے یادرکھے گا (یعنی میرا حکم ما ن کر غصہ پی جا ئے گا) تو میں بھی اپنے غصے کے وقت تجھے یاد رکھوں گا (یعنی ہلاکت کے وقت تجھے ہلا کت سے بچا لوں گا)‘‘(ابن ابی حاتم)۔
    دوسری حدیث میں ہے، رسو ل اللہنے فرما یا:
     ’’جوشخص اپنا غصہ روک لے، اللہ تعالیٰ اس پر سے اپنا عذاب ہٹا لیتا ہے اور جو شخص اپنی زبان(خلاف شرع با توں سے) روک لے اللہ تعالیٰ اس کی پر دہ پوشی کرے گا اور جو شخص اللہ تعا لیٰ کی طرف معذ رت لے جائیگا اللہ تعالیٰ اس کا عذ ر قبول کر ے گا۔‘‘(مسند ابو یعلٰی)۔
     «  مو من کی تیسری صفت اللہ تعا لیٰ نے ’’عفو‘‘بیان فر مائی۔ ’’عفو‘‘(معاف کرنا درگزرکرنا)۔عفو کہتے ہیں با وجود طا قت کے کسی انسان کی خطااورنقصان پہچا نے پر خا موش ہی نہ رہے بلکہ دل سے اسے معاف کردے ۔ھُوَا لتجا فی عن ذنب مع القد رۃ علیہ ۔
    یہ  چیز’’کَظَمَ غیظ ‘‘سے اعلیٰ ہے ۔اللہ رب ا لعزت کا فرمان ہے :
    ’’اور بیشک جس نے صبر کیا اوربخش دیا تو یہ ضر ور ہمت کے کام ہیں۔‘‘(  شوریٰ43)۔
    «  چو تھی صفت احسان ہے۔یہ مرتبہ پہلے تمام مرا تب سے بلند تر ہے کہ انسان دشمن سے بدلہ بھی نہ لے ،اسے معاف بھی کر دے صرف معاف ہی نہ کرے بلکہ اس پر احسان ( مہر با نی کا بر تاؤ،اچھاسلوک)بھی کرے۔
    «  مو من کی پانچویں صفت طلبِ مغفرت ہے ۔ انسان خطا و نسیان کا مجمو عہ ہے۔ اس سے گناہ سر زد ہو جا ئے تو فو رًا احسا س ندا مت سے جھک جائے یہ جا نتے ہو ئے کہ غلطیوں کو معاف فرما نے والااور گنا ہوں کو بخشنے وا لا اللہ تعا لیٰ ہے۔ ارشاد با ری تعا لیٰ ہے:
    ’’مگر وہ جو تو بہ کریں اور ظا ہر کریں تو میں انکی تو بہ قبول فر ماؤں گا اور میں ہی ہوں بڑا تو بہ قبول فر ما نے وا لا مہربان۔‘‘(البقر ہ 160) ۔
    جو اللہ کے حضور میں نہا یت عاجزی سے گناہوں کی معا فی کی در خواست کر تے ہیں ان کی یہ حقیقی،اصل توبہ ہو تی ہے۔ ایسا نہیں ہو تاکہ ان کی زبان تو استغفراللہ کے وِرد میں مصروف ہو اور وہ اپنے عمل سے استغفار کا مذاق اڑا رہے ہوں۔آج ہما رے معاشرے میں در گزر کر نے ،معاف کر نے کی عادت تقر یباًختم ہو تی جا رہی ہے ۔
    ذراذرا سی بات پر غصہ ہو نا اور کہنا کہ ہم اسے زندگی بھر معاف نہیں کریں گے، بات نہیں کریں گے عام سی بات ہو گئی ہے۔ افسوس اور تشویش اس پر ہے کہ اس میں خواص بھی شا مل ہیں(چند کوچھوڑکر)۔
    علمائے کرام، پیرانِ عظام کے چہروں پر تیو ریاں چڑھی رہتی ہیں اور اپنے مخا لفین پر بر سر عام اسٹیجوں پربھی لعن طعن کر تے رہتے ہیں، عوام پر اس کا غلط اثر ہو رہا ہے۔ معا فی اور در گز سے کام نہیں لیتے جبکہ اپنے معاملے میں چا ہتے ہیں کہ اللہ انہیں معاف فر ما دے ،اللہ تعالیٰ فر ما رہا ہے:
    ’’اور قسم نہ کھائیں وہ جو تم میں فضیلت والے ہیں اور گنجا ئش والے ہیں، قرا بت وا لوں اور مسکینوں اور اللہ کی راہ میں ہجرت کر نے والوں کو دینے کی،اور چا ہئے کہ معاف کریں اور در گزر کریں، کیا تم نہیں چاہتے  کہ اللہ تمہاری بخشش کرے ،اور اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہر بان ہے۔‘‘( النور22) ۔
    اللہ تعالیٰ سے سبھی چاہتے ہیں کی وہ ہما رے گناہوں اور خطا ؤں کو معاف فر مادے،اور وہ رحیم وکریم معاف فرماتاہے لیکن مو من بندوں کی جو صفات اللہ تعالیٰ نے بیان فر ما ئی’’ غصہ کو پی جا نے والے‘‘،(وہ خوبی) اپنے اندر نہیں پیدا کر تے۔ ذرا سینے پر ہاتھ رکھ کر سو چیں کہ ہم کہاں ہیں؟اپنے مجرم کو معاف کر نا،ظالم کو معاف کر نا ،کسی نے گالی دی اُسے معاف کر دینا،کسی نے ما را اسے بخش دیا ،حا لا نکہ نفس بدلہ لینے کا تقا ضا کر تا ہے۔اسکے ساتھ نیکی کا عمل کر نا،اچھا سلوک کرنا، مہر با نی کا بر تاؤکر نا،یہ بہت دل وجگر کا کام ہے۔
    اسے مار نا بہا دری ہے لیکن اسے معاف کردینا نفس کو مغلوب کر دینا سب سے بڑی بہادری ہے۔ ہزا روں دین کے دشمنوں کو مار نا آسان ہے، نفسِ اما رہ کو ما رنا بہت مشکل ہے۔ نفس گنا ہوں پر آما دہ کر نے والا،بہت حکم کر نے والاہے لیکن اس کے بر عکس دشمن کے ساتھ نیکی کا عمل کر نا،اچھا سلوک کرنا، مہر بانی کا بر تائو کرنا،یہ بہت ہمت کے کام ہیں ۔
    اللہ تعالیٰ تما م مسلمانوں کو اپنے اند ر یہ صفت پیدا کر نے اور عمل کرنے کی تو فیق عطا فر مائے۔ آمین ثم آمین۔
 

شیئر: