دنیا کو کشمیر میں ہندوستانی ظلم و ستم ، بلوچستان میں ہندوستانی مداخلت اور دہشتگردی کی سرپرستی طشت ازبام کردی، توہین آمیزخاکوں پر عالم اسلام کی نمائندگی کی
ریاض (جاوید اقبال) اقوام متحدہ کے حالیہ اجلاس میں پاکستانی وزیر خارجہ کے خطاب پر ریاض میں مقیم پاکستانی تارکین نے اظہار مسرت کرتے ہوئے اسے قوم اور کشمیریوں کی آواز قرار دیا ہے۔ انسٹی ٹیوشن آف انجینیئرز پاکستان سعودی عرب چیپٹر کے چیئرمین انجینیئر مبشر حسین کرمانی نے اس خطاب پر اظہار اطمینان کیا اور کہا کہ پہلی مرتبہ عالمی فورم پر ہندوستانی دہشتگردی کو طشت از بام کرتے ہوئے شام محمود قریشی نے کلبھوشن کا ذکر کیا ہے۔ یہ ایک انتہائی مثبت پیشرفت ہے اور دنیا کو ہند کے منفی کردار کے بارے میں مطلع کرتی ہے۔ مکتبہ دارالسلام کے سیلز مینجر فیصل علوی نے شاہ محمود قریشی کے خطاب کو سراہتے ہوئے کہا کہ عالمی ادارے میں اردو میں تقریر کرنا ایک اچھا اقدام ہے اور مزید قابل ستائش بات یہ ہے کہ پاکستانی وزیر خارجہ نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے خاکوں کے بارے میں مغرب کے توہین آمیز رویئے کی مذمت کرکے سارے عالم اسلام کی نمائندگی کی ہے۔ کشمیر انٹرنیشنل پریس کلب کے صدر سردار رزاق نے شاہ محمود قریشی کو ذوالفقار علی بھٹو کا شاگرد قرار دیا اور کہا کہ وزیر خارجہ نے پاکستانیوں اور کشمیریوں کے جذبات کی بھرپور ترجمانی کی ہے۔ پی پی پی سعودی عرب کے چیف آرگنائزر ملک شفیق احمد نے واضح کیا کہ شاہ محمود قریشی کو اس عالمی فورم پر انگریزی میں خطاب کرنا چاہئے تھا کیونکہ وہاں ہر ایک انگریزی بخوبی سمجھتا تھا تاہم انہوں نے کہا کہ وزیر خارجہ نے سب اہم نکات پر موثر انداز میں بات کی۔ حلقہ فکر و فن ریاض کے سرپرست اعلیٰ چوہدری ریاض احمد نے اس خطاب کو بہت زبردست کہا۔ کشمیر میں ہندوستانی ظلم و ستم اور بلوچستان میں ہندوستانی مداخلت اور وہاں دہشتگردی کی سرپرستی بڑے برمحل اور مناسب موضوعات تھے۔ پاکستان تھنکرز فورم کے جنرل سیکریٹری وسیم ساجد نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو کے بعد پہلی بار کسی نے ہندوستان کو للکارا ہے تاہم انہوں نے واضح کیا کہ یہ تقریر پارلیمانی کمیٹی کے سینیئر ارکان کی معاونت سے لکھی جانی چاہئے تھی۔ مسلم لیگ (ن) ریاض کے مشیر ڈاکٹر محمود احمد باجوہ نے شاہ محمود قریشی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ اب جبکہ پاکستان میں عدالتیں بھی اپنے فیصلے انگریزی میں لکھتی ہیں تو وزیر خارجہ نے اردو میں کیوں خطاب کیا جب ہمارے رہنما دوسرے ممالک کے رہنماﺅں سے انگریزی میں گفتگو کرتے ہیں تو اقوام متحدہ میں اردو بولنے کی کیا تک تھی؟ ڈاکٹر باجوہ نے اس حقیقت کی طرف بھی اشارہ کیا کہ جب ایک زبان کا دوسری زبان میں ترجمہ کیا جائے تو جذبات و احساسات کی صحیح ترجمانی نہیں ہوتی۔