Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

حافظ و قاری محمد نور نقشبندی کی مستقل وطن واپسی پر الوداعیہ

جدہ ( امین انصاری )  جدہ کے معروف قاری  حافظ محمد نور نقشبندی کی مستقل طور پر وطن عزیز  حیدرآباد دکن واپسی پربزمِ طلبائے قدیم ومحبانِ جامعہ نظامیہ نے مولانا نظام الدین غوری کی صدارت میں اعتراف خدمات اور تہنیت پیش کرنے کیلئے  دارالعلم  میں تقریب منعقد کی ۔ قاری محمد نور نے اپنی آفرین آواز میں تلاوت کلام پاک کی سعادت حاصل کی ۔ شرکاء محفل  اور مختلف تنظیموں کے ذمہ داران نے ان کی وطن واپسی پر جہاں نیک تمنائیں دیں وہیں ان سے جدائی پر افسوس کا اظہار کیا ۔ سبھی نے انکی خدمات پر ہدیہ تشکر پیش کیا  اور اللہ تعالیٰ سے دْعا کی کہ  موصوف  جہاں کہیں رہیں خوش و  خرم رہیں اور اپنی آواز سے تلاوت قرآن لوگوں کے دلوں میں اتارتے رہیں۔صدر تقریب مولانا نظام غوری نے قاری محمد نور کا  تعارف کراتے ہوئے کہا کہ  حافظ و قاری محمد نور نقشبندی  قراتِ کلامِ پاک کے حوالے سے اپنی خوش الحانی کے ذریعہ لوگوں کی سماعتوں کو محظوظ کرنے میں اپنا ایک منفرد مقام رکھتے ہیں۔ آپ 2009 ء کو جدہ تشریف لائے اور یہاں خصوصاً قراتِ کلامِ پاک اور عموماً دیگر علمِ دین کے اصول سے لوگوں کو واقف کروایا۔آپ نے کمسن طلباء  و طالبات کو ہی نہیں بلکہ کئی ڈاکٹرز ‘ انجینئرز اور دیگر لوگوں کو خصوصی نشستوں میں فنِ قرات کی مشق کروائی اور اس میں مہارت دلوائی۔ آپ کے بے شمار شاگرد موجود  ہیں قاری محمد نور نے منتظمین  اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا جنہو ںنے ان کی حوصلہ افزائی کی ۔ قرآن کو خوش الحانی سے پڑھنے کا شوق بچپن سے شروع ہوا ۔اللہ تعالی نے مجھے جو آواز دی میں نے اس کو قرآن کی تلاوت اور نعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حمد و ثناء کیلئے وقف کردیا ۔ اپنے استاد عبداللہ قریشی الازہری سے ملنے والا علم میں نے ہزاروں شاگردوں میں عام کرکے اپنے استاد ، اپنی اور شاگردوں کی آخرت کو سنوارنے کی چھوٹی سے کوشش کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مجھے بے شمار تنظیموں کی جانب سے بہت پیار اور عزت ملی جس کیلئے میںاللہ تعالی کا اور پھر اس کے بندوں کا شکر گزار ہوں ۔
 
 

شیئر: