اسلام آباد: دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا ہے اور اسرائیل کے شہریوں کو پاکستان آمد کی مشروط اجازت دینے سے متعلق فہرست کے حوالے سے جواب دہ وزارت داخلہ ہے۔ ذرائع کے مطابق اسلام آباد میں ترجمان دفتر خارجہ نے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران واضح کیا کہ پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا۔ اس حوالے سے منظر عام پر آنے والی فہرست کے بارے میں وزارت داخلہ جوابدہ ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر فیصل نے وزیر اعظم کے دورہ ترکی سے متعلق بتاتے ہوئے کہا کہ عمران خان ترک صدرکی دعوت پر اعلیٰ سطح کے وفد کے ساتھ 2 روزہ دورے پرترکی روانہ ہوئے ہیںم جہاں وہ ترک حکام سے وفود کی سطح پر مذاکرات کریں گے۔ علاوہ ازیں وزیرخارجہ نے دورہ قطر کے دوران دوطرفہ تعلقات پربات کی ہے، جس کے بعد اب وزیراعظم عمران خان بھی جلد قطر کا دورہ کریں گے ۔
ہند سے تعلقات کے حوالے سے ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ کلبھوشن کا مقدمہ اس وقت عدالت میں ہے ، اس حوالے سے خبریں حقائق کے برعکس ہیں، ہم عدلیہ کے احترام میں اس پر تبصرہ نہیں کریں گے۔ پاکستان ہند کے ساتھ تمام مسائل پر مذاکرات کی بات کرتا ہے، ایل او سی پر جنگ بندی کی خلاف ورزی پر قائم مقام ہند کے ڈپٹی ہائی کمشنر کو طلب کرکے احتجاج کیا گیا ہے ، ہند اقوام متحدہ کے مبصر مشن کو لائن آف کنٹرول کے علاقوں میں جانے کی اجازت دے ۔ سرجیکل اسٹرائیکس کبھی نہیں ہوئیں، ہند کا میڈیا خود بھی اپنی حکومت کے دعوے کی نفی کر چکا ہے۔ ہند کے ڈرونزکی پاکستانی حدود کی خلاف ورزی کی مذمت کرتے ہوئے ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ پاکستانی فورسز متحرک اور ہوشیار ہیں۔ پاکستان کسی بھی جارحیت کا منہ توڑجواب دے گا، فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے پر دونوں ڈرونزمار گرائے گئے ہیں۔