ملک میں فیصلہ کن قوتیں کون ہیں؟
اسلام آباد... سینیٹ میں اپوزیشن نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے فیصلہ کن قوتوں کو نواز شریف اور زرداری قبول نہ ہونے کے بیان پر وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بتایا جائے کہ فیصلہ کن قوتیں کون سی ہیں۔ ہم تو عوام کو فیصلہ کن قوت سمجھتے ہیں۔پارلیمنٹ کو کچھ سمجھا نہیں جارہا ہے۔اس طرح پارلیمنٹ نہیں چلے گی۔منگل کو سینٹ اجلاس کے دوران پیپلز پارٹی کے سینیٹر رضا ربانی نے کہاکہ طالبان اور امریکہ کے مذاکرات میں ایوان کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ کسی نے پارلیمنٹ کو گھاس نہیں ڈالی۔آئیں پارلیمنٹ میں آکر اراکین کو اعتماد میں تو لیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کا شکریہ کہ انہوں نے طالبان اور امریکہ کے مذاکرات کے حوالے سے بتایا۔ وزیر خارجہ نے پارلیمنٹ کو اتنے بڑے ایشو پر ایک بھی لفظ آکر نہیں بتایا ۔ انہوںنے کہاکہ افغان مذاکرات کا تعلق براہ راست پاکستان اور اس کی سلامتی کا مسئلہ ہے ۔ رضا ربانی نے کہا کہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ فیصلہ کن قوتوں کا کہنا ہے کہ آصف زرداری اور نواز شریف کو آنے نہیں دینگے ۔ فیصلہ کن قوتیں کون ہیں بتایا جائے ۔انہوںنے کہاکہ آئی ایم ایف کے بارے میں وزیر خزانہ لاہور میں پریس کانفرنس کر سکتے ہیں ۔وزیر خزانہ پارلیمنٹ میں آنے اور کچھ کہنے سے قاصر ہیں ۔