Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بلوچستان میں سکیورٹی کی صورتحال: وزیراعلیٰ اور اپوزیشن لیڈر کی لفظی جنگ

وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ بلوچستان میں علیحدگی کی باتیں جھوٹی ہیں۔ (فوٹو: ایکس)
بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال پر وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف عمر ایوب کے درمیان بیان بازی  شدت اختیار کر گئی ہے اور دونوں نے ایک دوسرے کو چیلنجز دے دیے ہیں۔
وزیراعلیٰ اور اپوزیشن لیڈر کی کی بیان بازی  سیاسی حلقوں میں موضوع بحث بنی ہوئی ہے اور سوشل میڈیا صارفین بھی  اس بحث میں حصہ لے رہے ہیں۔
یہ بیان بازی پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے قائد حزب اختلاف عمر ایوب کے 18 فروری کو اس گفتگو کے بعد شروع ہوئی جس میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ بلوچستان کے سات سے آٹھ اضلاع  سے علیحدگی اور آزادی کی آوازیں آرہی ہیں اور حالات اس قدر خراب ہیں کہ وہاں پاکستان کاجھنڈا لہرایا جاتا ہے اور نہ قومی دترانہ پڑھا جاتا ہے۔ لوگ آزادانہ نقل و حرکت بھی نہیں کرسکتے۔
اپوزیشن لیڈر نے بلوچستان میں سکیورٹی فورسز پر ہونے والے حملوں کو انٹیلی جنس کی ناکامی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ادارے دہشت گردی کے خطرات پر نظر رکھنے کی بجائے ساری توجہ  پی ٹی آئی پر  دے رہے ہیں۔
وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے عمر ایوب کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے سخت ردعمل دیا۔ میڈیا سے گفتگو میں  انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں علیحدگی کی باتیں جھوٹی ہیں۔ صوبے میں حکومت کی رٹ قائم ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں نوجوان منتشر ہے، صوبے کو ہمدردی اور ترقی کی ضرورت ہے۔ غیر ذمہ دارانہ بیانات جلتی پر تیل ڈالنے کے مترادف ہیں۔ سیاست سے ریاست زیادہ اہم ہے۔ بلوچستان کو گندی سیاست سے دور رکھیں۔
 وزیراعلیٰ بلوچستان  سرفراز بگٹی نے چیلنج کیا ہے کہ وہ اپوزیشن لیڈر کو پورے بلوچستان  کا دورہ کرانے کے لیے تیار ہیں وہ دکھائیں کہ کون سے اضلاع میں ایسی صورتحال ہے؟
اس کے بعد وزیراعلیٰ نے عمر ایوب کو ٹیلیفون بھی کیا مگر اپوزیشن لیڈر نے خاموشی اختیار کرنے کی بجائے طنز و تنقید کے مزید نشتر برسائے۔ اپوزیشن لیڈر نے بلوچستان کے ضلع کچھی ( بولان) میں حکومتی جماعت پیپلز پارٹی کے  رکن بلوچستان اسمبلی لیاقت لہڑی سے عسکریت پسندوں کی جانب سے اسلحہ چھیننے کے واقعہ کا حوالہ دیتے ہوئے وزیراعلیٰ سے کہا کہ وہ چھینے گئے اسلحہ میں صرف ایک گولی واپس لے کر دکھائیں۔

عمر ایوب نے سوال کیا کہ ایم پی اے کو مریخ یا چاند پر تو نہیں روکا گیا تھا انہیں بلوچستان میں روک کر ان سے اسلحہ چھینا گیا تھا۔ (فوٹو: ایکس)

انہوں نے وزیراعلیٰ کو جلسہ کرنے کا چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ وہ ان کی پوری کابینہ اورحکومت تمام حکومتی وسائل کااستعمال کرتے ہوئے بلوچستان کے کسی بھی کونے میں جلسہ کرکے دکھائیں۔ شرط یہ ہے کہ ان کے مقابلے میں سڑک کے دوسرے پار ماہ رنگ بلوچ کو جلسہ کرنے دیں۔ دودھ کادودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا۔
بلوچستان حکومت کے ترجمان شاہد رند نے بھی بدھ کو عمر ایوب کے بیان کے جواب میں پریس کانفرنس کی اور کہا کہ اپوزیشن لیڈر نے بلوچستان کا دورہ کرنے کی بجائے سیاسی انتشار پر مبنی بیانیہ برقرار رکھا جو ان کی غیر ذمہ دارانہ رویے کو ظاہر کرتا ہے۔ الزامات کی سیاست سے بلوچستان اور نہ ہی خیبر پختونخوا میں امن آسکتاہے۔ انہوں نے کہا کہ جب ضرورت ہوگی کہ وزیراعلیٰ بلوچستان جلسے کا انعقاد کرکے عوامی طاقت کا مظاہرہ بھی کریں گے۔
اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے جمعرات کو ایک اور بیان داغ دیا اور کہا کہ بلوچستان میں آگ لگی ہوئی ہے۔ حقیقت سے کوئی آنکھ بند نہیں کرسکتا۔
عمر ایوب نے سوال کیا کہ ایم پی اے کو مریخ یا چاند پر تو نہیں روکا گیا تھا انہیں بلوچستان میں روک کر ان سے اسلحہ چھینا گیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ پوچھتے ہیں کہ وہ کونسے اضلاع ہیں جہاں علیحدگی کی بات ہورہی ہے تو میں انہیں آٹھ کی بجائے سولہ اضلاع گنواتا ہوں۔
انہوں نے تربت، کوہلو، آواران، خاران، پنجگور، گوادر، ڈیرہ بگٹی، بارکھان، ہرنائی، دکی، واشک سمیت بلوچستان کے متعدد اضلاع کے نام لیتے ہوئے کہا کہ ان علاقوں میں سکیورٹی کی صورتحال تشویشناک ہے۔ ’عام لوگ اور سکیورٹی فورسز کانوائے کے بغیر آزادانہ نقل و حرکت نہیں کرسکتے۔‘
سوشل میڈیا پر صارفین نے وزیراعلیٰ اور اپوزیشن لیڈر کے بیانات پر تبصرے کیے ہیں ۔ایک صارف عبدالحمید نے کہا کہ آئے روز شاہراہوں پر مسافروں کو قتل کیا جارہا ہے۔ بلوچستان حکومت حقیقت کا ادراک  کرتے ہوئے امن وامان کی بحالی کے لیے اقدامات  کریں۔

شیئر: