Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بڑوں کی شراکت

سمیر عطااللہ ۔ الشرق الاوسط
سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان دنیا کی دو تہائی آبادی والے ممالک کا دورہ مکمل کرچکے۔ پاکستان، ہندوستان اور چین میں تقریباً500ملین مسلمان بسے ہوئے ہیں۔ ماضی میں یہ آبادی تیسری دنیا کا اہم حصہ شمار کی جاتی تھی۔ اب دنیا کا نقشہ ترقی اور تبدیلی کے حوالے سے بدل چکا ہے۔ چین کرہ ارض کی اب دوسری بڑی اقتصادی طاقت بن چکا ہے۔ ہندوستانی پڑوسی مڈل کلاس کے حوالے سے دنیا کا سب سے بڑا ملک بنا ہوا ہے۔ جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو اس نے اپنے لئے ایسے حکمراں کا انتخاب کیا ہے جو لندن کو خیر باد کہہ کر پاکستان آیا ہے۔ اس نے لندن کی سیاسی زندگی کو پس پشت ڈال کر اپنے وطن کی سیاست میں کچھ کر دکھانے کے عزم سے وطن واپسی کی ہے۔
ہندوستان کو ماضی میں ”نئی دنیا “ کہا جاتا تھا۔ اب نئی دنیا کروڑوں چینیوں اور ہندوستانیوں پر مشتمل ہے۔ یہ بنی نوع انساں کو عجیب و غریب قسم کے مستقبل والے دور میں لیجانے کےلئے پر تول رہے ہیں۔ ابھی تک یہ ابتدائی منزل میں ہیں۔ نقطہ عروج کیا ہوگااس کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں۔ زراعت کے حوالے سے پسماندہ چین اور خوراک کے حوالے سے غریب ہندوستان صنعتی معاشرو ںمیں تبدیل ہوگئے ہیں۔ دونوں مصنوعی سیارے خلا میں بھیجنے لگے ہیں۔
سعودی عرب اسلامی دنیا کا دل ہے۔ ایشیا کے قلب میں واقع ہے۔ شہزادہ محمد بن سلمان براعظم ایشیا کے بڑے ممالک کے دورے پر بین الاقوامی شراکت اسکیم لیکر پہنچے ہیں۔ انکے پیش نظرصرف اقتصادی لین دین نہیں۔ ویسے بھی ایشیا کے مختلف علاقوں میں سماجی تشکیل بدلتی رہتی ہے۔ علاوہ ازیں ہر فریق عالمی امن اور اس کے فروغ کے حوالے سے اپنا فرض اور اسکی ذمہ داریاں اٹھا رہا ہے۔ سعودی عرب نہ صرف یہ کہ ان ممالک کے درمیان توانائی کابنیادی ستون ہے بلکہ وہ طاقت کی سلامتی اور معقول پالیسی اور متوازن فطری کردار کا بھی مالک ہے۔ وہ تیل برآمد اور خرچ کرنے والے ممالک میں استحکام لانے اور رکھنے کی پالیسی اپنائے ہوئے ہے۔ 
سعودی عرب نے فتنوں کی آگ بھڑکانے والوں اور آلہ کار بننے والوں کے مقابلے میں ہوش و حواس اور عقل و فہم کے مالک فریق کا کردارادا کیا۔ ایسے وقت میں جبکہ بعض ممالک نے چیخ وپکار کا رویہ اپنایا،آتشزنی کے شو کئے۔ آمدنی کو برباد کرنے کے چکر چلائے۔ سعودی عرب نے اقوام عالم کے قدرتی وسائل اور انکے حقوق کے پاسبان فریق والا کردارادا کیا۔اب دنیا سب کیلئے بدل گئی ہے۔ مفید اور معقول اقتصادی نظام ایک دوسرے کے مماثل ہوگئے ہیں۔ چین اقتصادی سیشن اور پارٹی سیشن میں فرق کررہا ہے۔ ہندوستان پارٹی وژن اور ایک ارب سے زیادہ نفوس کے مفاد کیلئے ریاستی وژن میں فرق کرنے لگا ہے۔شہزادہ محمد بن سلمان بھی عظیم شریک فریقوں کے سامنے اپنا وژن ، اپنے محل و قوع کی اہمیت اور دنیا میں اپنے کردار کو اجاگر کررہے ہیں۔ مسئلہ عقیدے کی تبدیلی کا نہیں بلکہ اپنے وطن اور اپنے عقیدے کی خدمت کے اسلوب میں تبدیلی کا ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
 
 

شیئر: