قومی اسمبلی میں فنانس ترمیمی بل منظور،اپوزیشن کا واک آوٹ
اسلام آباد .... قومی اسمبلی میں اپوزیشن کے شدید احتجاج کے باوجود ضمنی مالیاتی بل کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا۔ سینیٹ سفارشات کو بھی مالیاتی بل کا حصہ بنا دیا گیا۔ جے یو آئی ف کے اراکین نے تحریک پیش کرنے کی اجازت نہ ملنے پر اپوزیشن کے ساتھ مل کر ا سپیکر ڈائس کا گھیراﺅ کرلیا اور شدید نعرے بازی کی۔ پارلیمانی تاریخ میں پہلی مرتبہ مغرب کی نماز ایوان کے اندر ادا کی گئی۔ اپوزیشن اراکین نے ضمنی مالیاتی بل کی کاپیاں پھاڑ کر ا سپیکر کے ڈائس کے سامنے پھینک دیں۔ وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے اپنی تقریر میں مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کو ملک میں معاشی بحران اور قرضوں کا ذمہ دار قرار دیا۔ اسد عمر نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ تمام سیاسی جماعتیں مل کر میثاق معیشت کا معاہدہ کرلیں ۔ اس کی تجویز کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ بدقسمتی سے اپوزیشن صرف سیاسی پوائنٹ ا سکورنگ کرتی ہے۔کسی قسم کی ٹھوس تجاویز نہیں دیتے ۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دس سالوں سے ملکی معیشت کو جس طرح نقصان پہنچایا گیا ۔اسے درست کرنے کیلئے ہر قسم کے اقدامات کیلئے تیار ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اپوزیشن لیڈر غلط اعداد و شمار پیش کرتے ہیں۔ مسلم لیگ ن کے دور میں 5 سالوں کے دوران جتنی بیرونی سرمایہ کاری آئی تھی وہ تحریک انصاف کے پہلے 6 ماہ کی بیرونی سرمایہ کاری سے کم تھی۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کے دور میں اسٹاک ایکسچینج کم ہوئی۔ آخری 22 کے دوران بیرونی سرمایہ منفی ہوگئی تھی۔ موجودہ حکومت کے2 ماہ جنوری اور فروری میں ریکارڈ سرمایہ کاری ہوئی ہے انہوں نے کہاکہ تحریک انصاف کے ضمنی ما لیاتی بل کا مقصد محض محصولات میں اضافہ نہیں بلکہ ملکی معیشت کو بہتر کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ورلڈ بینک نے مسلم لیگ ن کے دور میں فنڈنگ بند کردی تھی۔ قرضے 61 ارب سے 95 ارب ڈالر تک پہنچ گئے تھے ۔ مسلم لیگ ن کے احسن اقبال کے بعد جے یو آئی ف کے مولانا اسد محمود کو تقریر کا موقع دیا گیا تاہم انہوں نے بجٹ پر تقریر کرنے کی بجائے وفاقی وزیر پانی فیصل واوڈا کے خلاف تحریک پیش کرنے کی کوشش کی ا سپیکر نے تحریک پیش کرنے سے روکتے ہوئے کہا کہ تحریک پہلے سیکرٹریٹ میں جمع کرانی ہوتی ہے اور اس پر باقاعدہ رائے لی جاتی ہے تاہم مولانا اسد محمود مسلسل بولتے رہے ۔ا سپیکر نے ان کا مائیک بند کردیا۔اپوزیشن کے اراکین نے ا سپیکر ڈائس کا گھیراﺅ کرلیا اور شدید نعرے بازی کرتے ہوئے ضمنی مالیاتی بل کی کاپیاں پھاڑ کر ہوا میں اڑا دیں۔ اپوزیشن کی شدید نعرے بازی کے دوران بھی ا سپیکر نے اجلاس جاری رکھا۔ اس دوران نماز مغرب کیلئے اذان ہوئی ۔ جے یو آئی کے اراکین نے مولانا اسد محمودکی امامت میں نماز کی ادائیگی کیلئے قومی اسمبلی ہال کے اندر چادریں بچھا دیں اور نماز مغرب کی ادائیگی شروع کردی ۔ا سپیکر نے نماز مغرب کیلئے 10 منٹ کا وقفہ کیا۔ اجلاس دوبارہ شروع ہوا تو اپوزیشن نے نعرے بازی کے بعد ایوان سے احتجاجاً واک آﺅٹ کیا۔ حکومتی اراکین نے اپوزیشن کے بغیر ضمنی مالیاتی بل منظور کرلیا ۔