ضلع اننت ناگ میں مظاہرین نے ٹرک ڈرائیور پر پتھراؤ کیا (فائل فوٹو:اے ایف پی)
انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کی پولیس نے کہا ہے کہ ضلع اننت ناگ میں پتھراؤ کرنے والے مظاہرین نے ایک ٹرک ڈرائیور کو ہلاک کیا ہے۔
خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق اتوار کو مظاہرین نے ایک ٹرک پر پتھراؤ کیا، مظاہرین کا خیال تھا کہ یہ فوجی ٹرک ہے۔
مقامی پولیس کے مطابق 42 برس کے ٹرک ڈرائیور کے سر پر پتھر مارے گئے جس سے وہ ہلاک ہوا۔
خبر رساں ایجنسی پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق اس سلسلے میں دو افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ یہ واقع ایسے وقت پیش آیا ہے جب فرانس میں جی سیون سربراہی اجلاس کے موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور انڈین وزیراعظم کے درمیان بات چیت ہوگی۔
کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد کشمیر میں مظاہرے ہو رہے ہیں۔ فائل فوٹو:اے ایف پی
توقع کی جا رہی ہے کہ امریکی صدر کشمیر میں کمیونیکیشن بلیک آؤٹ سے پابندی اٹھانے اور انتہائی تحمل کا مظاہرہ کرنے کے لیے دباؤ ڈالیں گے۔
یاد رہے کہ 5 اگست کو انڈیا کی جانب سے اپنے زیر انتظام کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کے خاتمے کا اعلان کیا گیا تھا۔
اس اعلان سے پہلے ہی انڈین حکومت نے کشمیر میں پانچ لاکھ فوجی بھیجے تھے۔ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد ٹیلی فون لائنیں اور انٹرنیٹ بند کر دیے گئے۔
مختلف ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق انڈین انتظامیہ کی جانب سے نقل و حرکت پر سخت پابندی عائد کی گئی اور ہزاروں افراد کو گرفتار کیا گیا۔
کشمیر میں لگائی گئی سخت پابندیوں کے باوجود انڈین انتظامیہ مظاہروں کو نہیں روک سکی، ان مظاہروں میں مقامی افراد اور سکیورٹی فورسز میں جھڑپیں بھی ہوئیں۔