Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سکول لوازمات پر سالانہ 7 ارب ریال خرچ 

رپورٹ کے مطابق فی طالبعلم 2ہزار ریال تک کا بجٹ ہے ۔
سعودی اکنامک سوسائٹی کے رکن ڈاکٹر عصام خلیفہ نے بتایا ہے کہ سعودی والدین اسکول یونیفارم اور اسٹیشنری پر سالانہ 7ارب ریال خرچ کر رہے ہیں ۔
المدینہ اخبار کے مطابق نئے تعلیمی سال کے آغاز پر والدین اسکولوں کے لوازمات کا سوچ کر الجھنے لگے ہیں۔والدین کی پریشانی کا باعث یہ ہے کہ موسم سرما کی تعطیلات، رمضان المبارک، عید الفطر پھر عید الاضحی جیسے تہوار ایک کے بعد ایک آجاتے ہیں۔
 یہ سارے مواقع ایسے ہیں جن میں عام دنوں کے مقابلے میں زیادہ خرچ ہوتا ہے ۔والدین اسکول لوازمات پورے کرنے کےلئے قرضے لینے لگے ہیں ۔
نئے تعلیمی سال کی آمد اسٹیشنری فروخت کرنیوالوں نے فائدہ اٹھاتے ہوئے نرخ بڑھا دئے۔صارفین کا کہنا ہے کہ ایک اسٹیشنری کی دکان اور دوسری دکان کے درمیان نرخوں میں زمین آسمان کا فرق دیکھنے میں آیا ۔ کہیں کہیں تو 100فیصد فرق ریکارڈ کیا گیا۔

نئے تعلیمی سال کی آمد اسٹیشنری فروخت کرنیوالوں نے نرخ بڑھا دئے

اسٹیشنری فروشوں نے برائے نام رعایتی اسکیموں کا اعلان کیا مگروالدین کو اس کا کوئی خاطر خواہ فائدہ نہیں ہوا۔
اخباری رپورٹ کے مطابق فی طالبعلم 2ہزار ریال تک کا بجٹ ہے ۔ اس میں یونیفارم ، بیگ، جوتے ، اسپورٹس کٹس اور اسٹیشنری شامل ہے ۔ کئی سعودی نیا تعلیمی سال شروع ہونے سے ایک ہفتہ پہلے ہی برانڈڈ اسٹیشنری خرید لیتے ہیں ۔
اسکول شاپنگ کی وجہ سے محدود آمدنی والے مالی دباﺅ میں آجاتے ہیں ۔مملکت میں ایسا طبقہ بھی پیدا ہو گیا جو نئے تعلیمی سال کو فخر اور نمودونمائش کا ذریعہ بنائے ہوئے ہے ۔یہ لوگ برانڈڈ یونیفارم ، بیگ اور اسٹیشنری خرید کر غریب اور محدود آمدنی والے خاندانوں کے بچوں کےلئے ذہنی مسائل بھی پیدا کر رہے ہیں ۔
آن لائن شاپنگ
حالیہ مہینوں کے دوران سعودی عرب میں آن لائن شاپنگ کے رواج میں بھی اضافہ ہوا ہے ۔اس سے روایتی تجارتی مراکز مشکل میں پڑ گئے ہیں ۔روایتی تاجروں کا کہنا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ 25فیصد تک رعایت دے سکتے ہیں۔ آن لائن کاروبار کرنے والوں کی طرح 40،45فیصد تک رعایت نہیں دے سکتے ۔ دکان کا کرایہ ، بجلی کا بل اور ملازمین کی تنخواہیں ادا کرنا ہوتی ہےں۔ آن لائن کاروبار کرنیوالوں کا عملہ محدود اور ان کی لاگت کم ہے ۔

شیئر: