مذاکرات معطل ہونے کی صورت میں طالبان نے افغانستان میں امریکی فوج کے خلاف جنگ جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے منگل کو فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان پر غیر ملکیوں کے قبضے کو ختم کرنے کے دو راستے تھے، ایک جہاد جبکہ دوسرا مذاکرات تھا۔
’اگر (صدر) ٹرمپ بات چیت بند کرنا چاہتے ہیں تو ہم پہلا راستہ اختیار کریں گے اور جلد ان کو (ٹرمپ) اس کا پچھتاوا ہو گا۔‘
رواں سال 8 ستمبر کو صدر ٹرمپ نے طالبان کے ساتھ مذاکرات معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔
مزید پڑھیں
-
’امید کرتے ہیں طالبان اب رویہ تبدیل کرلیں‘Node ID: 432656
-
امریکہ طالبان امن مذاکرات: کب کیا ہوا؟Node ID: 432676
ٹرمپ نے ٹویٹ میں کہا تھا کہ امن مذاکرات کابل میں ایک امریکی فوجی سمیت 12 افراد کی ہلاکت کے باعث معطل کیے گئے ہیں اور طالبان نے چھوٹے مفاد کے لیے کابل حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا تھا کہ کمیپ ڈیوڈ میں ان کی طالبان رہنماؤں کے ساتھ ایک خفیہ ملاقات بھی فوری طور پر منسوخ کر دی گئی ہے۔
ٹرمپ کے مطابق ’کیمپ ڈیوڈ میں افغان صدر اور طالبان رہنماؤں سے الگ الگ ملاقاتیں اتوار کو ہونا تھیں۔ اس سلسلے میں وہ آج رات امریکہ پہنچ رہے تھے۔‘
امریکی صدر نے مزید کہا کہ ’یہ کیسے لوگ ہیں جو مذاکرات میں اپنی سودے بازی کی پوزیشن کو مضبوط کرنے کے لیے لوگوں کو قتل کرتے ہیں لیکن انہوں نے اپنی پوزیشن مضبوط نہیں بلکہ مزید خراب کی ہے۔‘
