افغان معاشرے میں رقص کو ممنوع سمجھا جاتا ہے، خاص طور پر خواتین کے رقص کی تو یہاں کوئی جگہ نہیں لیکن ایک باہمت افغان خاتون فہیما میرزئی کا ماننا ہے کہ ملک کے ناخوشگوار حالات میں لوگوں کو ذہنی دباؤ سے نکلانے کے لیے رقص انتہائی اہم ہے۔
اسی سوچ کے تحت انہوں نے خواتین کو صوفی ڈانس سکھانے کا سلسلہ شروع کیا ہے، جس کے لیے اب تک 20 کے قریب خواتین اپنا نام لکھوا چکی ہیں۔
فہیما میرزئی نے صوفی ڈانس کی کلاسز کا آغاز دارالحکومت کابل کے ایک محلے میں کیا ہے۔ اس شہر نے گذشتہ سالوں میں متعدد حملے اور ناخوشگوار واقعات دیکھے ہیں۔
مزید پڑھیں
-
’افغان طالبان کے خواتین کے حوالے سے رویے میں نمایاں تبدیلی‘Node ID: 425481
-
کابل: شادی کی تقریب میں دھماکہ, 63 افراد ہلاکNode ID: 429606
-
جنگ بندی یا تشدد میں کمی، افغان طالبان خاموش کیوں ہیں؟Node ID: 453611
صوفی ڈانس جسے مقامی زبان میں ’سماع رقص‘ بھی کہا جاتا ہے، کی روایت 13 ویں صدی کے مشہور شاعر جلال الدین محمد رومی کے دور میں پائی جاتی ہے۔
اپنی کلاس میں خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے فہیما نے بتایا کہ ’مجھے سماع میں بہت مزہ آتا ہے، اسے کرنے سے مجھے سکون ملتا ہے اور میری زندگی میں جو غم اور مشکلات ہیں وہ چلی جاتی ہیں۔‘
’سماع‘ کو درویشوں کے رقص سے منسلک کیا جاتا ہے اور یہ مسلم دنیا میں کافی مشہور ہے۔

یہ رقص صوفیانہ روایت کا حصہ ہے۔ تاہم مسلم ممالک میں ایسے کئی صوفی مزار ہیں جو دہشت گردوں کے حملوں کی زد میں آئے ہیں۔
فہیما کا کہنا کہ ’سماع رقص کو اپنانے کے میرے اور میرے طلبہ کی زندگیوں پر بہت مثبت اثرات ہوئے ہیں۔ انہیں خود اعتمادی ملی ہیں اور ان میں سے کچھ ایسے طلبہ جو ذہنی دباؤ کا شکار تھے، اب بہت خوش رہنے لگے ہیں۔‘

افغانستان میں 2001 میں امریکہ طالبان جنگ شروع ہونے کے بعد ملک میں طالبان کی حکومت ختم ہوئی۔ اس کے بعد کے سالوں میں افغانستان میں خواتین نے اپنے حقوق حاصل کرنے کے لیے بہت جدوجہد کی ہے۔
تاہم امریکہ کے طالبان کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لیے حالیہ مذاکرات پر یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ تعلیم اور سماجی سرگرمیوں کے شعبیوں میں خواتین نے جو حقوق حاصل کیے ہیں وہ ان سے واپس نہ چھین لیے جائیں۔