Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

نجی اداروں میں مالیاتی پوزیشن پر غیر ملکیوں کا غلبہ ختم ہوگا؟

سعودی حکومت نے مالیاتی اکیڈمی کے قیام کا فیصلہ کیا ہے (فوٹو سوشل میڈیا)
سعودی حکومت نے مالیاتی اکیڈمی کے قیام کا فیصلہ کرکے بینکوں اور نجیاداروں میں مالیاتی امور کے کلیدی عہدوں اورعام اسامیوں پرغیرملکی ماہرین کاغلبہ ختم کرنےکا گرین سگنل دیا ہے-
 اقتصادی امور کے ماہر حسین الخاطر اور ڈاکٹر تیسر الخنیزی نے عکاظ اخبار سے گفتگو کرتے ہوئےکہا ہے کہ سعودی کابینہ نے مالیاتی اکیڈمی کے  قیام کا فیصلہ کیا ہے- اس کے بڑے دوررس اثرات مرتب ہوں گے-
مالیاتی اکیڈمی کا مقصد نجی اداروں میں مالیاتی امور کی اسامیوں اور بینکوں میں کلیدی عہدوں پر کام کرنے والے سعودی تیار کرنا ہے-
سعودی ماہرین اقتصاد کا کہنا ہے کہ مالیاتی اداروں میں کلیدی عہدوں اور بینکوں میں اعلی پوزیشنوں کی طلب بہت زیادہ ہے- اب تک بیشتر نجی اداروں میں ان عہدوں پر غیرملکی قبضہ جمائے ہوئے ہیں-
ماہر اقتصاد حسین الخاطر کے مطابق ہمارے یہاں سعودی عریبین مانیٹری اتھارٹی ساما کے ماتحت بینکنگ انسٹی ٹیوٹ پہلے سے کام کررہا ہے- مالیاتی اکیڈمی کے قیام سے انسٹی ٹیوٹ کی پوزیشن مضبوط ہوگی- 
حسین الخاطر نے مزید کہا کہ ابھی تک سعودی عرب میں مالیاتی ڈپلومہ کرانے والے سپیشلسٹ ادارے نہیں ہیں- سعودی عرب کو اس قسم کے شعبوں کے ماہرین کی اشد ضرورت ہے- 
 سعودی عرب کے نجی ادارے اور بینک ابھی تک ساما کے ماتحت بینکنگ انسٹی ٹیوٹ پر انحصار کیے ہوئے ہیں- اس سے سعودی مارکیٹ کی ضروریات پوری نہیں ہورہی ہیں- ملک کو اکیڈمی کے طرز کے سپیشلسٹ اداروں کی ضرورت ہے-

مالیاتی امور کے ماہر شہریوں کی ضرورت بڑھ گئی ہے-(فوٹو سوشل میڈیا)

سعودی ماہر اقتصاد کا کہنا تھا کہ ان دنوں مالیاتی مسائل دنیا بھر میں چھائے ہوئے ہیں- مملکت میں بھی اقتصادی حالات بدل رہے ہیں- اس ماحول میں مالیاتی امور کے ماہر شہریوں کی ضرورت بڑھ گئی ہے-
ماہر اقتصاد ڈاکٹر تیسر الخنیزی نے کہا کہ ہمارے یہاں مالیاتی امور کے ماہر کی طلب بہت زیادہ بڑھی ہوئی ہے- اس درجےکے ماہرین کی ضرورت ماضی میں محسوس نہیں کی گئی تھی-
انہوں نے کہا  کہ مالیاتی اکیڈمی کے افتتاح سے آنے والے مرحلے کے لیے مالیاتی امور کے ماہر سعودی تیار ہوں گے- اس کی بدولت نجی اداروں میں مالیاتی امور کے غیرملکی ماہرین اور سعودیوں کے درمیان جو خلیج پائی جاتی ہے وہ ختم ہوگی-
تیسرالخنیزی نے کہا کہ ہمارے یہاں بینکو ں میں سعودی کامیابی سے خدمات انجام دے رہے ہیں البتہ کمپنیوں کے مالیاتی ادارں کو کلیدی عہدوں اورعام اسامیوں پر کام کرنے کے لیے سعودی شہریوں کی خدمات درکار ہیں-

 

شیئر: