سعودی حکومت نے مالیاتی اکیڈمی کے قیام کا فیصلہ کرکے بینکوں اور نجیاداروں میں مالیاتی امور کے کلیدی عہدوں اورعام اسامیوں پرغیرملکی ماہرین کاغلبہ ختم کرنےکا گرین سگنل دیا ہے-
اقتصادی امور کے ماہر حسین الخاطر اور ڈاکٹر تیسر الخنیزی نے عکاظ اخبار سے گفتگو کرتے ہوئےکہا ہے کہ سعودی کابینہ نے مالیاتی اکیڈمی کے قیام کا فیصلہ کیا ہے- اس کے بڑے دوررس اثرات مرتب ہوں گے-
مزید پڑھیں
-
شہریوں میں بے روزگاری کی بڑی وجہ کیا؟
Node ID: 450386 -
سعودی کن شعبوں میں غیرملکیوں سے آگے
Node ID: 466346
مالیاتی اکیڈمی کا مقصد نجی اداروں میں مالیاتی امور کی اسامیوں اور بینکوں میں کلیدی عہدوں پر کام کرنے والے سعودی تیار کرنا ہے-
سعودی ماہرین اقتصاد کا کہنا ہے کہ مالیاتی اداروں میں کلیدی عہدوں اور بینکوں میں اعلی پوزیشنوں کی طلب بہت زیادہ ہے- اب تک بیشتر نجی اداروں میں ان عہدوں پر غیرملکی قبضہ جمائے ہوئے ہیں-
ماہر اقتصاد حسین الخاطر کے مطابق ہمارے یہاں سعودی عریبین مانیٹری اتھارٹی ساما کے ماتحت بینکنگ انسٹی ٹیوٹ پہلے سے کام کررہا ہے- مالیاتی اکیڈمی کے قیام سے انسٹی ٹیوٹ کی پوزیشن مضبوط ہوگی-
حسین الخاطر نے مزید کہا کہ ابھی تک سعودی عرب میں مالیاتی ڈپلومہ کرانے والے سپیشلسٹ ادارے نہیں ہیں- سعودی عرب کو اس قسم کے شعبوں کے ماہرین کی اشد ضرورت ہے-
سعودی عرب کے نجی ادارے اور بینک ابھی تک ساما کے ماتحت بینکنگ انسٹی ٹیوٹ پر انحصار کیے ہوئے ہیں- اس سے سعودی مارکیٹ کی ضروریات پوری نہیں ہورہی ہیں- ملک کو اکیڈمی کے طرز کے سپیشلسٹ اداروں کی ضرورت ہے-

سعودی ماہر اقتصاد کا کہنا تھا کہ ان دنوں مالیاتی مسائل دنیا بھر میں چھائے ہوئے ہیں- مملکت میں بھی اقتصادی حالات بدل رہے ہیں- اس ماحول میں مالیاتی امور کے ماہر شہریوں کی ضرورت بڑھ گئی ہے-
ماہر اقتصاد ڈاکٹر تیسر الخنیزی نے کہا کہ ہمارے یہاں مالیاتی امور کے ماہر کی طلب بہت زیادہ بڑھی ہوئی ہے- اس درجےکے ماہرین کی ضرورت ماضی میں محسوس نہیں کی گئی تھی-
انہوں نے کہا کہ مالیاتی اکیڈمی کے افتتاح سے آنے والے مرحلے کے لیے مالیاتی امور کے ماہر سعودی تیار ہوں گے- اس کی بدولت نجی اداروں میں مالیاتی امور کے غیرملکی ماہرین اور سعودیوں کے درمیان جو خلیج پائی جاتی ہے وہ ختم ہوگی-
تیسرالخنیزی نے کہا کہ ہمارے یہاں بینکو ں میں سعودی کامیابی سے خدمات انجام دے رہے ہیں البتہ کمپنیوں کے مالیاتی ادارں کو کلیدی عہدوں اورعام اسامیوں پر کام کرنے کے لیے سعودی شہریوں کی خدمات درکار ہیں-