پاکستان کی سپریم کورٹ نے کورونا وائرس از خود نوٹس کی سماعت کرتے ہوئے سامان کی خریداری سے متعلق این ڈی ایم اے کی رپورٹ مسترد کرتے ہوئے تمام تفصیلات پر مبنی جامع جواب طلب کر لیا ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ’وزیراعظم کو کہہ دیتے ہیں کہ سارا این ڈی ایم اے فارغ کردیں اور کسی کو ایک پیسہ بھی نہیں کھانے دیں گے۔‘
سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے کورونا ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی۔ عدالت نے ایس ای سی پی سے الحفیظ کمپنی کی تمام تفصیلات طلب کرلی ہیں۔مزید پڑھیں
-
’ڈیم فنڈ کا پیسہ سپریم کورٹ کے پاس محفوظ ہے‘Node ID: 482351
-
تمام جہاز چلتے پھرتے میزائل لگتے ہیں، سپریم کورٹNode ID: 487826
-
سپریم کورٹ کا ججز کے خلاف توہین آمیز ویڈیو پر نوٹسNode ID: 487846
سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ چین سے الحفیظ کے نام سے مشینری درآمد کی گئی، اس کے دستاویزات کہاں ہیں؟ گزشتہ تین سماعتوں سے دستاویزات مانگے جا رہے ہیں، تین بار حکم دینے کے باوجود دستاویز کیوں نہیں دی گئیں؟
نمائندہ این ڈی ایم اے کے جواب پر چیف جسٹس نے کہا کہ ’ابھی تک کمپنی کا مالک سامنے نہیں آسکا۔ اصل مسئلہ کسٹم اور دیگر قوانین پر عمل کرنا ہونا ہے۔ عدالتی احکامات کو سنجیدہ تک نہیں لیا۔ کیوں نہ این ڈی ایم اے کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کریں۔ ہم یہاں وضاحت کے لیے نہیں بیٹھے۔‘
’وزیراعظم کو کہہ دیتے ہیں کہ چیئرمین این ڈی ایم اے کو ہٹادیں کیونکہ عدالتی احکامات کی تضحیک کی گئی۔ ایک ہی کمپنی کو کیسے رعایت دی گئی۔ ہم وزیراعظم کو کہہ دیتے ہیں کہ سارا این ڈی ایم اے فارغ کردیں اور کسی کو ایک پیسہ بھی نہیں کھانے دیں گے۔‘
عدالت نے اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ ویکسین کی درآمد کے کاغذات کہاں ہیں؟ ویکسین کو تحویل میں لینے کا تمام ڈیٹا فراہم کرنا تھا، وہ ویکسین کہاں گئی؟
عدالت نے این ڈی ایم اے کی رپورٹ بھی مسترد کردی جب کہ چیف جسٹس نے کہا کہ ’کچھ سمجھ نہیں آ رہا کہ این ڈی ایم اے اربوں روپے کیسے خرچ کررہا ہے۔
چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کیا کہ اٹارنی جنرل صاحب کیا تماشہ چل رہا ہے۔ اٹارنی جنرل نے این ڈی ایم اے کا جمع کرایا گیا جواب واپس لینے کی استدعا کردی اور کہا کہ دستاویز سمیت جواب جمع کرائیں گے۔‘
