ہم اب تک یہ منظر کئی مرتبہ دیکھ چکے ہیں کہ نیب نے کسی جماعت کے سیاسی قائد کو طلب کیا، من پسند سوال کیے اور ایک جھوٹا سچا کیس بنا کر کسی کو چھ ماہ قید تنہائی میں ڈال دیا۔
کسی سے ہیروئین ’برآمد ہوئی‘، کسی پر اربوں کھربوں کی کرپشن کا بہتان لگا دیا گیا، کسی پر جائیداد میں خرد برد کا الزام لگا دیا گیا، کسی کو غدار بنا دیا گیا۔ نیب نے نہیں تو کسی اور نے کسی کو کافر قرار دے دیا۔
معاملات یہیں پر نہیں رکتے، اس کے بعد اصل انتقامی کارروائی شروع ہوتی ہے۔ ٹی وی پر میڈیا ٹرائل کیا جاتا ہے۔ سیاسی شخصیات کے پورے خاندان کی دھجیاں اڑائی جاتی ہیں، بنی بنائی عزت کو خاک میں ملاتے ہیں اور پھر جب یہ مقدمہ مدتوں بعد عدالتوں میں پیش ہوتا ہے تو ثبوت کی کمی کی بنا پر کیس خارج ہو جاتا ہے۔
مزید پڑھیں
-
میری ذات کو نقصان پہنچانے کے لیے نیب آفس بلایا گیا: مریم نوازNode ID: 498046
-
’مریم نواز کی پیشی پر ہنگامہ آرائی کی تحقیقات کی جائیں‘Node ID: 498126
-
مریم نواز کی پیشی اور چارلی چپلن بیکریNode ID: 498151
بے گناہ ملزم رہا ہو جاتے ہیں مگر اس وقت تک بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ پلوں تلے سے بہت سا پانی بہہ چکا ہوتا ہے۔ بہت سا وقت گزر چکا ہوتا ہے۔
ان ہتھکنڈوں کا شکار ہمیں زیادہ تر اپوزیشن کے سیاسی قائدیں نظر آئے۔ المیہ یہ ہے کہ حکومت کی کرپشن کی طرف نیب کی نظر کبھی نہیں جاتی، وفاقی وزرا کے کھاتے انہیں کبھی نظر نہیں آتے۔ یہ ادارہ صرف اپوزیشن کی سیاسی شخصیات کی توہین پر مامور لگتا ہے۔
سوچیے تو سہی، جن کی توہین کر کے، جن پر الزام لگا کر، گرفتاریاں کی گئیں وہ کوئی عام لوگ نہیں تھے، کوئی وزیر تھا اور کوئی وزیراعظم تھا جو اس ملک کے عوام کے ووٹوں سے اس منصب پر فائز ہوا تھا۔ تحقیر کا سلسلہ جاری تھا کہ پھر اچانک، بے وجہ نیب نے گذشتہ دنوں مریم نواز کو ایک الزام میں طلب کر لیا۔
توقع یہی تھی کہ مریم نواز نیب کے حضور پیش ہوں گی۔ نیب کے چھوٹے مگر طاقتور افسر جانے کس کے ایماء پر ان سے سوال کریں گے، شام کو سارے ٹاک شوز میں مریم نواز کی کرپشن کے قصے سنائے جائیں گے۔ نام نہاد سیاسی مبصر ہوا میں کاغذ لہرا لہرا کر اس کرپشن کے جھوٹے سچے ثبوت عوام کو دکھائیں گے اور مریم نواز کو پھر ایک الزام کے نتیجے میں گرفتار کر لیا جائے گا۔

لیکن اس دفعہ ایسا نہیں ہوا۔ اس دفعہ جو ہوا اس کی کسی ’بڑے آدمی‘ کو توقع نہیں تھی، نیب کے کسی افسر کو اس کا اندازہ نہیں تھا۔ نیب کے کھلونے میں چابی بھرنے والے اس ردعمل سے بے خبر تھے۔ مدتوں کے بعد جب مریم نواز گھر سے نکلیں تو ان کے ووٹر ان کے استقبال کو موجود تھے۔ مجھے نہیں معلوم ان لوگوں کی تعداد کتنی تھی یہ چند سو تھے یا چند ہزار تھے۔
پھر جو ہوا وہ گھبراہٹ، خوف اور پریشانی میں ہوا۔ کبھی کارکنوں کو مشق ستم بنایا گیا، کبھی لاٹھی چارج ہوا، کبھی آنسو گس کے شیل پھینکے گئے اور کبھی مریم نواز پر مبینہ ’قاتلانہ حملے‘ کی کوشش کی گئی۔ چند ہزار کارکنوں کو دیکھ کر سرکاری ترجمانوں کا سانس بھی پھول گیا۔ کسی نے فوری طور پر اپنی نگرانی میں پتھروں کے شاپروں کی فوٹیج بنوائی، کسی نے کارکنوں کو الزام دیا، کسی نے شرپسندی کے الزام میں گرفتاریاں شروع کر دیں۔
ہم نے ٹی وی پر یہ تماشا بھی دیکھا کہ جس پر الزام لگایا گیا وہ تو بڑی دلیری سے الزامات کا جواب دینے کے لیے وہیں کھڑی رہیں مگر الزام لگانے والے دبک کر بیٹھ گئے۔
وہ جو ہر سیاسی قائد کی دفتر بلا کر توہین کرتے تھے انہی کی ٹانگیں کانپنے لگیں۔ ان کی حماقتیں ٹی وی سکرینوں اور سوشل میڈیا پر ان کی قلعی کھولنے لگیں۔
اپنی تاریخ کے اس چھوٹے سے واقعے میں پوشیدہ ہمارے لیے بہت سے سبق ہیں۔ اس واقعے سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ عوام کی طاقت، عوام کی طاقت ہوتی ہے، عوام اگر اپنی بات منوانے پر آ جائیں تو جھوٹے اور منتقم المزاج ادارے ایک لمحے میں ڈھیر ہو جاتے ہیں۔
