وفاقی وزارت تعلیم نے وفاق کے زیرانتظام تعلیمی اداروں کے سربراہان کو ادارے کھولنے کے حوالے سے حکمتِ عملی تیار رکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے رواں سال سردیوں کی چھٹیوں میں بھی تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھنے کا کہا ہے۔
جمعے کو جاری کیے گئے مراسلے میں وفاقی وزارت تعلیم نے ہدایت جاری کی ہے کہ سنیچر کے روز بھی تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھی جائیں۔ تعلیمی ادارے کھلنے کے بعد طلبہ و طالبات کی آسانی کی مطابق آئندہ کا لائحہ عمل تیار کیا جائے گا۔
وفاقی وزارت تعلیم کے مطابق طلبہ و طالبات کا تعلیمی سال ضائع ہونے پر موجودہ حکمتِ عملی کو آئندہ سال بھی اپنانے پر غور کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں
-
’چھٹیوں کے دوران سکولوں کی فیسیں کم کی جائیں‘Node ID: 469056
-
سکولوں کی فیس میں 20 فیصد کمیNode ID: 469866
-
’حکومت کی ترجیح شادی اور سینما ہال ہیں‘Node ID: 496781
وفاقی نظامت تعلیمات (ایف ڈی ای) نے وفاقی دارالحکومت کے تمام تعلیمی اداروں کے سربراہان کو طریقہ پر عمل درآمد کروانے کی ہدایت کر دی ہے۔
اس سے قبل حکومت کی جانب سے ممکنہ طور پر سکول کھلنے پر احتیاطی تدابیر کے حوالے سے ہدایات جاری کی گئیں۔
جمعے کو اسلام آباد میں وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود اور وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے مشترکہ نیوز کانفرنس کی۔
شفقت محمود کا کہنا تھا سکول مرحلہ وار کھولے جائیں گے تاہم سکول کھلنے کا حتمی فیصلہ سات ستمبر کو ہی ہو گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ چھ ماہ میں بچوں کا کافی تعلیمی نقصان ہوا ہے۔
’بچوں کی سکولوں کو واپسی پر ٹیسٹ لیے جائیں گے تاکہ ان کے لرننگ لیول کا پتا چلے۔‘
شفقت محمود کا مزید کہنا تھا کہ سکول اسی لیے مرحلہ وار کھولے جا رہے ہیں تاکہ بیچ کے وقفے میں صورت حال کا جائزہ لیا جا سکے۔
’بیماری کے حالات اسی طرح رہے تو آہستہ آہستہ پرانے شیڈول پر چلے جائیں گے۔‘

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے احتیاطی تدابیر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ کی تعداد کو کم رکھنے کی کوشش کی جائے گی اور ایک وقت میں آدھی کلاس کو بلایا جائے گا۔
’اگر کسی کلاس میں 40 بچے ہیں تو بیس ایک روز اور بیس اگلے روز یا دوسرے وقت پر پڑھیں گے۔‘
ان کے بقول بچوں کے درمیان چھ فٹ کا فاصلہ رکھا جائے گا۔
ڈاکٹر فیصل سلطان نے یہ بھی یاد دلایا کہ بیماری ابھی ختم نہیں ہوئی اس لیے بچوں کے لیے ماسک پہننا بہت اہم ہوگا۔
انہوں نے والدین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی ماسک افورڈ نہیں کر سکتا تو ضروری نہیں سرجیکل ماسک پہنے جائیں، کپڑے سے بھی بنائے جا سکتے ہیں۔
