دودھ میں بہت سے اہم غذائی اجزا شامل ہوتے ہیں، اس میں کیلشیم ہوتا ہے جو ہڈیوں کی صحت، دانتوں، بلڈ پریشر اور وٹامن ڈی کو جسم میں برقرار رکھتا ہے۔ اس سے آنتوں میں کیلشیم جذب کرنے کی طاقت پیدا ہوتی ہے، لیکن کچھ لوگ دودھ کی الرجی کا شکار ہوتے ہیں۔ وہ دودھ میں موجود پروٹین کو برداشت نہیں کرسکتے ہیں، اس لیے وہ جانوروں کے دودھ کو پودوں سے نکلنے والا دودھ، جیسے بادام اور سویا وغیرہ کے دودھ کے ساتھ تبدیل کرسکتے ہیں۔
اس بارے میں ماہر غذائیت ڈاکٹر میرنا الفتی دودھ کی الرجی کے بارے میں بتاتی ہیں۔
مزید پڑھیں
-
کیا زیتون کا تیل کولیسٹرول کم کرنے میں مدد کر سکتا ہے؟Node ID: 528111
-
وزن میں کمی کے لیے جسم میں کیلوریز کو کم کیسے کیا جائے؟Node ID: 528831
-
بھوک کی وجہ سے ہونے والے سر درد کو کیسے کنٹرول کریں؟Node ID: 529181
الرجی کی بنیادی وجہ گائے کا دودھ
ماہر غذائیت ڈاکٹر میرنا الفتی کے مطابق 'گائے کا دودھ بچوں میں الرجی کی بنیادی وجہ ہوتا ہے، بچوں میں حساسیت عام طور پر پیدائش کے چند ماہ بعد تک ہی پائی جاتی ہے۔
'ماں کا دودھ پلانا بچوں کو الرجی سے بچانے کا ایک بہترین طریقہ ہے، تاہم کچھ مائیں گائے کا دودھ پیتی ہیں جس کی وجہ سے بچوں میں پروٹین منتقل ہوجاتی ہے۔'
ان کا کہنا ہے کہ 'بچہ جب ماں کا دودھ پیتا ہے تو اس میں غیر معمولی ردعمل ہوتا ہے اور کئی بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے، لہٰذا زیادہ تر ڈاکٹرز ماؤں کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ پہلے 6 ماہ کے دوران بچے کو دودھ پلایا کریں تاکہ الرجی اور انفیکشن کا خطرہ کم ہو۔'
دودھ کی الرجی والے لوگوں کا مدافعتی نظام اس میں موجود پروٹین کو نقصان دہ چیز کے طور پر شناخت کرتا ہے، جو ہسٹامین جیسے مدافعتی اینٹی باڈیز کی تیاری کا باعث بنتا ہے ، جو زیادہ تر الرجی کی علامات کا سبب بنتا ہے۔
واضح رہے کہ گائے کے دودھ میں دو اہم پروٹینز موجود ہوتے ہیں جو الرجی کا سبب بنتے ہیں، جو لوگ گائے کے دودھ سے الرجی رکھتے ہیں ان کو بھی اکثر سویا دودھ سے الرجی ہوتی ہے۔

عام طور پر دودھ کی الرجی والے بچوں کا ردعمل آہستہ ہوتا ہے۔ یہ علامات سے ظاہر ہوتا ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پیٹ میں درد، اسہال، خارش، وقفے وقفے سے کھانسی، بہتی ہوئی ناک، یا ہڈیوں میں انفیکشن، قے، سردی لگنے، جلد اور منہ میں سوجن، کم بلڈ پریشر اور سانس لینے میں دشواری کی شکل میں ظاہر ہوتی ہیں۔
دودھ کی الرجی کی تشخیص اور کن عناصر سے بچنا چاہیے؟
دودھ کی الرجی کی تشخیص کی ماہر ڈاکٹر میرنا الفتی کے مطابق 'اس کے لیے ڈاکٹرز متعدد طریقوں کا استعمال کرتے ہیں جیسے جلد سمیت ضروری جسمانی معائنہ کرنا ہے۔
خون کا ٹیسٹ خون میں اینٹی باڈیز کی مقدار کی پیمائش کرتا ہے، اگر اب بھی الرجی کا شبہ ہے۔
دودھ کی الرجی میں مبتلا افراد کے لیے ایسے کھانوں سے پرہیز کرنا چاہیے جن میں دہی، گاڑھے دودھ، پاؤڈر دودھ، مکھن، کریم اور پنیر شامل ہوں۔

اسی طرح ان میں چٹنی کے علاوہ پنیر، کسٹرڈ اور آئس کریم شامل ہیں، ان کھانوں کے علاوہ جن میں دودھ پروٹین ہوتا ہے۔ اس میں روٹی، کوکیز، کیک، چاکلیٹ کی کھیر، کریم، مارجرین، ڈبہ بند اور پری پیکیجڈ گوشت، تیارشدہ مکھن اور پنیر وغیرہ بھی شامل ہیں۔
دودھ یا دودھ پر مشتمل چیزوں کے کھانے سے پرہیز کرنے سے دودھ کی الرجی کا امکان کم ہوجاتا ہے، لہٰذا دودھ کی الرجی والے افراد اور ان بچوں کے والدین جن کے بچے الرجی میں مبتلا ہیں، انہیں کھانے کے لیبل احتیاط سے پڑھنا چاہییں۔
دودھ پروٹین بہت سارے کھانوں میں پائے جاتے ہیں، بشمول تمام دودھ کی مصنوعات، ڈبہ بند دودھ ، چٹنی ، گوشت اور دیگر دودھ والی مصنوعات میں کیسین شامل ہوسکتا ہے۔
دودھ الرجی کا علاج
ماہر غذائیت میرنا الفتی کا کہنا ہے کہ 'دودھ کی الرجی سے بچنے کا واحد حل دودھ اور دودھ کی مصنوعات سے بچنا چاہیے یہ اس کا تسلیم شدہ علاج ہے۔'
