سپریم کورٹ میں سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے کروانے کے حوالے سے صدارتی ریفرنس کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے کہا کہ 'اگر سینیٹ انتخابات آئین کے تحت کرائے جائیں تو خواتین کی مخصوص نشستیں ختم ہو جائیں گی۔ آئین سینیٹ الیکشنز کی بات تو کرتا ہے لیکن اس کا کوئی طریقہ کار وضع نہیں کیا گیا۔'
انھوں نے مزید کہا کہ 'سپریم کورٹ صدارتی ریفرنس پر فیصلہ کرنے کی پابند ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کی سزا کے حوالے سے دائر ریفرنس کے علاوہ اب تک دائر ہونے والے ریفرنسز پر فیصلے دیے گئے ہیں۔'چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے صدر ڈاکٹر عارف علوی کی جانب سے بھیجے گئے ریفرنس کی سماعت کی۔
مزید پڑھیں
-
’سینیٹ انتخابات شو آف ہینڈ نہیں بلکہ اوپن بیلٹ کے ذریعے ہوں گے‘Node ID: 525611
-
سینیٹ انتخابات: حکومت کیا چاہتی ہے اور اپوزیشن کی مخالفت کیوں؟Node ID: 525856
-
اوپن بیلٹ سینیٹ الیکشن: صدارتی ریفرنس سماعت کے لیے مقررNode ID: 528281
دوسری جمعیت علمائے اسلام ف نے سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ کے ذریعے کرانے کی مخالفت کی گئی ہے۔
پیر کو سماعت کے آغاز پر سینیٹر کامران مرتضیٰ نے عدالت کو بتایا کہ 'جمعیت علمائے اسلام پاکستان کا جواب رجسٹرار آفس قبول نہیں کر رہا۔ عدالت نے دو ہفتے کا وقت دیا تھا مگر ہمارا جواب جمع نہیں کر رہے۔'
اس پر چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ 'آپ جواب جمع کرائیں وصول کر لیں گے۔'
سینیٹر کامران مرتضیٰ نے بتایا کہ 'ان کی جماعت اوپن بیلٹ کے بجائے آئین کے تحت سینیٹ انتخابات کرانے کی حامی ہے۔' اس دوران سینیٹر رضا ربانی اور دو اور وکلا نے کیس میں فریق بننے کی استدعا کی جو منظور کر لی گئی۔
ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے جواب جمع کرانے کے لیے سپریم کورٹ سے مہلت مانگ لی۔ عدالت نے استدعا منظور کرتے ہوئے سندھ حکومت کو ایک ہفتے کا وقت دے دیا۔
اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے تحریری معروضات جمع کرائیں تو چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ 'تمام فریقین کے جوابات آنے کے بعد سب کو دیکھیں گے۔'

اٹارنی جنرل نے اپنے دلائل میں کہا کہ 'صدارتی ریفرنس آرٹیکل 226 کے سکوپ سے متعلق ہے۔ سپریم کورٹ، صدر کی جانب سے بھیجے گئے ریفرنس پر رائے دینے کی پابند ہے۔ سپریم کورٹ مستقبل کی قانون سازی سے متعلق بھی رائے دے سکتی ہے۔ صدارتی ریفرنس آرٹیکل 186 کے تحت قابل سماعت ہے۔'
جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ 'کیا کوئی آزاد حیثیت میں سینیٹ الیکشن لڑ سکتا ہے؟ 'اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ آزاد حیثیت میں امیدواروں کے سینیٹ الیکشن لڑنے پر پابندی نہیں۔'
جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ 'عدالت نے فیصلہ کرنا ہے کہ یہ سوال قانونی یا عوامی مفاد کا ہے یا نہیں۔'
اٹارنی جنرل نے کہا کہ 'ماضی میں بھی قوانین پر سپریم کورٹ سے رائے لی گئی۔ کئی بار قانون سازی سے قبل صدر نے عدالتوں سے رائے مانگی۔ عدالت ماضی میں بھی صدارتی ریفرنسز قابل سماعت قرار دے چکی ہے۔'

'بنگلہ دیش کو تسلیم کرنے کے معاملے پر بھی صدارتی ریفرنس آیا تھا۔ عدالت نے کہا تھا کہ پارلیمنٹ بنگلہ دیش کو تسلیم کرنے یا مسترد کرنے کی قرارداد منظور کر سکتی ہے۔ عدالت عظمیٰ ذوالفقار علی بھٹو ریفرنس کی سزا کے علاوہ عدالت تمام ریفرنسز پر فیصلہ دے چکی ہے۔'
اٹارنی جنرل نے کہا کہ 'جہاں جہاں آئین کے مطابق انتخابات کروانے کا کہا گیا وہاں آئین نے اس کا طریقہ کار بھی وضع کیا ہے۔ آئین سینیٹ انتخابات کی بات تو کرتا ہے لیکن اس کا کوئی طریقہ کار وضع نہیں کیا گیا۔ آرٹیکل 226 میں انتخابات آئین کے تحت کروانے کا کہا گیا ہے۔'
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ 'آئین میں انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے کسی جگہ آئین کی روح سے کروانے یا آئین کے تحت کروانے کا کہا گیا۔'
'اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ 'اگر مان لیا جائے کہ سینیٹ انتخابات آئین کے تحت ہوتے ہیں تو خواتین کی مخصوص نشستیں ختم ہو جائیں گی۔'
چیف جسٹس نے پوچھا کہ 'آئین کے تحت کون سے انتحابات ہوتے ہیں؟ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ 'جن انتخابات کا طریقہ کار آئین میں نہیں وہ قانون کے تحت ہوں گے۔'
