انڈیا: ریشمی ساڑھیوں کی صنعت کو مہنگائی، طلب میں کمی کی وجہ سے خطرہ
انڈیا: ریشمی ساڑھیوں کی صنعت کو مہنگائی، طلب میں کمی کی وجہ سے خطرہ
پیر 4 اکتوبر 2021 15:32
ساڑھیوں سے کاریگروں کو 10 فیصد سے بھی کم کا منافع ہو رہا ہے۔ فوٹو: روئٹرز
انڈیا کے شہر بنارس کی تنگ گلیاں ملک کی مشہور ریشم کی صنعت کا مرکز مانی جاتی ہیں۔
یہاں کورونا وائرس کے پھیلاو کے نیتجے میں ہونے والے اقتصادی بحران کی وجہ سے ریشم کا کام کرنے والے کئی کاریگروں نے اپنے اڈے بند کردیے تھے۔ اور کچھ نے اپنے بچوں کو سکولوں سے نکال لیا تھا کیونکہ فیس بھی ایک بوجھ بن گئی تھی۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اس وقت بھی دریائے گنگا کے اس شہر میں ریشم کی ساڑھیوں کی فروحت کورونا وبا سے پہلے کے مقابلے میں 70 فیصد کم ہے۔
محمد قاسم نامی ایک کاریگر، جنہوں نے اپنی 16 میں سے دو لومز بیچ دیں ہیں، کا کہنا ہے کہ 'قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں اور میں اس رقم کا ایک تہائی بھی نہیں کما پا رہا جو میں وبا سے پہلے کما لیتا تھا۔'
پٹرول، ڈیزل، گیس اور دیگر اشیا کی قیمتوں میں اضافہ اس کاروبار کو مزید نقصان پہنچا رہا ہے جو پہلے سے وبا سے متاثر ہیں۔
چاندی، سونے اور تانبے کے دھاگوں سے سجی یہ بنارسی ریشمی ساڑھیاں بنتی تو بنارس میں ہیں لیکن پورے انڈیا اور بیرون ملک بھی فروخت کی جاتی ہیں۔
ساڑھی بنانے والے کاریگروں کا کہنا ہے کہ ساڑھیوں کی طلب میں کمی کی وجہ سے انہیں مشکلات کا سامنا ہے۔ طلب میں کمی کی وجہ ساڑھی بنانے کے لیے سستے سامان کا استعمال ہے۔
قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے وہ سستے کپڑے اور دھاگے کا انتخاب کرنے پر مجبور ہیں۔
محمد قاسم کے مطابق را سلک کی قیمت تین ہزار 500 انڈین روپے سے بڑھ کر چار ہزار 500 روپے فی کلوگرام تک جا پہنچی ہے۔
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اس وقت بھی اس وقت بھی ساڑھیوں کی فروحت کورونا وبا سے پہلے کے مقابلے میں 70 فیصد کم ہے۔ فائل فوٹو: اے ایف پی
جبکہ بروکیڈ کے لیے استعمال ہونے والے تانبے اور چاندی کے دھاگے کی قیمتیں 40 فیصد بڑھ گئی ہیں۔
اس کی وجہ سے ساڑھیوں سے کاریگروں کو 10 فیصد سے بھی کم کا منافع ہو رہا ہے۔
محمد قاسم کا شمار چھوٹے کاروبار میں کام کرنے والے ان لاکھوں انڈین افراد میں ہوتا ہے جو کُل نوکریوں کا 90 فیصد ہیں اور قیمتوں میں اضافے اور گرتی طلب سے پریشان ہیں۔
کئی ترقی یافتہ ممالک میں حکومتوں نے وبا سے معاشی طور پر متاثر ہونے والوں کو پیکیجز دیے ہیں۔ لیکن انڈیا میں حکومت صرف بینک کے قرض اور غریب کو مفت اناج فراہم کر رہی ہے۔
بنارس میں کپڑوں کے تاجروں کی تنظیم کے جنرل سیکریٹری راجن بیھال کا کہنا ہے کہ حکومتی صمانت کے باوجود کئی کاروباری افراد بینک سے قرض لینے سے گریز کر رہے ہیں۔
ساڑھی بنانے کی صنعت سے بنارس اور گرد و نواح کے تقریباً 15 لاکھ افراد کا گھر چلتا ہے۔ فوٹو: روئٹرز
انہوں نے روئٹرز کو بتایا کہ 'اگر (کپڑے کی) ڈیمانڈ ہوتی تو ہم خوشی خوشی اپنی پراپرٹی گروی رکھوا دیتے۔'
ساڑھی بنانے کی صنعت سے بنارس اور گرد و نواح میں تقریباً 15 لاکھ افراد کا گھر چلتا ہے اور یہ صنعت سالانہ 700 ارب روپے کما لیتی ہے۔ لیکن یہاں 'غیر اعلانیہ بحران ہے'۔
پاوور لوم میں کام کرنے والے 45 سالہ محمد سراج کا کہنا تھا کہ ان کے گھر والے حکومت کی جانب سے فراہم کردہ مفت اناج پر گزارا کر رہے ہیں۔ ’میں نے اپنی بیٹیوں کو سکول سے نکال دیا ہے کیونکہ میں ان کی فیس نہیں دے سکتا۔'