Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پاکستان میں انٹرنیٹ صارفین تک کیسے پہنچتا ہے؟

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات میں فجیرہ کے مقام پر ’سب میرین کیبل‘ میں خرابی کے سبب پاکستان میں انٹرنیٹ صارفین کو سروسز میں دشواری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
منگل کو اپنی ایک ٹویٹ میں پی ٹی اے کا کہنا تھا کہ کیبل کی مرمت کا کام مکمل ہوچکا ہے اور اسے پوری طرح سے فعال کرنے کا کام بھی جاری ہے۔
’پی ٹی اے اس صورت حال کو مانیٹر کررہی ہے اور صارفین کو اپ ڈیٹ رکھے گی۔‘
اس سے قبل گذشتہ رات پاکستان ٹیلی کمیونکیشن کمپنی لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) نے کہا تھا کہ 'دبئی کے قریب 25 ہزار کلومیٹر طویل ایشیا یورپ ڈبل اے ای ون کیبل میں خرابی پیدا ہو گئی ہے۔'
پی ٹی سی ایل کا ایک بیان میں کہنا ہے کہ 'کیبل کی خرابی کی وجہ سے پاکستان میں انٹرنیٹ سپیڈ سست ہو گئی ہے۔'
کمپنی کے ترجمان کا کہنا تھا کہ 40 ٹیرا بائیٹ کی اہم ترین زیر آب کیبل فجیرا کے قریب خراب ہو گئی جس سے انٹرنیٹ ڈیٹا ٹریفک دیگر کم گنجائش والے کیبلز پر منتقلی کیا جا رہا ہے۔

پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ یو اے ای میں فجیرہ کے مقام پر ’سب میرین کیبل‘ میں خرابی کے سبب پاکستان میں انٹرنیٹ سروسز متاثر ہو سکتی ہیں (فوٹو: اے ایف پی)

ترجمان نے بتایا کہ 40 ٹیرابائیٹ انٹرنیٹ کیبل کی مرمت میں کئی دن لگ سکتے ہیں۔

پاکستان میں انٹرنیٹ کے کیا ذرائع ہیں؟

پاکستان کے پاس زیرسمندر کیبلز اور سطح زمین سے ملنے والے چھ ایسے ذرائع ہیں جو اسے انٹرنیٹ کے ذریعے باقی دنیا سے ملاتے اور صارفین کو معلومات کی وسیع دنیا تک راستہ فراہم کرتے ہیں۔
زیرسمندر کیبلز ہوں یا چین سے مہیا کی جانے والی فائبر آپٹک کیبل، دونوں پاکستان کو دنیا کے مختلف ملکوں سے جوڑنے کرنے کے لیے پی ٹی سی ایل، ٹرانس ورلڈ اور حکومتی انتظام کے تحت پاکستان تک پہنچتی ہیں۔
پاکستان میں انٹرنیٹ ٹریفک سے متعلق اداروں کی تنظیم انٹرنیٹ سروس پرووائیڈرز ایسوسی ایشن آپ پاکستان (اسپاک) کے مطابق پاکستان میں انٹرنیٹ کی فراہمی کی ذمہ داری پی ٹی سی ایل اور ٹرانس ورلڈ کے پاس ہے۔ بطور انٹرنیٹ سروس پرووائیڈر، پی ٹی سی ایل اور ٹرانس ورلڈ خود بھی صارفین کو ڈیٹا سروسز فراہم کرتے ہیں جب کہ دیگر ٹیلی کام ادارے اور دیگر آئی ایس پیز بھی یہ خدمات فراہم کرتی ہیں۔

پی ٹی سی ایل ملک میں دو ہزار سے زائد مقامات پر براہ راست یا دوسرے ذرائع سے انٹرنیٹ فراہم کرتا ہے (فوٹو: اے ایف پی)

انٹرنیٹ فراہمی کے حوالے سے دستیاب ڈیٹا کے مطابق پی ٹی سی ایل ملک میں دو ہزار سے زائد مقامات پر براہ راست یا دوسرے ذرائع سے انٹرنیٹ فراہم کرتا ہے، جس کی رفتار 100 ایم بی پی ایس تک ہوتی ہے۔ ٹرانس ورلڈ اور پی ٹی سی ایل کا ڈیٹا ملا کر مجموعی طور پر پاکستان کو 2500 جی بی پی ایس کی بینڈوڈتھ مہیا رہتی ہے۔
پاکستان ٹیلی کیمونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی جانب سے دسمبر 2020 تک کے دستیاب ڈیٹا کے مطابق ملکی آبادی کا تقریبا 44 فیصد (نو کروڑ 30 لاکھ) انٹرنیٹ تک رسائی رکھتا ہے۔
پاکستانی صارفین کو ڈی ایس ایل، فائبر آپٹک، موبائل براڈ بینڈ، وائی میکس، سیٹیلائٹ سمیت تقریبا 18 ذرائع سے انٹرنیٹ میسر ہوتا ہے۔
پاکستان میں ٹیلی کام سیکٹر کی افزائش کے حوالے سے اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ٹیلی کام ماہر یاسر امین کا کہنا تھا کہ کیبل انٹرنیٹ اور براڈبینڈ کنکشنز کو عموما ایک یوزر تسلیم کیا جاتا ہے لیکن عمومی مشاہدہ ہے کہ ان کنکشنز کو بعض اوقات درجنوں صارفین استعمال کر رہے ہوتے ہیں۔ اس بنیاد پر کہا جاتا ہے کہ ملک میں انٹرنیٹ کنکشن تک رسائی رکھنے والوں کی تعداد ملکی آبادی کا 60 فیصد یا اس سے زائد ہوگی۔

شیئر: