پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات میں فجیرہ کے مقام پر ’سب میرین کیبل‘ میں خرابی کے سبب پاکستان میں انٹرنیٹ صارفین کو سروسز میں دشواری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
منگل کو اپنی ایک ٹویٹ میں پی ٹی اے کا کہنا تھا کہ کیبل کی مرمت کا کام مکمل ہوچکا ہے اور اسے پوری طرح سے فعال کرنے کا کام بھی جاری ہے۔
A submarine cable fault was reported yesterday near Fujairah, UAE due to which some users may have faced degradation in services. The faulty cable segment has been repaired & work is underway to make the services fully functional.
— PTA (@PTAofficialpk) October 12, 2021
’پی ٹی اے اس صورت حال کو مانیٹر کررہی ہے اور صارفین کو اپ ڈیٹ رکھے گی۔‘
مزید پڑھیں
-
انٹرنیٹ کی عادت صحت اور مزاج پر کس قدر اثرانداز ہوتی ہےNode ID: 600831
-
جانیے کہ آپ کے انٹرنیٹ کی رفتار کیا ہے؟Node ID: 601446
اس سے قبل گذشتہ رات پاکستان ٹیلی کمیونکیشن کمپنی لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) نے کہا تھا کہ 'دبئی کے قریب 25 ہزار کلومیٹر طویل ایشیا یورپ ڈبل اے ای ون کیبل میں خرابی پیدا ہو گئی ہے۔'
پی ٹی سی ایل کا ایک بیان میں کہنا ہے کہ 'کیبل کی خرابی کی وجہ سے پاکستان میں انٹرنیٹ سپیڈ سست ہو گئی ہے۔'
کمپنی کے ترجمان کا کہنا تھا کہ 40 ٹیرا بائیٹ کی اہم ترین زیر آب کیبل فجیرا کے قریب خراب ہو گئی جس سے انٹرنیٹ ڈیٹا ٹریفک دیگر کم گنجائش والے کیبلز پر منتقلی کیا جا رہا ہے۔

ترجمان نے بتایا کہ 40 ٹیرابائیٹ انٹرنیٹ کیبل کی مرمت میں کئی دن لگ سکتے ہیں۔
پاکستان میں انٹرنیٹ کے کیا ذرائع ہیں؟
پاکستان کے پاس زیرسمندر کیبلز اور سطح زمین سے ملنے والے چھ ایسے ذرائع ہیں جو اسے انٹرنیٹ کے ذریعے باقی دنیا سے ملاتے اور صارفین کو معلومات کی وسیع دنیا تک راستہ فراہم کرتے ہیں۔
زیرسمندر کیبلز ہوں یا چین سے مہیا کی جانے والی فائبر آپٹک کیبل، دونوں پاکستان کو دنیا کے مختلف ملکوں سے جوڑنے کرنے کے لیے پی ٹی سی ایل، ٹرانس ورلڈ اور حکومتی انتظام کے تحت پاکستان تک پہنچتی ہیں۔
پاکستان میں انٹرنیٹ ٹریفک سے متعلق اداروں کی تنظیم انٹرنیٹ سروس پرووائیڈرز ایسوسی ایشن آپ پاکستان (اسپاک) کے مطابق پاکستان میں انٹرنیٹ کی فراہمی کی ذمہ داری پی ٹی سی ایل اور ٹرانس ورلڈ کے پاس ہے۔ بطور انٹرنیٹ سروس پرووائیڈر، پی ٹی سی ایل اور ٹرانس ورلڈ خود بھی صارفین کو ڈیٹا سروسز فراہم کرتے ہیں جب کہ دیگر ٹیلی کام ادارے اور دیگر آئی ایس پیز بھی یہ خدمات فراہم کرتی ہیں۔
