Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سادھوکی میں پولیس کی شیلنگ، مظاہرین کا پتھراؤ، ’ایک اہلکار ہلاک‘

تحریک لبیک نے کہا تھا کہ لانگ مارچ دوبارہ شروع کر دیں گے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
کالعدم تنظیم تحریک لبیک کے لانگ مارچ کو پولیس نے گوجرانوالہ کے قریب جی ٹی روڈ پر سادھو کی کے مقام پر پیش قدمی سے روک رکھا ہے۔ پولیس کی جانب سے وقفے وقفے سے شیلنگ جاری ہے جبکہ مارچ کے شرکا بھی پولیس پر جوابی پتھراؤ کر رہے ہیں۔ 
مارچ کو روکنے کے لیے پولیس نے سادھو کی کے قریب سڑک کو کاٹ کر خندق بنا دی ہے۔ جبکہ اس کے اطراف میں مٹی کے کنٹینر رکھ کر سڑک کو ہر طرح کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا ہے۔
خندق سے ایک کلومیٹر پیچھے ہی پولیس نے چاروں طرف سے مارچ پر شیلنگ کی جبکہ اس سے پہلے سپیکروں سے اعلان کر کے مارچ کے شرکا کو رکنے کی وارننگ بھی دی جاتی رہی۔ اس دوران ریلی کے اوپر فضا میں دو ہیلی کاپٹر بھی نمودار ہوئے جو ریلی کی نگرانی کرتے رہے۔ پولیس نے شرکا کو اسلام آباد کی طرف مارچ کرنے سے روکنے کے لیے پانی کا چھڑکاؤ بھی کیا۔ 
جی ٹی روڈ پر اس وقت گوجرانولہ سے لاہور کے درمیان ٹریفک مکمل طور پر بند ہے۔
دوسری جانب لاہور سے اردو نیوز کے نامہ نگار رائے شاہنواز کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ قصور سے تعلق رکھنے والے ایک اے ایس آئی کی ہلاکت ہوئی ہے، جبکہ ٹی ایل پی نے بھی ہلاکتوں کا دعویٰ کیا ہے جس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
ٹی ایل پی کے مارچ کو روکنے کے لیے اس وقت لاہور، شیخوپورہ اور گوجرانوالہ کی پولیس فورس کو استعمال کیا جا رہا ہے۔ جبکہ مارچ کے چاروں اطراف میں انٹرنیٹ کی سہولت پہلے ہی منقطع کی جا چکی ہے۔
اس سے پہلے 10 بجے کے قریب مریدکے سے ٹی ایل پی نے مارچ کا دوبارہ آغاز کیا تھا اور راستے میں حکومت کی طرف سے کھڑے کنٹینر کرین کی مدد سے ہٹا کے راستہ صاف کیا گیا۔  
پنجاب پولیس کے ایک اعلی عہدیدار نے اردو نیوز کو بتایا کہ پولیس نے سادھوکی سے پہلے مارچ کو روکنے کی تیاری کررکھی ہے اور اس مقصد کے لیے رات گئے ہزاروں پولیس اہلکار اس علاقے میں تعینات کر دیے گئے تھے۔
اس سے قبل کالعدم مذہبی جماعت تحریک لبیک نے مریدکے میں چار روز دھرنے کے بعد حکومت کی جانب سے مقررہ وقت پر مطالبات نہ ماننے کے بعد اسلام آباد کی طرف دوبارہ مارچ شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔

اس مارچ کی قیادت کرنے والے مفتی محمد وزیر کے مطابق ’ہم نے اسلام آباد کی طرف مارچ دوبارہ شروع کر دیا ہے۔ ہم نے پوری کوشش کی کہ مذاکرات کامیاب ہوں، لیکن حکومت سنجیدہ نہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ مارچ کے شرکا پر امن رہیں گے۔  
مریدکے میں مقامی صحافیوں کےمطابق صبح ساڑھے آٹھ بجے کے بعد ٹی ایل پی نے سڑک پر لگائے گئے اپنے خیمے اکھاڑنا شروع کر دیے اور قیادت کے سٹیج کے گرد جمع ہونا شروع ہو گئے جہاں سٹیج سے اعلان کیے گئے کہ اب یہ مارچ اسلام آباد کی طرف روانہ ہوگا۔ ساڑھے دس بجے کے لگ بھگ مارچ نے اسلام آباد کی طرف رخ کیا۔

فیض آباد کے مقام پر ہٹائے گئے کنٹینرز دوبارہ لگا دیے گئے ہیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)

ادھر پنجاب پولیس کی بھاری نفری مریدکے سے آگے تعینات کی جا چکی ہے۔ جس میں مریدکے شیخوپورہ اور لاہور کے ہزاروں پولیس اہلکار شامل ہیں۔ 
تحریک لبیک کے ممکنہ طور پر مریدکے سے لانگ مارچ دوبارہ شروع کرنے کے پیش نظر اسلام آباد میں فیض آباد کے مقام پر ہٹائے گئے کنٹینرز دوبارہ لگا دیے گئے ہیں۔ 
بدھ کی رات گئے مری روڈ راولپنڈی سے اسلام آباد داخل ہونے کا راستہ بند کر دیا گیا اور اس کے علاوہ دیگر راستے بھی بند کر دیے گئے ہیں۔
واضح رہے کہ گذشتہ روز تحریک لبیک پاکستان کی مذاکراتی کمیٹی کے رکن پیر سرور شاہ نے کہا تھا کہ ’حکومت نے فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کا معاملہ پارلیمنٹ میں لے جانے کا وعدہ کیا تھا اور اگر رات 12 بجے تک  مطالبہ پورا نہیں ہوتا تو ہم بدھ کی صبح اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ شروع کر دیں گے اور پھر جو بھی ہو گا اس کی ذمہ دار حکومت ہوگی۔
اردو نیوز کے ساتھ بات کرتے ہوئے پیر سرور شاہ کا کہنا تھا کہ ’حکومت نے ان سے کہا تھا کہ فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کا معاملہ وہ پارلیمنٹ کے ذریعے حل کروائیں گے اور اس کے لیے منگل رات 12 بجے تک کی ڈیڈلائن رکھی گئی تھی۔
ہمارا یہ مؤقف تھا کہ اصل مسئلہ فرانسیسی سفیر کا ہے، باقی ہمارے امیر کی گرفتاری اور ہمیں کالعدم قرار دینا اس معاملے پر آواز اٹھانے کی وجہ سے ہوا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے اپنے وعدے کا پاس رکھا اور حکومت کے کہنے پر مریدکے سے آگے نہیں بڑھے۔

شیخ رشید کے مطابق ’فرانس اس وقت یورپ کو لیڈ کر رہا ہے اور سارے یورپی ممالک اس کے ساتھ کھڑے ہیں۔‘ (فوٹو: اے ایف پی)

دوسری جانب پاکستان کے وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ فرانسیسی سفیر کو نکالنے میں مسئلے ہیں۔ میں رات کو آٹھ بجے اور بدھ کی صبح 10 بجے کالعدم تحریک لبیک کے ساتھ رابطہ کروں گا۔ 
منگل کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شیخ رشید کا کہنا تھا کہ کالعدم ٹی ایل پی کے تمام مطالبات مان لیے گئے ہیں سوائے فرانس کے سفارت خانے کی بندش اور سفیر کو نکالنے کے، آج رات آٹھ بجے ان سے پھر بات کی جائے گی۔
وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ’کالعدم تحریک لبیک پاکستان نے آج رات راستے کھولنے کا کہنا تھا۔ ہم اس کا انتظار کر رہے ہیں۔‘
انہوں نے فرانسیسی سفیر کو نکالنے کے مطالبے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان ایک جوہری طاقت ہے اور ہمارے اوپر پابندیاں لگانے کی سازشیں ہو رہی ہیں۔‘
شیخ رشید کے مطابق ’فرانس اس وقت یورپ کو لیڈ کر رہا ہے اور سارے یورپی ممالک اس کے ساتھ کھڑے ہیں۔‘

اسلام آباد ٹریفک پولیس کے مطابق  ہائی وے سے آئی جے پی روڈ کے لیے ڈائیورشن ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)

انہوں نے امید ظاہر کی کہ ’ٹی ایل پی اپنے وعدے کے مطابق سڑکوں کو خالی کر دے گی۔‘

اسلام آباد، راولپنڈی ٹریفک پلان

اسلام آباد ٹریفک پولیس کے مطابق  ہائی وے سے آئی جے پی روڈ کے لیے ڈائیورشن ہے۔ متبادل راستے کے طور پر اسلام آباد ہائی وے استعمال کریں۔
نائنتھ ایونیو سگنل پر بجانب سٹیڈیم روڈ دونوں اطراف کی ٹریفک کے لیے ڈائیورشن ہے۔ متبادل کے طور پر پشاور روڈ یا اسلام آباد ہائی وے استعمال کریں۔
آئی جے پی روڈ پر نائنتھ ایونیو سگنل سے بجانب فیض آباد دونوں اطراف کی ٹریفک کے لئے ڈائیورشن ہے۔ متبادل کے طور پر نائنتھ ایونیو استعمال کریں۔
راول ڈیم چوک سے فیض آباد کی طرف دونوں اطراف کی ٹریفک کے لیے ڈائیورشن ہے۔ متبادل راستے کے طور پر راول ڈیم چوک سے اسلام آباد ہائی وے جانے کے لئے لہتراڑ روڈ بذریعہ پارک روڈ استعمال کریں۔ اور آئی جے پی روڈ جانے والے نائنتھ ایونیو بذریعہ سری نگر ہائی وے استعمال کریں۔

شیئر: