سپریم کورٹ نے ری ایمپلائمنٹ ایکٹ کو غیر قانونی قرار دیے جانے کے خلاف نظرثانی درخواستوں پر اپنے فیصلے میں برطرف ملازمین کو بحال کر دیا ہے۔
جمعے کو سپریم کورٹ نے 16 ہزار ملازمین کی برطرفی کے فیصلے کے خلاف دائر اپیلوں پر فیصلہ سنایا۔ عدالت نے اس ایکٹ کے بارے میں اپنے فیصلے کو برقرار رکھا۔ تاہم عدالت نے ملازمین کی بحالی سے متعلق حکومتی تجاویز کو تسلیم کر لیا۔
سپریم کورٹ کے مطابق گریڈ ایک سے گریڈ سات تک کے تمام برطرف ملازمین کو نوکریوں پر بحال کیا گیا ہے جبکہ گریڈ آٹھ اور اس سے اوپر کے ملازمین کا اگر کوئی ٹیسٹ ضروری تھا تو وہ دینا ہوگا۔
سپریم کورٹ کے جج عمر عطا بندیال نے فیصلہ پڑھ کر سنایا، جسٹس منصور علی شاہ نے اکثریتی فیصلے سے اختلاف کیا۔ سپریم کورٹ کے مطابق تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔
مزید پڑھیں
-
لاہور میں اوورسیز پاکستانیوں کے لیے علیحدہ عدالتیں مختصNode ID: 625681
-
سرکاری ملازمین کی بحالی یا مستقل معزولی کا فیصلہ جمعرات کو ہوگاNode ID: 627471عدالت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’وہ ملازمین جو کرپشن، مس کنڈکٹ یا عدم حاضری کی وجہ سے نکالے گئے ان کی برطرفی برقرار رہے گی۔‘
سپریم کورٹ آف پاکستان نے جمعرات کو 16 ہزار سے زائد سرکاری ملازمین کی ایکٹ کے ذریعے بحالی پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔
جمعرات کو سپریم کورٹ میں جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے کیس کی سماعت کرتے ہوئے اٹارنی جنرل آف پاکستان کو دلائل کا ایک اور موقع دیا جس میں اٹارنی جنرل نے گذشتہ روز اپنی دی گئی تجاویز کو درخواست گزاروں کے وکلا کی رضامندی سے مشروط کردیا۔
اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ ’اپنی دی گئی تجاویز میں دو وضاحتیں پیش کرنا چاہتا ہوں۔ جن ملازمین کو مس کنڈکٹ یا ڈیوٹی سے غیر حاضری پر نکالا گیا ان پر ہماری تجاویز کا اطلاق نہیں ہوگا۔‘
