پاکستان کے زیرانتطام کشمیر کے وزیراعظم سردارعبد القیوم نیازی کے خلاف ان کی اپنی ہی جماعت اور کابینہ کے ارکان نے تحریک عدم اعتماد جمع کرا دی ہے۔
تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کے لیے اجلاس 16 اپریل کو طلب کر لیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں
-
پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے وزیراعظم عبدالقیوم نیازی کون ہیں؟Node ID: 588406
-
عمران خان اپوزیشن میں کتنے خطرناک ہو سکتے ہیں؟Node ID: 660076
-
وزیراعظم شہباز شریف کی پہلی تقریر پر سوشل میڈیا کیا کہتا ہے؟Node ID: 660386
سیکرٹری قانون ساز اسمبلی کے دفتر میں تحریکِ عدم اعتماد ڈپٹی سپیکر چوہدری ریاض، وزیر خوراک علی شان سونی اور پارلیمانی سیکریٹری بحالیات اکبر ابراہیم نے جمع کرائی۔ تحریکِ عدم اعتماد پی ٹی آئی کے 25 ارکان اسمبلی اور وزراء کے دستخطوں کے ساتھ جمع کرا دی گئی ہے۔
جن ارکان نے تحریک عدم اعتماد پر دستخط کیے ہیں ان میں عبدالماجد خان، اکبر ابراہیم، امتیاز نفیس، شاہدہ صغیر، چوہدری علی شان سونی، جاوید بٹ، محمد رفیق، نثار انصر، ملک ظفر، چوہدری اخلاق، یاسر سلطان، چوہدری ارشد، فہیم ربانی، محمد رشید، ریاض احمد، مقبول احمد، سردار احمد حسن خان، تقدیس کوثر گیلانی، خواجہ فاروق احمد، محمد مظہر سید، محمد اقبال، مظہر صادق، دیوان علی خان اور محمد اکمل سرگالہ شامل ہیں۔
پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے وزیر بلدیات خواجہ فاروق احمد نے منگل کو اپنے ٹویٹ میں لکھا کہ ’یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ اے جے کے اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد کی قرارداد چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی منظوری سے جمع کرائی گئی ہے۔‘
Let it be clear to everyone that the no confidence resolution in AJK Assembly has been submitted on the advice of and after approval from @PTIofficial Chairman @ImranKhanPTI to frustrate a move by PPP-PMLN nexus.
We stand united under the leadership of Khan sahib.— Khawaja Farooq Ahmed (@KhawajaFarooqA2) April 12, 2022
انہوں نے لکھا ’اس کا مقصد مسلم لیگ نواز اور پیپلزپارٹی کے گٹھ جوڑ کو ناکام بنانا ہے۔‘
اس سے قبل پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے وزیراعظم عبدالقیوم نیازی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ’تحریک عدم اعتماد ایک جمہوری عمل ہے۔ دیکھتے ہیں کہ آگے کیا ہوتا ہے۔‘
قانون ساز اسمبلی کے کل 53 ارکان میں سے پی ٹی آئی کے ارکان کی تعداد 31 ہے۔ تحریک عدم اعتماد پر 14 روز کے اندر قانون ساز اسمبلی میں ووٹنگ ہوگی۔
واضح رہے کہ کشمیر میں بھی فلورکراسنک کرنے والے ارکان کو ڈی سیٹ کیا جا سکتا ہے تاہم اگر کسی جماعت 51 فیصد ارکان فاورڈ بلاک بنا لیں تو ان پر یہ ضابطہ لاگو نہیں ہوتا۔
وزیراعظم سردار عبدالقیوم نیازی کی جگہ پاکستان تحریک انصاف کے صدر سردار تنویر الیاس کو بطور متبادل امیدوار تجویز کیا گیا ہے۔
تحریک عدم اعتماد کیوں لائی گئی ہے؟
قانون ساز اسمبلی کے ارکان نے سیکرٹری قانون ساز اسمبلی کے پاس جمع کرائی گئی تحریک عدم اعتماد میں وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کی وجوہات بھی درج کی ہیں۔ ارکان کا موقف ہے کہ سردار عبدالقیوم نیازی پارلیمانی پارٹی کا اعتماد کھو چکے ہیں۔ وہ تحریک انصاف کے منشور پر عمل در آمد کرانے میں ناکام ہو چکے ہیں۔ ان کے دور میں میرٹ کی پامالی، اقربا پروری اور گڈ گورنینس کا فقدان ہے۔ ارکان کا کہنا ہے کہ سردار عبدالقیوم نیازی مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے میں بھی مکمل طور پر ناکام ہوئے ہیں۔
سردار عبدالقیوم نیازی کون ہیں؟
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیراعظم سردار عبدالقیوم نیازی کا تعلق ضلع پونچھ کی تحصیل عباس پور کے سیکٹر بٹل کے گاؤں ڈیرا شیر خان سے ہے۔ سردار عبدالقیوم نیازی ضلع کونسل کے رکن رہنے کے علاوہ مسلم کانفرنس کی حکومت میں 2006 سے 2008 تک وزیر خوراک اور بعد ازاں 2010 سے 2011 تک سردار عتیق احمد خان کی دوسری کابینہ میں وزیر جنگلات بھی رہ چکے ہیں۔
کشمیر کی سب سے پرانی سیاسی جماعت مسلم کانفرنس سے سیاست کا آغاز کرنے والے سردار عبدالقیوم نیازی نے 2016 میں پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی۔
پی ٹی آئی نے انتخابات 2021 کے لیے انہیں ایل اے-18 پونچھ کے حلقے سے ٹکٹ جاری کیا جہاں ان کا مقابلہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے امیدوار محمد یاسین گلشن سے تھا۔ انہوں نے 24 ہزار 343 ووٹ حاصل کیے جبکہ حریف نے 15 ہزار 769 ووٹ حاصل کیے۔
سردارعبدالقیوم نیازی 33 ووٹوں کے ساتھ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے 13 ویں وزیراعظم منتخب ہوئے تھے۔
متوقع وزیراعظم سردار تنویر الیاس کون ہیں؟
سردار تنویر الیاس انتخابی سیاست میں بالکل نووارد ہیں۔ 2021 میں انہوں نے پہلی مرتبہ عملی سیاست میں قدم رکھا اور ایل اے 15 باغ ون سے کامیاب ہوئے۔
پاکستان تحریک انصاف کی کشمیر میں انتخابی مہم میں وسائل کی فراہمی سمیت ان کے معاشی شعبے میں تجربے کی وجہ سے انہیں کشمیر کی وزارت عظمیٰ کے لیے ایک اہم امیدوار سمجھا جا رہا ہے۔
