روپے کی گرتی قدر، ’ڈالر کی افغانستان سمگلنگ ایک بڑا مسئلہ ہے‘
روپے کی گرتی قدر، ’ڈالر کی افغانستان سمگلنگ ایک بڑا مسئلہ ہے‘
جمعرات 25 اگست 2022 14:03
زین علی، فیاض خان
ملک بوستان کے مطابق درآمدی مصنوعات پر عائد پابندی ہٹانے کے اعلان کے بعد ایک بار پھر سے مارکیٹ میں ڈالر کی مانگ بڑھی ہے۔ (فائل فوٹو: روئٹرز)
پاکستان میں روپے کی قدر میں گراوٹ کا نیا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ انٹر بینک میں ایک ڈالر کی قیمت 213 روپے سے بڑھ کر 219 روپے ہو گئی ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ امپورٹ کی اجازت کے بعد ڈالر کی مانگ بڑھی ہے۔ اس کے علاوہ افغانستان ڈالر سمگل ہونے سمیت متحدہ عرب امارات میں نئی انٹری پالیسی کی وجہ سے بھی ریال، درھم اور ڈالر کی مانگ بڑھی ہے۔
عالمی مالیاتی ادارے سے قسط ملنے اور دوست ممالک کی جانب سے ڈالر آنے کے ساتھ ساتھ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی پر روپے کی قدر میں بہتری ممکن ہے۔
فاریکس ایسوسی ایشن کے صدر ملک بوستان نے اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ ہفتے ملک میں ڈالر کی طلب اور رسد میں واضح فرق دیکھا جا رہا تھا۔ ڈالر فروخت کرنے والے زیادہ تھے جبکہ خریدار کم تھے۔
انہوں نے کہا کہ ’وفاقی وزیر خزانہ کے درآمدی مصنوعات پر عائد پابندی ہٹانے کے اعلان کے بعد ایک بار پھر سے مارکیٹ میں ڈالر کی مانگ بڑھی ہے۔ پھر افغانستان ڈالر کی سمگلنگ بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔‘
ملک بوستان کے مطابق ’ملک میں درآمدی اشیا پر ٹیکس بڑھانے سے افغانستان سے اشیا پاکستان لانے کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ پاکستانی روپے سمیت ڈالر کی سمگلنگ ہو رہی ہے جس کی وجہ سے ملک میں ڈالر کی طلب اور رسد میں فرق دیکھنے میں آ رہا ہے۔‘
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ امپورٹ کی اجازت کے بعد ڈالر کی مانگ بڑھی ہے۔ (فائل فوٹو: روئٹرز)
واضح رہے کہ خیبرپختونخوا کا شہر پشاور پاک افغان بارڈر تورخم کے قریب ہونے کی وجہ سے ڈالر کے کاروبار کا مرکز مانا جاتا ہے۔ ماضی میں روس جنگ ہو یا امریکہ کا افغانستان پر حملہ پشاور میں ڈالر کا کاروبار عروج پر رہا ہے۔ اس کے علاوہ اس صوبے کے زیادہ تر افراد خلیجی ممالک اور یورپی ممالک میں کام کر رہے ہیں اس لیے کرنسی ایکسچینج زیادہ ہوتی ہے۔
ڈالر کی قیمت میں حالیہ اضافے کی وجہ اس کا بیرون ملک سمگل ہونا بتایا جا رہا ہے۔ پشاور میں ہنڈی کا کاروبار کرنے والے ایک شخص نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد ڈالر کابل سے آنا بند ہو گیا ہے۔ اب وہاں کے ڈیلر یہاں سے ڈالر لے جا کر ذخیرہ کر رہے ہیں یا پھر ہنڈی کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔‘
انہوں نے بتایا کہ آج ڈالر کی انٹربنک میں قیمت خرید 219.60 روپے ہے جبکہ یہاں اوپن مارکیٹ میں قیمت خرید 227 روپے چل رہی ہے۔
’قانونی طریقے سے پیسہ بھیجنے کے لیے ضوابط بہت ہیں اس لیے زیادہ تر تارکین وطن ہنڈی کا طریقہ استعمال کرتے ہیں۔ افغانستان کے ساتھ کپڑوں کے کاروبار سمیت دیگر مقامی تجارت ڈالر میں ہو رہی ہے۔ یہ بھی ڈالر کے مارکیٹ سے غائب ہونے کی ایک وجہ ہے۔‘
جنرل سیکریٹری ایکسچینچ کمپینیز آف پاکستان ظفر پراچہ کا بھی ماننا ہے کہ روپے کی گراوٹ کی بنیادی وجہ پاکستان سے افغانستان ڈالر کی سمگلنگ ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’انڈیا افغانستان سے ڈالر خرید رہا ہے تاکہ پاکستان میں ڈالر کی کمی ہو اور روپے پر دباؤ پڑے۔‘
ظفر پراچہ نے وفاقی حکومت اور اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ ڈالر کی سمگلنگ کو روکنے کے ہنگامی بنیادوں پر کام کیا جائے۔
خیبرپختونخوا کا شہر پشاور پاک افغان بارڈر تورخم کے قریب ہونے کی وجہ سے ڈالر کے کاروبار کا مرکز مانا جاتا ہے۔ (فائل فوٹو: روئٹرز)
دوسری جانب کرنسی صراف ایسوسی ایشن پشاور کے صدر ملک عبداللہ کے مطابق ’ڈالر افغانستان نہیں جا رہا ہے کیونکہ افغانستان حکومت کی جانب سے ڈالر پر پابندی ہے۔ وہاں بنک میں ڈالر پڑے ہوئے ہیں ،صرف افغان کرنسی استعمال ہو رہی ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر کے ریٹ میں تھوڑا بہت فرق ہوتا ہے کیونکہ ڈالر کی قیمت مستحکم نہیں نقصان کا خدشہ ہوتا ہے۔
ملک عبداللہ نے مزید بتایا کہ ’بیرون ملک کام کرنے والے پاکستانی بھی اب ڈالر نہیں بھیج رہے ہیں کیونکہ ڈالر کی قیمت بڑھنے کا امکان ہے اور ہر کوئی زیادہ قیمت پر بیچنا چاہتا ہے۔‘
اس حوالے سے جب اردو نیوز نے ایف ائی اے پشاور کے ڈائریکٹر مجاہد اکبر سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ بارڈر پر سامان کی تلاشی اور افراد کی چیکنگ کسٹم حکام کی ذمہ داری ہے۔ شہر میں کرنسی کا غیر قانونی کاروبار کرنے والوں کے خلاف کارروائی کر رہے ہیں، کل بھی کچھ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔
مجاہد اکبر نے کہا کہ حساس اداروں کی انفارمیشن پر مشترکہ کارروائی کی جاتی ہے۔
اردو نیوز نے کسٹم حکام سے ان کا موقف جاننے کے لیے رابطہ کیا مگر ان کا اس حوالے سے موقف سامنے نہیں مل سکا۔
کرنسی ڈیکلیئر کرنے کی پالیسی نافذ
ملک بوستان کا کہنا تھا کہ’پاکستان نے بیرون ملک جانے والے مسافروں کے ساتھ ساتھ ملک میں آنے والے مسافروں کے لیے بھی کرنسی ڈیکلیئر کی پالیسی نافذ کر دی ہے۔ اس سے بیرون ممالک سے آنے والے افراد بھی محتاط ہو گئے ہیں اور ملک میں اس ذریعے سے آنے والی کرنسی کا نظام بھی متاثر ہو گیا ہے۔‘
ظفر پراچہ کا بھی ماننا ہے کہ روپے کی گراوٹ کی بنیادی وجہ پاکستان سے افغانستان ڈالر کی سمگلنگ ہے۔ (فائل فوٹو: روئٹرز)
دوسری جانب جنرل سیکریٹری ایکسچینچ کمپینیز آف پاکستان ظفر پراچہ متحدہ عرب امارات کی نئی پالیسی کو روپے کی گراوٹ یا ڈالر کی عدم دستیابی سے جوڑنے کی بات سے متفق نہیں ہے۔
متحدہ عرب امارات کی پانچ ہزار درھم کے انٹری کو انہوں نے ایک محدود طبقے تک بیان کیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ’سیاحت کی غرض سے یو اے ای جانے والوں کے پانچ ہزار درھم لے جانے سے اتنا فرق نہیں پڑتا کہ روپیہ ایک ہفتے میں انٹر بینک میں 7 روپے اور اوپن مارکیٹ میں 21 روپے گر جائے۔‘
ظفر پراچہ کا کہنا تھا کہ ’روپے کی قدر میں کمی جہاں سمگلنگ کی وجہ سے ہو رہی ہے وہیں امپورٹ کھلنے کے بعد ڈالر کی مانگ میں اضافہ بھی اس کی وجہ ہے۔‘
’دو سے تین مہینوں کا امپورٹ کا لوڈ ہے جو مارکیٹ پر اثر انداز ہو رہا ہے۔ امید ہے جلد ہی عالمی مالیاتی ادارے سے قسط ملے گی اور دوست ممالک سے پیسے آئیں گے جس کے بعد صورتحال بہتر ہونے کے امکانات ہیں۔‘
معاشی ماہر عبدالعظیم کے مطابق روپے کی قدر میں کمی کی اہم وجہ بلوں کی ادائیگی اور امپورٹ پر عائد پابندی ختم ہونا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ روپے کی قدر کو بہتر رکھنے کے لیے ایکسپورٹ بڑھانا لازمی ہے۔ درآمد اور برآمدات میں توازن ہوگا تو ہی ملکی روپیہ بہتر رہ سکے گا۔