پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف جب گزشتہ برس اقتدار میں آئے تو ان پر منی لانڈرنگ، اختیارات کے ناجائز استعمال اور دولت کے ذرائع آمدن سے مطابقت نہ رکھنے کے مقدمات چل رہے تھے۔
یہ مقدمے بیک وقت قومی احتساب بیورو (نیب) اور وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) میں زیر سماعت تھے جب کہ نیب کے دو مقدمات میں ان پر فرد جرم عائد ہونے کے بعد ٹرائل کا آغاز بھی ہو چکا تھا۔
مزید پڑھیں
-
جب تک نواز شریف نہیں آئیں گے،الیکشن میں نہیں جائیں گے: ن لیگNode ID: 773131
-
’پیپلز پارٹی اور ن لیگ، دونوں کے مفاد ایک جیسے ہیں‘Node ID: 773996
صرف یہی نہیں بلکہ ان کے دونوں بیٹے حمزہ شہباز اور سلمان شہباز بھی ان کے ساتھ شریک ملزمان کی فہرست میں شامل تھے۔
جب گزشتہ برس اپریل میں شہباز شریف نے بطور وزیراعظم حلف اٹھایا تو وہ ایک ملزم کی حیثیت سے عدالتوں میں پیش بھی ہوتے رہے۔
اس کے بعد قانون کا پہیہ کچھ ایسا گھوما کہ ان کے خلاف دائر مقدمات کی گرفت کمزور ہونے لگی حتیٰ کہ ایف آئی اے کے 16 ارب روپے کے منی لانڈرنگ کے مقدمے میں وہ اپنے دونوں بیٹوں سمیت بری ہو چکے ہیں۔
مقدمات کی موجودہ صورت حال
وزیراعظم شہباز شریف اور ان کے خاندان کے دیگر افراد جن میں بیٹی اور داماد بھی شامل ہیں، ان پر عمران خان کے دور حکومت میں بنیادی طور پر چار مقدمات بنائے گئے۔
سب سے پہلا مقدمہ آشیانہ ہاؤسنگ سوسائٹی پراجیکٹ میں کرپشن کا تھا۔ اس وقت نیب نے انہیں اپنے دفتر بلا کر گرفتار کیا اور وہ دو سال جیل میں رہے۔
دوسرا مقدمہ رمضان شوگر ملز سے متعلق تھا۔ شہباز شریف پر اور ان کے بیٹوں پر الزام تھا کہ انہوں نے اپنی شوگر ملز کے لیے سرکاری خرچ پر سڑک اور سیوریج سسٹم بنائے۔
تیسرا مقدمے میں نیب نے شہباز شریف پر منی لانڈرنگ اور آمدن سے زائد اثاثے رکھنے کے الزامات عائد کیے۔ یہ وہ مشہور زمانہ مقدمہ تھا جس میں مقصود چپڑاسی نامی شخص کا اکاؤنٹ استعمال ہونے کی خبریں بھی پاکستانی میڈیا کی زینت بنیں۔
چوتھا مقدمہ ایف آئی اے نے بنایا جس میں منی لانڈرنگ اور کرپشن کے الزامات عائد کیے گئے۔

اس مقدمے میں ایف آئی اے کی عدالت نے شہباز شریف اور ان کے دونوں بیٹوں کو باعزت بری کر دیا ہے۔
رمضان شوگر مل کیس نیب عدالت نے نیب قوانین میں تبدیلی کے بعد یہ کہہ کر واپس بھیج دیا کہ اس کیس کو سننے کے لیے عدالت دائرہ اختیار ختم ہو چکا ہے۔
نیب کے آشیانہ اور منی لانڈرنگ دونوں مقدموں میں اس وقت بریت کی درخواستیں دائر ہو چکی ہیں اور نیب نے باضابطہ طور پر اپنے الزام عدالت کے روبرو واپس لے لیے ہیں۔
عدالتی ریکارڈ اور حقائق کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اور ان کے خاندان کے افراد کے خلاف چار مقدمات میں سے ایک واپس ہو چکا ہے۔ ایک میں وہ بری ہو چکے ہیں اور دومقدمات میں بریت کی درخواستوں پر فیصلہ اگلے چند دنوں میں متوقع ہے۔
ایف آئی اے کیس میں بریت کیسے ہوئی؟
وزیراعظم شہباز شریف اور ان کے خاندان کے دیگر افراد کی ایف آئی اے کے مشہور زمانہ منی لانڈرنگ مقدمے سے بریت کی خبر بین الاقوامی میڈیا کی زینت بھی بنی۔
اس مقدمے سے کئی اور خبریں بھی جڑی ہیں جن میں اس مقدمے کو بنانے والے ایف آئی اے کے ڈائریکٹر ڈاکٹر رضوان اور مقدمے کے ایک گواہ اور ملزم مقصود چپڑاسی کی اموات بھی شامل ہیں۔
گزشتہ برس 22 اکتوبر کو ایف آئی اے سینٹرل کورٹ نے شہباز شریف اور ان کے بیٹے حمزہ شہباز کو پراسیکیوشن کی اس رپورٹ پر بری کیا جس میں مقدمے کا کوئی گواہ گواہی دینے کو تیار نہیں تھا۔
اس بریت اور اس سے پہلے تحریک انصاف کے حامی یہ الزام بھی لگاتے رہے کہ یہ سب کچھ دھونس دھاندلی سے کیا جا رہا ہے۔
خود چئیرمین تحریک انصاف عمران خان دبے اور کھلے الفاظ میں یہ الزام میں دہرا چکے ہیں۔ تاہم اس مقدمے کے پراسیکیوٹر فاروق علی باجوہ ان تمام باتوں کی سختی سے تردید کرتے ہیں۔
